Black Rose Episode 1 by Samreen Shah

blacl rose episode 9

Black Rose Episode 1 by Samreen Shah Urdu Romantic Novel Read Here.

جسے پا نہیں سکتے
اسُے سوچ کر ہئ خوش ہونا ،عشق ہے ~
رات کا پہر تھا ،میرے قدم جنگل کی طرف بڑھے اس کانٹوں سے بھرے دلدل والے جنگل میں ایک جمگتا ہوا جگنو میری توجہ کا منتظر تھا جب میری نظر اس پر پڑی اور واقی اس کی روشی نے مجھے اپنی طرف کھینچا میں اس روشنی کی تاقب میں آگئے چلنے لگی لیکن چلتے چلتے میرے پاوں نے ریت کی نرمی محسوس کی ،میں نیچے جھکی لیکن وہ ریت نہیں تھیں ،ریت میں پیر دُنھس تو نہیں جاتے تھے وہ آپ کے جسم کو تو نہیں اپنے اندر کھینچتے میرے بھولے پن نے مجھے بعد میں احساس دلایا یہ ریت ہی ہے لیکن یہ عام ریت نہیں یہ ایک دلدل تھیں ،ایک ریگ رواں جو میرے آدھی ٹانگوں کو اپنی لپیٹ میں لیں چکا تھا ،مجھے پھر ہوش آیا اور چیخے میرے حلق سے نکلنے لگی لیکن اس ویرانے میں کون تھا جو میری چیخوں کو سُنتا یہاں تک کے اب میرا آدھا جسم وہ جھکڑ چکا تھا میرے چیخے مدھم ہونے لگی تب کسی نے میرا بازوں زور سے کھینچا میں نے دندھلائی نظروں سے سے دیکھا لیکن مجھے وہ نظر نہیں آیا حیرت کی بات ہے نا وہ ایک فورس تھی جو مجھے اپنی طرف زور سے کھینچ رہی تھی اس فورس نے مجھے زرا سی بھی تکلیف نہیں پہنچائی
کیا تھا اس فورس میں جو مجھے نظر نہیں آرہی تھی لیکن دل کے قریب بھی لگ رہی تھی میں اسی کو ڈھونڈ رہی تھی جب میں نے نیلا آسمان دیکھا اس نیلے آسمان تلے جب میں نے نیچے دیکھا میرے ہر طرف پھول تھے کالے پھول اور اس بلیک روز کے گارڈن میں میں نے اردگرد دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا سوائے میرے
پھر ایک کالے چمکادر میرے سامنے نظر آیا
اور اتنی تیزی سے آیا اور میں چیخ پڑئ
💀💀💀💀💀💀
میں تیزی سے اُٹھی ،آندھیرے میں مجھے کچھ نہیں نظر آرہا تھا میرا چہرہ پیسنے سے بھر چکا تھا چہرہ کیا بلکہ پورا جسم میرے پسینے سے بھر گیا
پھر اچانک کسی کی آواز اُبھری
“کوئی بُرا خواب دیکھا ہے ۔”
نانو کی نرم آواز نے میری دل کی دھڑکن نارمل رفتار پہ لائی
“آپ کو کیسے پتا چلا !”
میں اپنے ساتھ بیٹھی رات کی تین بجے کے وقت تسبی پڑھتے ہوئے نانو سے پوچھا
نانو نے اپنی سائڈ کا لیمپ آن کیا اور پھر میں نے انھیں مڑ کر دیکھا وہ سفید ڈوپٹے کے ہالے میں ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی اور ان کے چہرے پہ نرم سی مسکراہٹ تھی
“ہمی !! روز تو ایسے کرتئ ہو تو پھر آج کیوں پوچھ رہی ہو !”
نانو نےپیار سے میرا بازو کھینچا میں کسی نھنی بچی کی طرح اپنی نانو کی آغوش میں آگئی تھیں
وہ پیار سے میرے بال سہلا رہی تھی
“ڈرنا چھوڑ دو ہما ! ”
نانو نے آہستگی سے کہا
“میں کہاں ڈرتی ہوں نانو ! ڈر خود بخود آجاتا ہے !”
نانو میری بچکانہ بات پہ ُکھل کر ہنس پڑی
“میری چندا ڈر پہ قابو بھی تو پایا جاتا ہے ۔”
نانو نے میرے بال سہلاتے ہوئے کہا
“کہہ تو آپ صیح رہی ہے ڈر دو قسم کے ہے ایک جو آپ کو فائدہ دیتی ہے اور ایک آپ کو نقصان بس یہ آپ پر ہے کے آپ نے کون سے والے کو خود پہ حاوی کرنا ہے ۔”
نانو ہنس پڑی
“چلو اچھا ہوا سائیکولجسٹ صاحبہ کا دماغ تو کام کیا ورنہ مجھے لگا پتا نہیں کون جھلی میرے ساتھ پندرہ دن تھی ۔”
نانو نے بڑھ کر میری پیشانی پہ پیار کیا
“جس کی ماں اسے چھوڑ کر چلی جائے نا نانو تو وہ جھلا ہی ہوجاتا ہے ۔”
میری نظر سامنے امی کی تصویر پہ گئی
وہ بلکل میری طرح تھی یا میں ان کی طرح تھئ سمجھ نہیں آرہی کیا کہوں
میری اور امی کے رنگت ، نقش ، میں کوئی فرق نہیں تھا
وہی کالی عام سی آنکھیں ، گہرا سانولہ رنگ پہ عام سے ہی نقوش بس میری ناک بابا پہ گئی تھی کھڑی مغرور انھی کی طرح
امی کے بال کالے لمبے کندھوں تک آتے تھے جبکہ میرے شولڈر بوب تھے بابا کی دوسری بیوی بچوں کے سمیت مجھے لڑکا ہی کہتے تھے بچبن میں تو روتی تھی میں لیکن پھر امی مجھے سمجھاتی کے بابا کا کوئی بیٹا نہیں اور تم مضبوط اور نڈر ہو اس لیے تمھاری لڑکوں جیسی ہمت دیکھ کر وہ یہی کہتے ہیں ،امی کی ہر بات پوزیٹو ہوتی کہی بھی ان کی زبان میں نگیٹوٹی نہیں دیکھی امی کا کہنا تھا کے نگیٹو بزدل لوگ ہوتے ہیں ہر وقت فضول سوچنا بھی شیطان کا کام ہے اس کا کام ہے اسے کرنے دیں اس لیے میں نے بھی فضول سوچنا چھوڑ دیا میں بزدل تھوڑی تھی میں تو مما کا بیٹا تھا ان کا سہارہ بابا ان کے ساتھ نہیں ہے تو کیا ہوا میں تو تھیں لیکن امی مجھے اب اکیلے چھوڑ گئی نانو کے پاس انھوں نے مرنے سے پہلے بھی کہا کے میرا بیٹا اب نانو کا سہارہ بنے گا نانو کا خیال رکھے گا اور بابا سے بھی نہیں لڑیں گا ہاں بابا سے میں نے لڑنا شروع کردیا تھا کیونکہ وہ مما کو تنگ کرتے تھے انھیں کہتے کے پاکستان اپنے مما کے ساتھ واپس چلی جاو ان کی بیوی تنگ ہوتی ہے اور میں ان کی بیوی کے اس خواہش پہ تپ جاتی یہ کیسے خواہش ہوئی بھلا
پہلے خواہش تھی کے وہ مما کو ڈائیورس دیں دے مما نے چُپ کر کے مان بھی لی حلانکہ نانو نے اپنی قسم بھی دی تھی لیکن ماما کا دماغ واقی خراب ہوگیا تھا جو کسی کی ایک نہ سُنی بابا نے کہا کے وہ آرام سے ان کے گھر رہ سکتی ہے وہ انھیں پریشان نہیں کریں گئے یہ کہہ تو دیا تھا انھوں نے
لیکن نہ کرنے کے بجائے مزید کرنے لگے بابا نے آصل میں گھر ماما کے نام کیا تھا اور اب اکر کہنے لگے وہ گھر ان کی دوسری بیوی کے نام کردیں ان کی خواہش ہے ماما نے پھر چُپ چاپ کر کے نام کر بھی دیا بابا نے کہا وہ پھر بھی رہ سکتی ہیں ماما مان گئی
کھبی کھبار لگتا کے ماما کوئی روبورٹ ہے جو بابا کہتے ہیں وہ سُن لیتی ہے پھر اس طرح مزید ڈیمانڈ پڑھتی گئی آخر میں جو کچھ میرے نام تھا وہ مانگنے لگے میری امی ڈٹ گئی لیکن یہ ڈٹنا مہنگا پڑ گیا اور بابا نے گھر
چھوڑنے کا کہہ دیا امی چُپ اس لیے تھی کے کلیفورنیا میں رہائش مہنگی تھی وہ چاہتی تھی کے بابا جو خرچہ دیں رہے ہیں اس سے میری پڑھائی اور پرورش ان کے بچوں کے برابر ہی ہو اور واقی ایسا ہی ہوا تھا لیکن شاہد بابا کی بیوی کو میرے اچھے نمبرز ہضم نہیں تھے شروع تک چھوٹی معامولی ڈیمانڈ کرتی لیکن جب سے میرا آڈمیشن سٹنفورڈ میں سائیکولجی کے لیے ہوا تو ان کے دماغ ہی آوٹ ہوگیا حلانکہ میرا آڈمیشن سکولرشپ پہ ہوا تھا لیکن وہ سمجھی سارا خرچہ بابا نے کیا ہے ہنو ! بابا نے جیسے کرنا تھا ،خیر تو ڈیمانڈ پر ممی نے گھر دینے سے انکار کردیا جب تک میری شادی نہیں ہوجاتی لیکن بابا کو ایک بار جب ان کی بیوی کانوں میں بات ڈال دیں وہ شروع ہوجاتی ہے
“ہما! جاو بیٹا وضو کرلو نماز کا وقت ہوگیا ہے ۔”
نانو کی آواز نے میری سوچوں کی داخل اندازی کی ابھی تو ابا کی سو بُرایاں کرنئ تھیں لیکن شاہد اللّٰلہ تعالی بھی نہیں چاہتے کے میں بابا کی شان میں گستاخی کرو ”
“جی نانو ! ”
میں منہ بسورتے ہوئے اُٹھ پڑی
💀💀💀💀💀💀💀
“میرے خیال میں اب شفق نہیں رہی تو اب آپ لوگوں کا یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔”
میں جو اپنی نانو کے لیے سوپ لیکر جارہی تھی ڈراینگ روم میں بابا کی آواز سُنتے ہوئے رُکی یہ کب آئے !
“ہما تمھاری بیٹی ہے ریحان ! اس کا تو سوچو ابھی اس کو ڈگری نہیں ملی ابھی ایک سال ہوا ہے تین سال رہتے ہیں اوپر سے اس کی شادی بھی کرنی ہے ۔”
“وہ سب میں نہیں جانتا آپ پاکستان اپنے گھر کیوں نہیں چلی جاتی اس کی بھی شادی وہاں کروادیں ویسے بھی اتنا لڑکیوں کا پڑھنا اچھا نہیں ہے خراب ہوتی ہے ۔”
اس سے آگئے مجھ سے برداشت نہیں ہوا میں اندر داخل ہوئی
“تعلیم سے لڑکیاں برباد نہیں ہوتی ریحان صاحب ! بلکہ بے جا لاڈ سے خراب ہوتی ہے اور آپ کی بیٹیاں ہوہی ہے میں نہیں ۔”
میں تیزی سے کہتے ہوئے ان کے سامنے آئی
“ہما!”
نانو کی تنبیہ آواز آئی
“یہ تربیت کی ہے شفق نے باپ سے زبان چلائےاور اپنے باپ کو نام سے پکارے ۔”
بابا کی آنکھوں میں سُرخی آگئی جبکہ چہرہ غصے سے لال ہوگیا
“ابھی تو میں نے کچھ نہیں کہا ریحان صاحب
اور انسان اپنی عزت خود کرواتا ہے میری ماں کی تربیت پہ انگلی نہ ہی اُٹھائے تو بہتر ہے ۔”
“ہما! یہ تم کس لہجے میں اپنے بابا سے بات کررہی ہو ۔”
“آپ تو رہنے ہی دیں نانو اور کیوں ان کے سامنے التجا کررہی ہے اتنا سب کچھ کردیا اس شخص نے اور آپ منتوں ترلوں میں لگی ہے امی کی زندگی انھوں نے برباد کردیں یہاں تک کےان کو ختم کردیا۔”
میں نے چیختے ہوئے کہا
بابا تیزی سے اُٹھے
“میرے گھر میں مجھ سے زبان چلا رہی ہو شرم نہیں آتی اور میں نے کب مارا ہے اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا مجھے الزام نہیں دیں سکتی ۔”
بابا بھی میری طرح چیخے
“ہما ! اپنے باپ سے کس لہجے میں بات کررہی ہو سوری بولو !”
نانو غصے سے بولی جبکہ میں ٹرے سامنے رکھتے ہوئے دل میں ایک مضبوط ارادہ بنا کر بولی
“سوری نانو ! لیکن میں انھیں سوری نہیں کہو گی اینڈ فائن ! آپ کو یہ اعتراض ہے نا کے میں آپ کے گھر میں بلکہ اس ملک میں رہ رہی ہوں کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں میں اور نانو اگلے ہفتے پاکستان کے لیے روانہ ہوجائیں گئے اور آپ کو اپنی شکل بھی نہیں دکھائے گئے ۔”
میں کہہ کر تیزی سے بھاگی
.کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کے میرے آنسو کوئی دیکھے کیونکہ لڑکے نہیں روتے اور میں مما کا بیٹا ہو ں

The earth has a music for those who listen
~William Shakespeare
میں کمرئے میں بیٹھی پیکنگ کررہی تھی ساتھ لیپ ٹاپ آن کیے 
امریکن ہارر سٹوری کی asylum بھی دیکھ رہی تھی
مجھے ہارر چیزوں سے اوبزیشن سی تھی گو کے کھبی کھبار ڈر جاتی لیکن پھر مطمن بھی ہوجاتی تھیں کیونکہ نانو میرے ساتھ سوتی ہے اوپر سے ان کا کہنا تھا جو نماز پڑھتا ہے ساتھ میں آیت الکُرسی کا ورد کریں اسے تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اس لیں میں ریلکس انداز میں ڈھیروں ایڈونچر کرتی اب ہارر ناولز اور مویز بھی کسی ایڈونچر سے کم ہے کیا ؟”
ہاں تو میں بڑے امہناک سے سین دیکھ رہی تھی ایک نرس ائی سی یو کے قریب آرہی تھی مجھے پکا لگ رہا تھا کوئی ضرور آگئے ہوگا اُف ایک چیز ہارر فلم میں مجھے بہت بُری لگتی ہے اتنا سلیو موشن اتنی دیر میں تو بھوت بھی اپنا سر پیٹ لیں گا جتنا یہ لوگ آہستہ آہستہ اس جگہ کو پہنچتے ہیں ہاں تو جیسے میں نے سوچا تھا ویسے ہی ہوا لیکن ائپیسوڈ ختم ہوچکی تھیں
میں نے بےزاری سے سے لیپ ٹاپ بند کیا اور پھر پیکنگ میں لگ گئی اب کیا سائیکولجی پاکستان سے کرنی پڑیں گی ورنہ بابا نے جینا حرام کردینا ہے میں جانتی ہوں امی کو بہت دُکھ ہوگا لیکن کیا کرسکتے ہیں اب میرے پاس ایک نانو ہی رہ گئی ہے میں نہیں چاہتی بابا ان کو بھی تنگ کر کے مار دیں وہ ویسے ہی بیٹی کی موت کے بعد بہت سنسیٹو ہوگئی ہے اور نانو کے علاوہ میرا کون ہے فیصلہ مشکل تھا لیکن نانو کے لیے کرنا پڑا امی سے وعدہ جو کیا تھا میں انھیں سوچ میں گُم امی نانو کو سوچ رہی تھی جب مجھے لگا کوئی مجھے دیکھ رہا ہے
میں نے تیزی سے سر اُٹھایا وہاں کوہی نہیں تھا لیکن مجھے ایسا کیوں لگا کے کوئی بہت ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا ہے اُف ہما ! تم بھی کیا سوچنے لگ جاتی ہوں ابھی ہارر سریز دیکھی ہے وہم تو لازمی ہونا تھا میں اپنے سر کو جھٹک کر آخری بیگ کی زپ بند کرنے لگی بس کپڑے اور بُکس ،امی کئ تصویر کے علاوہ اور کچھ نہیں لیے کے جانا تھا ظاہر ہر چیز میرے باپ کی تھیں بیگ کو بیڈ سے اُٹھا کر میں نے سائڈ پہ رکھا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگی سب کچھ سیٹ پاکر میں نے نیچے نانو کے پاس جانے کا سوچا
میں دروازے کے قریب آئی کوئی کالا سایہ میرے پاس سے بڑی ہی تیزی سے گزرا میری چیخ نکلتی نکلتی رہ گئی ایک دم تیزی سے پھیچے ہوئی یہ کیا تھا میں گھوم کر گھر کو دیکھا یہ ائپیسوڈ واقی کچھ زیادہ دماغ میں آثر کر گئی تھی
میں نے تیزی سے جاکر دروازہ کھولا اور گھبڑاہٹ کو مٹانے کے لیے نانو کو آواز دینے لگی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
Nightmares will come pouring out of Hell when the Devil gets desperate.
میں اس آندھیرے کو پار کر کے چل رہی تھیں جب میں ایک جگہ داخل ہوئی جہاں ہر طرف آئینے تھے اس آئینے میں میرا عکس نظر آرہا تھا حیرت کی بات میرے بال شولڈر کے بجائے کافی لمبے تھے اور میری رنگت پہ دمک رہی تھی ساتھ میں میں نے سفید رنگ کا لیس گاون پہنا ہوا تھا ایک پرنسس یا ایک پری لگ رہی تھئ اب یہ جھٹکے والی بات تھیں میں اور اتنی خوبصورت مجھے لگا ایک آئینہ مجھے دھوکہ دیں رہا ہے میں چل کر دوسرے کی طرف بڑھی وہ بھی یہی دکھا رہا تھا سب آئینے مجھے دھوکہ دیں رہے تھے میں نے کنفرم کرنے کے لیے اپنے جسم کو دیکھا تو اس میں میں سفید لیس میں ملبوس نہیں تھی جبکہ آئینے میں تھی دیکھا میں کہہ رہی تھی یہ آئینہ مجھے دھوکہ دیں رہا ہے مجھے یہ جگہ بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی تو میں یہاں سے جانے کا راستہ تلاش کرنے لگی لیکن یہ کیا اب رستہ کہاں گیا میں گھوم کر دیکھنے لگی لیکنُ ہر طرف آئینے کے سوا کچھ نہیں تھا اُف اللّٰلہ کہاں پھنس گئی
میں ایک آئینے کے قریب آئی اسے چھوا تو اس سے مجھے جھٹکا لگا میں ایک دم پھیچے ہوئی
میرے ہاتھوں میں یک دم درد کی لہر اُٹھی میں نے اپنے لب سختی سے بھینچ لیں کے میں چیخوں نا میں نے اپنے ہاتھ کو پکڑا اور زمین پہ بیٹھ گئی اُف اتنا درد کیا تھا اس آئینے میں میں آئی کہاں سے میں رونا نہیں چاہتی تھی لیکن تکلیف سے میری آنکھوں میں آنسو آنے لگے پھر ایک سایہ میرے قریب آیا میں نے تکلیف سے سر اُٹھایا وہاں کوئی نہیں تھا لیکن آئینے میں مجھے نظر آرہا تھا
وہ بلیو جینز اور سفید شرٹ میں ملبوس تھا اس کی پُشت ہی نظر آئی وہ میرے قریب ہی تھا بہت قریب میں ایک طرف بیٹھی اپنے ہاتھ کو پکڑیں آنسو سے بھری آنکھوں سے اس کو دیکھنے کی کوشش کررہی تھی پھر آئینے سے نظر ہٹا کر اپنے آس پاس دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا پہلے یہاں سایہ تو تھا وہ کہاں گیا پھر اچانک میں نے اس کی آواز سُنی
“شش ! مائی ایجنلُ!”
میں ڈر کر تیزی سے اُٹھی یہ آواز تھیں تو بڑی خوبصورت آواز لیکن میرا جسم ناجانے کیوں کانپ اُٹھا تھا یہ آخر کون تھا جو مجھے پندرہ دن سے چھیڑ رہا تھا
“ہما! رُک جاو یہ بہت خطرناک آئینے ہیں !”
اس کی نرم آواز میں بے اختیار اُٹھی اور میں نے آئینے میں اس بلیو جینز گائی کو دیکھا وہ میرے فیورٹ گانے کی طرح تھا
“آگ کا شعلہ لیکن روح کی ٹھنڈک ۔
سپارک جس کی نیلی آنکھوں سے ہی روشنی پھوٹ کر میرے اندر زندگی بھر رہی تھی اس کو دیکھ کر بندہ جم کر ہی رہ جائیں یا پھر وہی بیٹھ کر ساری زندگی اس کا جائزہ لیتا رہے اور اس شخص کو میرا نام کیسے پتا ۔”
اس کو دیکھنے سے میں اپنا درد ہی بھلا بیٹھی تھی آئینے میں وہ بلکل میرے قریب آرہا تھا اتنے قریب کے مجھے ڈر تھا ڈر پتا نہیں کیسا ڈر وہ دیکھنے میں تو کتنا پیارا لگ رہا تھا کیا وہ مجھے نقصان دیں گا
وہ جیسے میرے قریب آرہا تھا کے میری آنکھوں میں آندھیرا چھا گیا اور میرا بلیو جینز گائی کہی غائب ہوگیا
💀💀💀💀💀💀
میں آج پھر خواب سے اُٹھی آج اس خواب میں
میں نے وہ سایہ دیکھ لیا تھا وہ سیاہ بلیو جینز والا تھا
جس نے میرا نام پکارا تھا وہ مجھے بچا رہا تھا یا کوئی نقصان کرنے والا تھا میں یہ سمجھنے سے قاصر تھئ میں نے چہرہ موڑ کر دیکھا نانو بستر میں ہی موجود تھی اور سو رہی تھی مطلب ابھی تہجد کا وقت نہیں ہوا تھا میں ان کو دیکھتے ہی آہستہ سے اُٹھی کمرہ ضرورت سے زیادہ ہی گرم تھا اور مجھے پیسنہ بھی خوب آرہا تھا سلپرز پہن کر میں واش روم کی طرف بڑھی
نکلنے لگا میں ابھی تک اسے بلیو جینز والے کو سوچ رہی تھی مجھے وہ نظر آیا بھی تھا اور نہیں بھی لیکن جیسے وہ قریب آرہا تھا مجھے اس کے عکس کا دُنھدلاپن کم ہوتا محسوس ہورہا تھا آُف میں کیسی گہری باتیں کررہی ہوں جس سے میں خود بھی کنفیوزڈ ہورہی ہوں میں نے منہ پر چھینٹے مارنے کے بجائے ٹیپ بند کردیا اور آئینے کو زرا بھی نہیں دیکھا
“رُک جاو ہما ! یہ آئینہ خطرناک ہے ۔”
اس کی نرماہٹ ذدہ آواز میری کانوں میں اب بھی گونج رہی تھی سر جھٹک کر میں کمرے میں آئی دیکھا تو نانو نے کروٹ بدلی تھی میں انھیں دیکھتی رہی پھر میری نظر ماما کی تصویر پہ پڑی انھیں دیکھ کر میرے دماغ میں کچھ آیا میں بڑی ہی آہستہ دبے قدموں سے کمرے سے نکلی اور آہستگی سے دروازہ بند کیا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
میرے قدم قبرستان کی طرف بڑھے ، میں نے اپنی ہوڈی
کو اپنے سر پہ لیکر گئی اور تیز تیز قدم اُٹھانے لگی
نانو کو اگر پتا چلتا میں رات کے وقت گئی ہوئی ہوں تو انھوں نے تو مجھے جان سے مار دینا تھا جتنی بھی نرم میری نانو ہے اُتنی ہی غصے والی بنے میں وقت نہیں لگتا
جوہی قبرستان کے قریب پہنچی مجھے لگا میرے دل میں ڈر آئے گا لیکن میرا دل بلکل خالی سا محسوس ہورہا تھا صبح مجھے اس ملک کو چھوڑ دینا تھا اور امی سے بھی دور ہوجانا تھا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
ہم اس وقت ایرپورٹ پہ بیٹھے ہوئے تھے نانو نے ابھی ایرپورٹ والوں کے ساتھ صحیح بعث لگا چکی تھی وجہ یہ تھی ہماری فلائٹ چار گھنٹے ڈیلے ہوگئی تھیں اور نانو کا غصے کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
“بتاو بھلا صبح ہی صبح آنا پڑا میری ابھی نفل رہتے تھے اسے بھی اسے موئے فلائٹ کی خاطر چھوڑنے پڑے
اب ہم چار گھنٹے بیٹھ کر کیا کریں گئے ۔”
نانو غصے سے کہتے ہوئے بیگ سے اپنی تسبی نکالتے ہوئے بولی میں سٹیفن کنگ کا ناول پکڑے ایک نظر نانو کو دیکھا اور مسکرا پڑی
“کوئی نہیں نانو دیکھیں کتنی شاپس ہیں اگر آپ نے کوئی دیکھنی ہے تم میں لیں جاوں آپ کو !”
میں نے صفحہ پلٹتے ہوئے کہا
“مجھے کہی نہیں جانا اور لڑکی کہی تو چھوڑ دیا کرو کتابوں کو کھبی اللّٰلہ اللّٰلہ بھی کرلیا کرو ۔”
میں نے ہلکی سی گھوری اپنی نانو کو نوازی
“کیا مطلب نانو پانچ وقت کی نمازی ہوں پھر بھی آپ ناخوش ہی رہے گا ۔”
“صرف نمازوں سے کچھ نہیں ہوتا چندا اللّٰلہ کی ذات کو ہروقت یاد کرنا چاہئیے بیشک ہمارے پاس سب کچھ کیوں نہ ہوں لیکن اس کی ہر ایک ایک نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔”
نانو نے اب کی بار نرمی سے کہا ویسے ان کی استفغار کی تسبی ویسے کمال کی ہے ایک دم ہی ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیتی ہے خیر میں نے آگئے سے کچھ نہیں کہا بس سر اثبات میں ہلا کر پڑھنے لگی اس کی سٹوری تھی بڑی ہی دلچسپ اس کو پڑھتے پڑھتے انسان دوسری دُنیا میں چلا جاتا ہے یہ کہانی بھی بڑی ہی دلچسپ تھیں اس میں انسان لگتا اسی ہی دُنیا کا ہوجاتا میں بھی اس دُنیا میں چلی گئی یہ ایک سادے سے کوٹیج کا منظر تھا جہاں اندھیرے کے بجائے دوپہر کی روشنی تھیں میرے قدم اس کوٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے میں نے اردگرد دیکھا دیکھنے میں تو بالکل شاندار اور خوبصورت سمر ہاوس لگ رہا تھا میں دروازے کے قریب آئی جہاں گھر کے ساتھ ایک جھولا لگا ہوا تھا جوہی میں نے دروازے کی ہینڈل کو پکڑا ہی تھا تبھی جھولا تیزی سے جھولنے لگا میں نے ایک دم چہرہ موڑ کر دیکھا تو وہ بلکل سٹل تھا میرا وہم ہوگا میں نے اپنا سر جھٹکا اور دروازے کے ہینڈل کو پھر پکارا اور کھولا
اندر تیز روشنی نے میری آنکھوں میں چُبن ہونے لگی
کے میں ایک دم ہوش کی دُنیا میں آئی جب نانو کی آواز پہ چونکئ اور بُک میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی
میں نے نانو کو دیکھا جو تیزے سے انگریزی میں سکیورٹی سے بات کررہی تھی وجہ مجھے نہیں سمجھ میں آئی میں سر جھٹک کر کتاب پہ متوجہ ہوئی لیکن یہ کیا میری بُک کدھر ہے ؟ میں نے نیچے جھک کر دیکھا وہاں بھی نہیں تھیں
“بیڑا غرق کریں امریکا والوں کا جب سے یہ ڈونلڈ ٹرمپ آیا ہے سُکھ ہی چھین لیا ہے ہمارا ۔”
نانو کی آواز سُنتے ہوئے میں بنا جواب دیں تیزی سے اُٹھی
اور اردگرد دیکھنے لگی میرے اس طرح چہرے پہ پریشانی سے ڈھونڈتے ہوئے نانو نے مجھے دیکھا تو بولنے لگی
“کیا ہوا کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟”
“نانو میری بُک ! ”
“ایک تو توبہ لڑکی ابھی بھی تم پڑھ رہی تھی دھیان کہاں ہوتا ہے تمھارا !”
میں نے اپنا بیگ اُٹھایا اور تقریباً اپنا منہ گھُسا کر ڈھونڈنے لگی آخر وہ گئیں کہاں
بلا آخر اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد میں تھک ہار کر چیر پہ بیٹھ گئی اپنا سر تھام لیا وہ میری فیورٹ بُک تھی اور اتنی مہنگی تھی پورے پوکٹ منی اس پہ خرچ کیے تھے مما سے بھی ڈانٹ پڑی تھی مما کی ڈیٹھ کے بعد تو پڑھی ہی نہیں اور جب پڑھنے کا وقت ملا تو غائب
“اب منہ نہ لٹکائے بیٹھی رہنا کوئی بات نہیں دوسری لے لینا ۔”
“نانو وہ فیوٹی ڈالرز کی بُک تھی !”
میں نے انھیں صدمے سے دیکھتے ہوئے کہا
“جانتی ہوں میں اب بھگتو پھر تمھاری ماں کو پتا تھا تم چیزیں سنبھال کے نہیں رکھتی اس لیے تو ڈانٹا تھا تمھیں ۔”
“پر نانو اس کی سٹوری اتنی ریل تھی ۔”
میں بس اتنا سا کہہ کر پھر اردگرد دیکھنے لگی شاہد اِدھر ہی ہو کچھ سوچتے ہوئے میں اُٹھی
“اب کدھر !”
نانو نے سر اُٹھا کے دیکھا
“ایسی ہی شاپس کا چکر ۔”
اگر انھیں کہتی کے میں بُک ڈھونڈنے جارہی ہوں پہلے تو وہ مجھے ڈانٹتی پھر جھاڑ پلا کر اپنے پاس زبردستی بیٹھاتی
“کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹھو میرے ساتھ ۔”
نانو نے لگتا ہے میری سوچ پڑھ لی تھی اس لیے انھوں نے مجھے کہا
“نانو اب میں تین چار گھنٹے ایسے تو نہیں بیٹھ سکتی ۔”
میں نے ریزنگ دیں
“میں بھی تو بیٹھی ہوں ۔”
“اب کی بات اور ہے ۔”
“ٹھیک ہے پھر جاو !”
میں مسکراہٹ دبا کر آگئے بڑھ گئی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
میں نے اپنے ہیڈ فون اتارے اور آخری بیگ اُٹھایا اور ٹرالی پہ رکھ کر نانو کو دیکھا جو اپنے بیگ سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی
“کیا ڈھونڈ رہی ہے نانو ۔”
نانو نے سر اُٹھایا نہ ہی کوئی جواب دیا
میں ان کا انتظار کرنے لگی کے وہ جب آگئے چلے گی تو میں چلوں گی اس لیے بازو ٹرالی کی ہینڈل کے ساتھ رکھ کر میں بیگز پہ نظر رکھی نانو نے اپنا پاسپورٹ نکالا اور بولی “چلو !”
“ویسے نانو کیا مری میں بھی امریکا جتنی ٹھنڈ ہے ۔”
میں دلچسپی سے نانو کو دیکھتے ہوئے بولی
“ہاں امریکا میں تو دو ہی موسم ہے یا تو شدید سردی یا شدید گرمی یہاں پاکستان میں ہر قسم کے موسم پائے جاتیں ہیں ہر جگہ کی بات ہی الگ ہے اور ہمی ! اگر تم میرا گھر دیکھو گی نا تو پھر تم امریکا کو بھی بھول جاو گی ۔”
نانو اپنے گھر کے ڈیٹیلز بتانے لگی اور میں ساتھ ٹرالی گھسیٹے دلچسپی سے اُنھیں سُن رہی تھی جب مجھے ایک بار پھر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی میں نے مڑ کر دیکھا وہاں کوئی بھی مجھے نہیں دیکھ رہی تھا اُف لگتا ہے میں مما کی ڈیتھ کے بعد ٹروما میں چلی گئی ہوں لگتا ہے کچھ دن تو ناولز اور فلمز کو فل حال چھوڑنا پڑیں گا ۔سارے کام نپٹا کر ہم بلا آخر ائیر پورٹ سے باہر نکلے اور نانو نے ائیرپورٹ کے گاڑی لینے کے بجائے فون سے اُبر ہی منگوائی باہر بھی وہ ایسے ہی کرتی تھی میں تو بہت کم جایا کرتی تھی کیونکہ میری پاس اپنی سائیکل تھی اگر بارش ہوتی تو کھبی کھبار بس کا استمعال کرتی تو ہاں نانو نے کار منگوائی اور مجھے پارکنگ والی سائڈ پہ چلنے کو کہا میں سر ہلاتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑی اچانک میری ٹرالی اٹک گئی میں اسے گھسیٹنے لگی لیکن وہ پھر بیج میں رُک جائیں جھنجلا کر زور سے پُش کیا وہ جھٹکا کھا کر آگئے گیا میں اسے پکڑنے کے لیے بھاگی نانو نے مڑ کر مجھے دیکھا اور مجھے پکارا اور میں نے تیزی سے بھاگتے ہوئے پکڑا اس کو پکڑ کر میں نے دیکھا میرا ایک بیگ دور جاکر گرا تھا میں نے اسے ایک سائڈ پہ کھڑی کر کے بیگ کی طرف بڑھی اور بیگ اُٹھانے لگی جب ایک کار میرے سامنے تیزی سے آئی میرا چہرہ سفید ہوگیا لیکن کسی نے میرا بازو سختی سے پکڑا اور مجھے کھینچا میرا پیر پھسلا اور میں گرنے لگی جب اس نے میرا دوسرا بازو پکڑا میں نے آنکھیں سختی سے بند کر کے لمبے لمبے سانس لینے لگی اُف اللّٰلہ کا شُکر جان بچ گئی میری اور جب میں نے آنکھیں کھولی میں ایک دم سٹل ہوگئی واٹ اندا ورلڈ یہ کیسے ہوسکتا ہے
یہ تو بلیو جینز والا تھا
💀💀💀💀💀💀💀💀
اس پہلے میں اسے غور کرتی یا اس کا جائزہ لیتی وہ چل پڑا ، میں نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو نانو بھاگتے ہوئے آئی اور میرا چہرہ موڑ کر اپنے ساتھ لگایا
“اگر تمھیں کچھ ہوجاتا ہما! ۔”
نانو کا لہجہ بھرا گیا اور وہ مجھے اپنے ساتھ لپٹائے پیار کرنے لگی میری توجہ اس کے بجائے نانو کے کانپتے وجود پہ آئی نانو بہت بہادر تھی وہ ممی کی ڈیتھ کے بعد بھی نہیں روئی لیکن ان کا آخری سہارہ اور مما کی آخری نیشانی میں ہی تھی اگر وہ مجھے کھو دیتی تو ان کا کیا ہوتا لیکن وہ کیا تھا کیا وہی تھا جو میرے خواب میں آیا تھا اُف یا آخر ہو کیا رہا ہے ؟
“میں تمھارا صدقہ اتارتئ اللّٰلہ نے میری بچی بچا لی ۔”
نانو میرے سے الگ ہوتے ہوئے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی میں مسکرا کر نانو کے گرد بازو حمائل کر کے جھک کر بیگ اُٹھایا
“چلو نانو مجھے اندازہ ہوا آپ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے اب تو مجھے ڈانٹی گی تو نہیں ۔”
نانو نے مجھے گھورا اور میں ہنستے ہوئے انھیں پیار کرنے لگی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
میں سفر میں اتنی تھکی ہوئی تھی کے میں نے مری دیکھا ہی نہیں اُف مجھے اپنے سونے پہ اتنا غصہ آیا لیکن جب دروازہ کھول کر باہر نکلی تو ایک منٹ کے لیے ٹہر گئی واو آئی مین یہ کوئی ونڈر لینڈ سے کم نہیں تھا میں نے آج تک اتنا امیزنگ ہل سٹیشن نہیں دیکھا تھا پتا نہیں باہر کے اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگئے لیکن اِدھر میری ماما کا بچپن گزرا تھا وہ بڑی ہوئی تھی ان کی شادی ہوئی تھی مجھے ابھی بھی مما کی خوشبو محسوس ہورہی تھی کچھ لوگوں کو بیشک عجیب لگ رہا ہوگا لیکن کیا کرو اپنی ماں کی دیوانی ہوں
“ہما اب اندر بھی آجاو !”
نانو نے دروازے پہ پہنچ کر مجھے کہا میں اسے دلکش نظارے کو اپنے اندر سموئے لمبی سانس کھینچ کر اپنی ہوڈی کے جیب میں ہاتھ ڈالے مڑ پڑی
ہاں لگتا ہے زندگی میں بہت کچھ ہونے لگا جو پہلے کھبی نہیں ہوا اب ہوگا پتا نہیں بس مجھے لگ رہا ہے
💀💀💀💀💀💀💀💀
گھر کے اندر داخل ہوتے ہی میں نے اردگرد کا جائزہ لیا
یہ باہر سے جتنا بڑا لگ رہا تھا اندر سے اُتنا ہی چھوٹا تھا یہاں زیادہ جگہ نہیں تھی کیونکہ میں جیسے لیفٹ ہوئی تھی کچھ آدمی ہمارا وہاں سامان رکھ رہے تھے اس لیے وہاں سے مڑ کر واپس سیدھا جانے لگا اوپر کی سڑھیاں نظر آئی اس کے ساتھ دو چھوٹے صوفے جن کے اوپر کپڑا پڑا ہوا تھا نانو نے اپنا بیگ سائڈ ٹیبل پہ رکھ کر کپڑے کو کھینچا جس سے دھول اور مٹی اوڑھی اور وہ بے اختیار کھانسنے لگی میں نے اپنی مسکراہٹ دبائی اور آگئے بڑھی
“آپ ہٹ جائے میں کردیتی ہوں نانو ۔”
“نہیں دو ہی صوفے ہیں تم ایسا کرو پردے ہٹادو پھیچے لان کا بہت خوبصورت نظارہ نظر آتا ہے ۔”
نانو نے دوسرا کپڑا کھینچا اب میں کھانسنے لگی اور منہ پہ ہاتھ رکھا پھر ہٹا کر بولی
“رئیلی نانو ! ”
“ہاں میں اور تمھارے نانا ہمیشہ پردے ہٹا کر کافئ پیا کرتے تھے ۔”
میں نے جاکر پردہ ہٹایا اور میرے منہ سے ایک بار پھر واو نکلا واقی میں کسی جنت میں آگئی تھی یہاں چھوٹے سے بیک یارڈ کے ہر قسم کے پھولوں سے بھرا ہوا تھا بیج میں چھوٹا سا میڈیم سائز فوارہ تھا جو ابھی بند تھا لیکن دیکھنے میں تو بڑا صاف ستھرا لگ رہا تھا گھاس بھی کٹی ہوئی تھی مطلب صحیح کش پش لان تھا جس میں چھوٹے چھوٹے گرین لائٹس نظر آرہی تھی وہ جگنو تھی ٹوٹلی چھوٹی سے فیری لینڈ ویسے ایک بات ہے گھر کا تو خیال نہیں رکھا گیا کیونکہ ابھی اِدھر سے دھول مٹی نکلی لیکن پھیچے کے لان کا رکھا گیا یہ بڑی عجیب سی بات ہے
“نانو !”
“ہمم !”
“آپ نے کسی بیک یارڈ کا خیال کرنے والا رکھا تھا ۔”
“نہیں تو !”
“تو یہ دیکھیں یہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے ۔”
نانو میرے سامنے آئی انھوں نے دیکھا پھر مجھے
“یہ ویران سا تمھیں خوبصورت لگ رہا ہے ۔”
میں نانو کی بات پہ حیران ہوئی “یہ آپ کو ویران لگ رہا ہے یہ کتنا خوبصورت ہے ایسا لگتا ہے کے کوئی چوبیس گھنٹے سے اس جگہ کا خیال رکھتا رہا ہے اس میں اس کی لگن اور محبت دکھ رہی ہے ۔
میں نے انھیں اشارہ کیا جو ابھی بھی میری آنکھوں کی چمک بڑھا رہا تھا
“مجھے تو کافی سارے گھاس اور جھاڑیاں کے علاوہ کچھ نہیں نظر آرہا ہے تم بھی نا اپنی نانا کی زبان میں بات کرتی ہو بیکار سی چیزوں کو بھی شاعرانہ انداز میں بیان کرنے لگتی ہو۔”
میں منہ کھولے نانو کو حیرت سے دیکھ رہی تھی کھبی اس دلکش ترین لان کو اُف میں سائیکولجسٹ بن تو رہی ہوں لیکن لگ رہا ہے سائیکٹریسٹ کی ضرورت پڑ نہ جائے
میں پردے کو ایسے ہی چھوڑ کر نانو کئ طرف بڑھی اب جو سامان لائی تھی اسے تو سیٹ کرنا تھا اوپر سے مجھے اب شدید بھوک لگ رہی تھی مطلب شدید ترین
💀💀💀💀💀
نانو کا ارادہ تھا وہ اپنے کمرے میں سوئے جو ایک سائڈ پہ ہی تھا اور تھا بھی خاصا چھوٹا سا لیکن میں ماما کے کمرے میں سونا چاہتئ تھی کیونکہ ان کی جو کھڑکھی تھی وہ پیچھے کی لان کے نظارے کے ساتھ بہت سے ہلز درخت سے بھرے نظر آتے تھے ایک اور بات تھی چھوٹی سی بالکنی بھی تھی جس کے ساتھ ایک درخت لگا ہوا تھا لیکن نانو کے وہم خبرادر رات کے وقت بیٹھی جن حاضر ہوجائے گئےاور وہ بھی عاشق ہوجائے گئے ایسا بھی کھبی ہوتا ہے بھلا جن آج کل کے دور میں بھی ہو اور میرے پہ انسان عاشق نہیں ہوئے جن ہوگئے بھلا ؟
نانو تو سونے چلی گئی جبکہ میں ایسی صوفے پہ بیٹھی رہی،ہاتھ میں کافی لیں سوچ میں گُم ہوگئی زندگی نے مجھے کہاں سے کہاں لیکر جانا تھا امریکہ سے پاکستان میں ماما سے بارہ ہزار کلو میٹر دور ہوگئی کیا میں نے صحیح کیا یہاں آکر پتا نہیں افسوس جیسے فیلنگز تو نہیں تھی بس ایک عجیب سی بے چینی تھی اور اس بے چینی کو میں سمجھنے سے کاثر تھی
میں اتنی سوچ میں گُم تھی کے اچانک سرد ہوائوں نے میری گردن کے بال کو کھڑا کردیا میں ایک دم کانپ اُٹھی یہ ہوا کہاں سے آئی مڑ کر دیکھا کھڑکھی لائونج کی کھلی ہوئی یہ کب کھلی ؟ آخر یہ ہوکیا رہا ہے سر جھٹک کر اُٹھی اور کھڑکھی کو بند کرنے کے لیں اُٹھی لان ابھی بھی میرے نظر کو روشنی سے بھر رہا تھا پتا نہیں نانو کو کیوں نہیں نظر آرہا تھا لگتا ہے ان کی نظر کمزور ہوگئی ہے یا پھر ان کا دل اتنا ویران ہوگیا ہے کے انھیں خوبصورت شہہ بھی آندھیرے سے بھری لگتی ہے لیکن نانو کے دل میں آندھیر کیسی ہوسکتی ہے ان کا دل تو اللّٰلہ کی یاد میں رہتا ہے اور جو شخص دل سے اللّٰلہ کو یاد کرتا ہے تو اس کا دل ویران کیسے ہوسکتا ہے ۔
اچانک ایک جگنو میرے قریب آیا میرے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ آگئی میں اس کو چھونے لگی کے وہ دور جانے کے بجائے میرے قریب آگیا جیسے وہ میرا منتظر تھا میں نے اپنی ایک انگلی آگئے کی اور وہ میری انگلی پہ جا بیٹھا یہ کیسے ہوسکتا ہے میں خوشی سے جھوم اُٹھی کچھ سوچتے ہوئے اپنی پینٹ کی بیک پوکٹ سے میں موبائل اُٹھا کر سنیپ لو موبائل نکلا اور اپنی انگلی کے قریب لیکر گئی لیکن یہ کیا جگنو نظر نہیں آرہا تھا میں نے کنفرم کرنے کے لیں دوبارہ انگلیوں میں دیکھا وہاں تو وہ بیٹھا ہوا تھا پھر دوبارہ کیمرہ اس پر لیکر گیا اب اچانک مجھے عجیب سی گڑبڑ محسوس ہوئی میں سیدھا کیمرہ لان کی طرف لیکر جانے لگی کے اچانک میرا فون ڈیڈ ہوگیا” واٹ دا ہیل ! “میں نے تیزی سے کہا ابھی تو چارج کیا تھا اُف یہ آئی فونز زندگی عزاب مچا کر رکھ دیتی ہے جنجھلا کر میں نے فون اپنی جیب میں واپس رکھا اور سویٹر کے بازو اپنے ہاتھوں تک لیکر میں نے دو منٹ کے لیں لان کو دیکھا اور پھر سر جھٹک کر کھڑکھی بند کر کے چل پڑی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
ماما کا کمرہ چھوٹا سا تھا لیکن ماما نے بہت مینٹن کر کے رکھا تھا چھوٹا سا راڈ کا بیڈ کے ساتھ دو سائڈ ٹیبل اور ایک الماری کے ساتھ ساتھ سے ڈیسک جس میں وہ پڑھا کرتی تھی ٹی پنک کے کمبنیشن کا کمرہ مجھے ماما کی یاد دلاتا تھا ماما سے پوچھتی کے وہ ان کا فیورٹ کلر ہے تو وہ ہمیشہ سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہہ دیتی یہ میرا فیورٹ کلر نہیں ہے یہ کسی سپیشل انسان کا ہے اور یہ سپیشل انسان مسڑی رہا کیونکہ آج تک مجھے یہ سپیشل انسان پتا ہی نہیں چلا نہ کیں نے پتا کرنے کی کوشش کی نہ ماما نے مجھے کھبی بتایا
گرم گرم بستر سے اُٹھنے کا دل نہیں کررہا تھا مجھے لیکن خیر اُٹھنے تھا نماز تو ہرگز چھوڑنی نہیں تھی لیکن وضو میرے لیں اتنی ٹھنڈ میں کرنا اتنا مشکل ہوجاتا نانو کو بتایا بھی تھا تو کہتی تھی کے حضرت علی کا کہنا کے انھیں دنیا میں سردی کا وضو اور گرمی کے روزے بے حد پسند تھے اور پھر جو بات نانو نے منہ سے نکالی وہ کیسے ٹالا جا سکتا ہے سو بڑی ہی مشکلوں سے اُٹھی اور وضو کے لیں واش روم کی طرف بڑھی آج حیرت کی بات ہے میرے خواب میں وہ بلیو جینز والا نہیں نظر آیا توبہ ہے ہما تم نے تو اس کا نام بلیو جینز والا ہی رکھ دیا خود سے کہتے ہوئے ہنس پڑی وضو کر کے باہر آئی تو مجھے حیرت کے طور پر مجھے اتنی ٹھنڈ نہیں لگی چلوں اچھا ہے نانو کہہ رہی تھی کے جائے نماز الماری کے نیچے پڑی ہوئی ہے حالانکہ اس کی بھی ضرورت نہیں تھی میرے بیگ میں پڑی ہوئی تھی بیگ سے لمبی سے چادر نکال کر میں نے اپنے گرد لپیٹی اور الماری کی طرف بڑھئ اور جیسے ہی الماری کھولی میرا منہ حیرت سے کھل گیا یہ کیا واقی ماما کی الماری ہے بڑے بڑے پوسڑ لگے ہوئے تھے اور وہ بھی مائیکل جیکسن کے ماما کو کیا مائیکل جیکسن پسند تھا یہ میرے لیں قابل شاکڈ کی بات ہے کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے ماما کو تو زہر لگتا تھا پلاسٹک کی منہ والا اور یہاں تو ان صاحب کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں ۔
میں نے جائے نماز نکال کر الماری کو بند کیا اور مڑی کر نانو سے پوچھنے کا ارادہ کر کے جائے نماز بچھانے لگی اور نیت باندھ لی
💀💀💀💀💀💀
“تمھاری اصل ہستی تو تمھاری سوچ ہے باقی تو صرف ہڈیاں اور خالی گوشت ہیں ۔”~رومی
میں نیچے آئی تو مجھے کھٹ پھٹ کی آوازیں آرہی تھئ امریکہ میں تو ایسا لگتا کسی میوزم یا لائبریری آگئے ہو ایک خاموشی تھی وہاں خاموشی دو قسم کی ہوتی ہے روح کو سکون بخشنے والی اور روح کو کانپ دینے والی میرے لیں دونوں ہی تھیں کتابیں پڑھتے وقت سکون بخش اور سوچتے ہوئے خطرناک سڑھیوں سے اُتر کر میں کچن کی طرف بڑھی نانو ناشتے بنا رہی تھی ساتھ میں کسی سے بات کررہی تھی اور وہ تھی ایک پیاری سی سولہ سال کی بچی دیکھنے میں تو کوئی فارنر لگ رہی تھی لیکن لباس اور بولنے کا انداز یہاں کا معلوم ہورہا تھا وہ بچی مڑی اور مسکرائی میں بھی مسکرا پڑی اور میں نے اسے سلام کیا اس نے بھی جواب میں مجھے سلامتی بھیجی اور اس کی آواز ہاو کیوٹ ! چھوٹی سی بچوں جیسی آواز نانو مڑی اور مجھے دیکھا
“اُٹھ گئی ! نیند کیسی رہی ڈر کر اُٹھ تو نہیں گئی ؟”
توبہ ایک تو نانو کو ڈیٹیل سے ضرور پوچھنا تھا اب بچی کے سامنے تھوڑا ہی اچھا لگے گا کے میں رات کو سوتے ہوئے اُٹھ جاتی ہوں وہ بھی ڈر کر
“نہیں نانو آرام سے سو گئی تھی ۔”
“چار دفعہ آیت الکرسی پڑھی ہوگی تبھی آرام سے سوگئی چلو اچھا ہے نماز کے لیں بھی ٹائیم سے اُٹھ گئی تھیں ۔”
میں چھوٹے سے کچن کے چھوٹے سے ٹیبل کی کُرسی پہ بیٹھ گئی اور مسکرا کر نانو کو دیکھا اور اس لڑکی کو وہ بھی شرمیلی انداز سے مسکرا پڑی
“جی نانو پڑھ لی تھی وقت پر نام کیا ہے آپ کا ؟”
میں نے نانو کو جواب دیں کر لڑکی سے پوچھا
“غالیا !”
وہ آہستہ سے بولی
اس کا نام کافی یونیق لگا مجھے کیونکہ میں نے آج تک نہیں سُنا
“ہاں ہما یہ غالیا ہے تمھاری ماما کی دوست تھیں نا غزل اس کی بیٹی ہے ۔”
نانو نے پلیٹ میرے سامنے رکھی سامنے جوس کا ڈبہ اُٹھایا اور اس سے بولی
“آو بیٹھو اچھا ! تو یہ غزل آنٹی کی بیٹی ہے تبھی کہو اتنی پیاری کیوں ہے ۔”
غالیا میرے جواب پر بلش کر گئی
“تھینک یو آپی !”
“تو کیسی ہے آپ کی ماما کدھر ہے وہ آئی نہیں ۔”
میں نے پینٹ بٹر اُٹھایا اور اپنے ٹوسٹ پر لگاتے ہوئے بولی ایک دم خاموشی چھا گئی جو مجھے بہت محسوس ہوئی اور میں نے سر اُٹھا کر دیکھا غالیا کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی میرے دل کو کچھ ہوا کیا اس کی بھی میری طرح مما نہیں ہے
“امی کا تین سال پہلے اکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور ان کی دونوں ٹانگیں نہیں رہی وہ گھر پہ ہوتی ہیں ۔”
او تو وہ زندہ ہے لیکن پیرالایز ہیں مجھے بہت دُکھ ہوا یہ ماوں کی زندگیوں میں اتنے دُکھ کیوں ہوتے ہیں
“اِدھر آو !”
میں نے ہاتھ آگئے کر کے اشارہ کیا پہلے تو وہ مجھے دیکھتی رہی پھر اپنی نمی صاف کرتے ہوئے آگئے بڑھی میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پاس پڑئ کُرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا
وہ بیٹھ گئی تو میں نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا بلکہ پکڑیں رکھا اور لہجے میں بشاشت لاتے ہوئے بولی
“نانو آپ نے اس گڑیا کی کوئی خاطر داری کی یا ایسی باتوں میں لگ گئی اس کے ساتھ اگر نہیں تو بہت ہی بیڈ کام کیا آپ نے ناشتہ کیا ہے آپ نے ۔”
میں نے اس سے پوچھا اس نے سر اثبات میں ہلایا میں مسکرا پڑی
“چلو اگر کیا بھی ہے تبھی پینٹ بڑ ٹوسٹ کھانا ہوگا مجھے اکیلے کھاتے ہوئے بوریت ہوتی ہے ۔”
نانو مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی لیکن میں ان کی حیرت زدہ آنکھوں کو اگنور کر کے لگی ہوئی تھی
“چلو شاباش پھر مجھے اپنی پیاری ماما سے بھی ملوانا ۔”
میں نے اسے پلیٹ آگئے کی
“آپ کے گھر میں اور کون کون ہے ۔”
“صرف میں اور میری ماما ۔”
وہ ٹوسٹ کا بائٹ لیتے ہوئے بولی
“آہا اچھا !”
میں خاموشی سے کھانے لگی نانو بھی اپنا ناشتہ لیکر ہمارے پاس آگئی
“آپی آپ نے ویسے میرے پاپا کی بارے میں نہیں پوچھا ۔”
اس کی حیرت زدہ لہجے پہ میں نے ایک دم سر اُٹھایا
“ہاں آپ کے پاپا ؟
مجھے اس سوال پر سمجھ نہیں آئی کے کیا بولوں
“سب پوچھتے ہیں میرے پاپا کے بارے میں صرف آپ ہے جہنوں نے نہیں پوچھا ۔”
اب کی بار وہ آرام سے بولی میں نے خود کو کمپوز کیا
اور پوچھا
“آپ کے پاپا کیا آرمی میں ہیں جو آپ کے پاس نہیں ہوتے ۔”
مجھے پتا تھا فضول سوال تھا لیکن پوچھنا پڑا
“جی آپ کو کیسے پتا ۔”
وہ مزید حیرت سے بولی
“کچھ لوگوں کے فادرز ان کے ساتھ نہیں ہوتے ویسے ہی گیس لگایا ۔”
“لیکن وہ تو لاہور ہوتے ہیں اپنی دوسری وائف اور بچوں کے ساتھ ۔”
او تو سیم سٹوری
“او اوکے !”
میں آگئے سے کیا کہتی وہ لڑکی مجھ سے باقیوں کی طرح پوری سٹوری سُنے اور مضنوعی ہمدردی کی توقع کررہی تھی مگر میں ایسی نہیں تھی
نانو نے میری طرف مسکرا کر دیکھا میں نے بھی اور اس کے ساتھ آنے کا وعدہ کیا کے ابھی میں گھر سیٹ کر لو پھر ضرور آو گی وہ خوشی سے مجھے ضرور آنے کا تاکید کرتے ہوئے چلی گئی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
نانو کو صفائی والا یا والی نہیں مل رہا تھا تو وہ خاصی پریشان دکھ رہی تھیں اور دوسرا ان کے گھر میں جھاڑوں بھی نہیں تھا تو وہ اور جنجھلا اُٹھی اور بڑبڑانے لگی
“لو بتاو بھلا اب گھروں میں سے جھاڑوں بھی چوری ہونے لگیں ہیں ضرور اس سکینہ کا کارنامہ ہوگا میں سال تک نہیں دیکھنے آئی تو سوچا کیوں نہ اُٹھا ہی لو میں ۔”
نانو بڑابڑتے ہوئے گرد اور مٹی کو کپڑے سے مارنے لگی
میں جو ٹی وی کی ڈسٹنک کررہی تھیں ہنس پڑی
“اللّٰلہ نانو ایک سال پُرانے جھاڑوں کا کیا کرتی آپ اس نے بھی تو مٹی سے بھرا ہوا ہونا تھا اور بُری بات نانو ایسے کسی بھی الزام نہیں لگاتے ۔
نانو نے مجھے گھورا میں نے اپنی مسکراہٹ دبائی
“پاکستان آکر آپ کی زبان زیادہ نہیں چلنے لگی ہما بیگم ۔”
“نانو شوہر ! میری تو پہلے بھی چلتی تھی ابو کے سامنے لگتا ہے آپ بھول گئی ۔”
میں شرارت سے بولی
“کتابوں میں لگی ہوئی زیادہ ہی اچھی لگتی ہو اور ٹی وی کو ایسے تھوڑی صاف کرتے ہیں او ہو ایک تو تمھاری ماں پڑھنے کے علاوہ کچھ تو سکھاتی لگتا ہے مجھے ہی اب ٹرینگ کرنی ہوگی ۔”
“یہ آپ کو پورے بیس سال بعد یاد آیا نانو ۔”
“لڑکی پٹو گی مجھ سے ۔”
“اچھا بھئی ۔”
میرا پیر ٹیبل سے لگا میں زور سے گری مجھے لگا میرا سر جاکر ٹی وی ٹرالی پہ لگے گا لیکن شکر ہے بچ گئی
“میں ٹھیک ہوں !”
میں نے تیزی سے کہا
“ہما ! او خدایہ کیا کرو اس لڑکی کا !”
نانو پریشانی سے کپڑا پھینک کر میری طرف لپکی
میں بامشکل اُٹھ پائی لیکن شکر ہے اُٹھ گئی نانو نے میرا چہرہ تھاما
“اِدھر دکھاو کہی چوٹ وٹ تو نہیں لگ گئی ۔”
ان کے لہجے میں پریشانی ہی پریشانی تھی
“میں ٹھیک ہوں۔ نانو ! ”
میں نے مسکراتے ہوئے انھیں تسلی دیں ویسے سر بڑی زور سے لگا تھا
“تم نا بیٹھی رہا کرو جان نکال دیتی ہو میری ۔”
نانو نے ہلکی سے چپٹ لگائی
“اچھا میں ایک کام کرتی ہوں جاکر کچھ سامان لیں آتی ہوں اس میں آپ کا یہ جھاڑوں بھی شامل ٹھیک ہے ۔”
“نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میں کسی سے منگوا لو گئ تمھیں تو راستے بھی نہیں پتا ۔”
“نہیں نانو سامنے تھوڑے سے فاصلے پہ ہے دُکان ۔”
میں تیزی سے بولی
“تم نے کب دیکھی تم تو سوئی وی تھیں ۔”
ہاں میں نے کب دیکھی میں تو سوئی وی تھیں
“شاہد دیکھیں ہے اِدھر ہی پاس میں ہے واکنگ ڈسٹنس پر ویسے بھی مجھے چلنے کی بڑی عادت ہے دو دن ہوگئے اب پیروں میں درد ہورہا ہے ۔”
“اچھا ٹھیک ہے رُکو میں پیسے لیں آو اور سنو کوئی فضول جگہ کہی مت جانا سیدھا دُکان جانا اور جلدی سے واپس آجانا ۔”
“جی نانو !”
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
میں شاپ کی طرف چل رہی تھیں آج میں کچھ نہیں سوچ رہی تھیں بس ایسے ہی کھبی وادیوں تو کھبی گیلی سڑک کو چلتے چلتے میری نظر ایک دم ایک بڑے سے محل نما گھر پہ پڑی اس کا ڈیزان بلکل کسی برٹس ٹایپ تھا اس کی طرف ایک راستہ بنا ہوا تھا اور بل بورڈ پہ لکھا ہوا تھا
“زلفیقار ہاوس !”
میں بڑھنے لگی پھر نانو کی آواز کانوں میں گونجی لیکن دیکھنے میں کتنا مزے کا لگ رہا ہے بلیک اینڈ وآئٹ کھڑکھیاں بھی صحیح ہارر ٹایپ لگ رہی میں دیکھنے ہی جارہی ہو کون سا کوئی حملہ کرنے
میں وہ کار ٹریک کے بجائے سڑھیوں والی سائڈ کی طرف بڑھی جس کے فاصلے میں اتنے بڑے بڑے سٹیپ تھے
میں ایک دم اوپر پہنچ گئی تو دیکھا بیج میں ایک اور ٹریک تھا میں اس سائڈ پہ چل پڑی اب مجھے گھر قریب سے نظر آیا بہت سے پھول اور پودے پڑیں ہوے تھے ہر قسم کے پھول پڑیں ہوئے تھے کچھ پتوں کی ڈیزان پورے پلر اور دیواروں میں ہوئے وے تھے سو کول میں آگئے چل رہی تھی یہ جگہ تو بہت بڑی ہے بھئی اور یہ ٹریک کتنا لمبا چلنا پڑیں گا میں اردگرد دیکھ رہی تھی کے پانی جہاں اکھٹا ہوا تھا وہاں میرا پیر پھسلا اور میں حسبِ معمول گرنے لگی جب کسی نے مجھے پکڑا
“میں ٹھیک ہوں !”
میں خود سے بڑبڑائی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
میرا پیر پسھلا تھا میں زور سے گری تھی یا نہیں گری تھی یہ کیا تھا یہ سٹیفن کنگ کے ناولز کا زیادہ ہی آثر ہورہا ہے
“آپ ٹھیک ہے !”
کسی کی بہت ہی سوفٹ آواز اتنی سوفٹ آواز میرے کانوں میں گونجی میرا جسم پتا نہیں کیوں کانپ اُٹھا میں مڑی میں نے اسے دیکھا وہ میرا بلیو جینز گائی وہ تو میرے خوابوں میں آیا تھا یہ کیا
وہ اس وقت پولیس یونی فورم میں ملبوس تھا اس کی ہائیٹ بہت لمبی تھی ،میں تو کوئی بچی لگ رہی تھی حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا میری ہائیٹ بہت اچھی تھی لیکن یہ اس کی بلیو جینز جیسی آنکھیں پتا نہیں کیوں میں اس کی آنکھوں کو جینز کے ساتھ کمپیر کررہی تھی اس کے سلکی کالے بال واقی کسی لڑکی سے زیادہ ہی سلکی تھے اور اس کے شارپ جبڑوں پہ ہلکی کالی سی شیو بڑھی ہوئی تھی جو اس کی سُرخ سفید رنگت پہ جچ رہی تھی پتا نہیں وہ کیا تھا مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی میں اسے کیسے ڈیسکرایپ کرو لیکن ایک لفظ میرے دماغ میں تھا
“وہ واقی کوئی سپارک تھا جو میرے وجود کو ہلا گیا تھا ۔”
“مس ہما ! ار یو اوکے ۔”
اس کے منہ سے میرے نام سُنتے ہی میں بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گئی اس کو میرا نام کیسے پتا کیا میں واقی کسی ناولز کی دُنیا میں چلی گئی ہوں
اس نے میرے سامنے چٹکی بجائی میں چونکی
“آئی آئی آ ام او۔”
ہائے ہما مت ماری مجھے سمجھ نہیں آئی کے کیا بولو
اس کے بھنوئیے کھینچی گئی
“آپ ٹھیک تو ہے نا ؟”
وہ اب کی بار تیسری بار پوچھا
“جی جی کچھ کہا آپ نے ۔”اُف ! میرا لہجہ کیوں گھبڑایا ہوا ہے وہ جیسے میری کیفیت سمجھ چکا تھا کیونکہ اس الو کے چہرے پہ دبی سی مسکراہٹ آئی تھی
“جی میں ٹھیک ہوں !”
میں نے جلدی سے اس کے کچھ کہنے سے پہلے کہا
“اور جی میں خراب ہوں !”
وہ مسکرا کر اب بولا
“جی !”
“آپ کو ج ورڈ کچھ زیادہ ہی پسند ہے بہرحال آپ کو اس سائڈ پہ نہیں آنا چاہیے تھا ۔”
وہ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا مجھے شرمندگی ہوئی
“ائیم سوری !
میں رُکے بنا تیزی سے بھاگی
“ارے ! سُنیے !”
اس کی آواز پیچھے سے آئی توبہ نانو کو پتا چلا تو کٹ پڑیں گی
اس لیں دُکان کی طرف بھاگو
میں نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا کیا یہ واقی معجزہ تھا کیا واقی خواب میں دیکھا انسان سچ ہوسکتا ہے
یہ سال بہت عجیب ہونے لگا ہے میں تو کہہ رہی ہو ں
میں جلدی پاتھ سے نکلی اور دُکان کی طرف بڑھی
“نانو !”
میں نے جب نوالہ منہ میں ڈالا تب نانو سے کچھ سوچتے ہوئے کہا
“جی بولو چندا !”
نانو نے پانی کا گھونٹ پہلے پیا اور پھر کہا
“ام یہ ماما کے کلوزٹ میں مائیکل جیکسن کی تصویریں کیوں تھیں ؟”
مجھے اب یہ بات یاد آئی سارا دن تو وہ بلیو جینز سوار تھا
نانو کا ہاتھ ایک دم رُک گیا اور انھوں نے سر جکھا لیا
“پتا نہیں اچھا مجھے تو نہیں پتا تھا ۔”
میں سمجھ گئی نانو نہیں بتانا چارہی تھیں
“نانو سمپلی کہہ دیں کے نہیں بتانا ۔”
میں نے منہ بنایا
“نہیں مجھے واقی نہیں پتا کے شفق نے کوئی ایسے پوسٹر رکھیں ہوئے ہو مجھے دکھانا ۔”
“آپ ماما کے کمرے میں کھبی نہیں گئی ۔”
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھیں کے آگئے سے کیا کہوں نانو نے نظریں چرائی اوپر سے وہ کہہ رہی ہے انھوں نے ماما کی الماری آج تک نہیں دیکھی
“گئی ہوں لیکن اس کی الماری وغیرہ کو میں نے کھبی نہیں چھیڑا اسے پسند نہیں تھا ۔”
وہ کہہ کر دوبارہ کھانا کھانے لگ گئی سمجھ نہیں آرہا کے ہو کیا رہا ہے بڑی ہی عجیب باتیں اتنی مسڑی ممی کے مرنے کی بعد ہونی تھیں
“جی میں خراب ہوں !”
“آپ ٹھیک تو ہے نا ہما !”
او شوٹ ساری باتوں میں بھول گئی اس کو میرا نام کیسے پتا اس نے بولا تھا میرا نام آپ ٹھیک ہے ہما ؟
اُف اُف میں اس سے پوچھ کیوں نہیں سکی
“ہما کہاں کھو گئی ؟”
نانو کی آواز پہ میں نے سر اُٹھایا اور نفی میں سر ہلایا
“پڑھائی شروع کردو ہما اس سے پہلے تمھارا دماغ خراب ہوجائیں !”
میں نے اپنے دل میں کہا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
صبح کے سات بج رہے تھے میں بور انداز میں اپنے نوٹس بنا رہی تھیں میرا آڈمیشن اس سال ویسے ہونے سے رہا تو ایک سال تو بیٹا ضائع نیکسٹ ایر مجھے جانا پڑیں گا نانو کو تو بہت افسوس تھا لیکن مجھے کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا ٹھیک ہے اس سال نہیں تو اگلے سال شروع کر لو گی بیٹھے بیٹھے ایسی سوچ میں گم ہوئی جب جھاڑوں مارنے کی آواز پر میں ایک دم چونکی اس بلیو جینز کے بعد مجھے خواب کوئی نہیں آیا حیرت کے بات ہے میں کیا دوبارہ دیکھنے جاو نہیں اگر اس نے مجھے پھر سے دیکھ لیا تو بڑی بے عزتی ہوجائیں گی لیکن مجھے وہ گھر دیکھنا ہے کتنا خوبصورت گھر تھا اُف مجھے اندر سے دیکھنا اس لیں اُٹھ پڑی اور ماسی کو دیکھا اس سے سوچا کے پوچھو
“ام بات سُنے ۔”
اس نے سر اُٹھایا
“جی بی بی ۔”
“وہ جو ذولفیقار ہاوس ہے اُدھر کون رہتا ہے ۔”
پھر میں نے اس کا چہرہ ایک دم سفید ہوتے دیکھا
“جج جی مجھے نہیں پتا ۔”
اگر پتا نہیں تو ہکلا کیوں رہے ہیں نیور مائینڈ
“لیکن وہ ایک ۔”
“بانو ! بات سُنو یہ کھڑکھی صاف کردینا ۔”
نانو کی طرف وہ جلدی متوجہ ہوئی جیسے جواب نہیں دینا چارہی تھیں اُف دل کرتا ہے اس عجیب دُنیا اور عجیب لوگوں کو گولی سے اُڑا دوں لیکن گولی دُنیا سے کیسے ختم ہوگی اللّٰلہ !”
میں باہر کی طرف بڑھی جب نانو کی آواز آئی
“تم کدھر ہے !”
اُف نانو کی تیز نظریں
“ایسی واک کے لیں اب گھر میں تو ایسے نہیں بیٹھ سکتی ۔”
“دو دن تو ہوئے تمھیں کوئی ضرورت نہیں ہے فضول میں باہر جانے کی ۔”
“نانو یہ کیا بات ہوئی ۔”
میں نے منہ بسورا
“میں بس اِدھر اُدھر واک کرو گی ۔”
“نہیں اتنی صبح صبح اچھا نہیں ہے بعد میں چلی جانا ہے ۔”
“جیسے آپ جانے دیں گئ اِدھر ایسا کیا ہے ۔”
“میں نے یہ کہا کے یہاں کچھ ہے ۔”
انھوں نے تیزی سے جواب دیا
“تو میں بھی کہہ رہی ہوں سیف جگہ ہے اور ۔”
“ہما بعث نہیں اور اس وقت تو ہرگز نہیں !”
“سات ہی تو ۔۔”
“ہما !”
نانو کا لہجہ سخت سے سخت ہورہا تھا
“اُف ٹھیک ہے !!!”
میں اپنی آنکھیں گھما کر بُکس اُٹھانے لگی یہ کیا واٹ ان دا ورلڈ میری بُک میری کھوئی ہوئی بک
“نانو !”
میں اونچی آواز میں اس بُک کو پکڑتے ہوئے بولی
“کیون چیخ رہی ہو اِدھر ہی ہوں !”
“نانو میری کھوئی ہوئی بُک لیکن یہ اِدھر کیا کررہی ہے ۔”
“ہما میرا اب دماغ خراب نہ شروع کردینا ۔”
“نہیں نانو میں ابھی تین کتابیں لائی ہوں اور یہ اس کے ساتھ پڑی ملی ابھی اور یہ مجھے ایرپورٹ میں نہیں ملی تو اِدھر کیسے آگئی ۔
نانو نے سر تاسف سے ہلایا اور ماسی کو دیکھا
“میری نواسی جھلی سائیکولجی پڑھ رہی ہے اور سائیکو ہوجائے گی ۔”
وہ ماسی کھی کھی کرنے لگی میں نے اسے گھورا
“نانو کوئی بات تو بلیو کر جایا کریں ۔”
“ہاں ہاں میں نے کون سا انکار کیا ۔”
نانو نے سر جھٹکا
“اللّٰلہ اللّٰلہ یہ غائب ہوگئی تھیں تو یہ اچانک کیسے مل گئی ۔”
نانو خاموشی سے چلی گئی مطلب میں اپنی بکواس میں لگی رہو !
میں نے بُک پھینک کر باہر جانے کا فیصلہ کیا چاہیے نانو کو اچھا لگے کے بُرا
💀💀💀💀💀💀💀💀
توبہ
نمبر ون مما کی ڈیتھ
نمبر دو پاپا کو ہمارا یہاں سے نکلانا میرا اس ملک آنا
تیسری ویرڈ ڈریمز پلس وہ بلیو جینز والا
اور لاسٹ بٹ ناٹ لیسٹ عجیب حرکتیں اور کچھ مسڑی
چلتے چلتے خود سے بڑبڑا رہی تھی اس وقت میں بلیک پینٹ اور گرین شیفون ڈریس جس کے اوپر گرین سویٹر تھی پھر بھی صبح کی ٹھنڈ سے میرے دانت بج رہے تھے اللّٰلہ ان حرکتوں پر اتنی جنجھلاہٹ ہوئی وی کے کچھ پہنا ہی بھول گئی لیکن ویسے بھی باہر جارہی تھیں جب نانو نے روکا
کسی کار کی ہارن کی آواز آرہی تھی اور میں اپنی دُنیا میں گُم ایک تو میری دُنیا سے آپ سب بھی بور ہوگئے کیسی عجیب پاگل سے لڑکی جس کے ساتھ پاگلوں والی حرکتیں ہورہی ہیں اس لیں اسے دو رُخ سے دیکھیں تب ہی آپ کو اصل کہانی سمجھ آئے گی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
تعارفی تقریر کا اختتام
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
ہما اپنی دُنیا میں کھوئی چل رہی تھیں جب پیچھے سے رینج رور کی ہارن کی آواز نے اسے چونکانے پر مجبور کردیا وہ مڑی تو اس نے پہلے نا سمجھی سے دیکھا اور پھر جلدی سے سائڈ پہ ہوئی اس کی نظر کار کے اندر انسان پر نہیں پڑی لیکن اس شخص کی نظر ہما پر پڑ گئی تھیں اس لیں کار ایک جگہ روکی اور ہما ابھی تک سوچوں میں گھڑی درخت کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی
اور زُلنین ذولفیقار بس اسے دیکھتا رہ گیا وہ بہت ہی زیادہ سوچ میں تھیں وہ اتنا سوچتی کیوں تھیں زُلنین کار سے اترا اور اس طرف بڑھا اور جو ہما تھیں وہ اپنے ناخن درخت پرکرھوچ رہی لب کو دانتوں تلے دبائے نیچے کی طرف دیکھ رہی تھی پھر وہ ایک دم درخت کو مکا مار کر مڑی اس کا پیر پسھلا اور وہ گرنے لگی جب زُلنین نے پوری سپیڈ سے اسے بھاگ کر پکڑا اور ہما تیزی سے بولی
“میں ٹھیک ہوں ۔”
تیزی سے کہتے ہوئے جب اس کی نظر جب زُلنین کی سکائی بلیو آنکھوں پر پڑی کیونکہ کے یہ آنکھیں اس کا ہر جگہ پیچھا کرتئ رہی تھیں تو
اس کا منہ کھل گیا اور جیسے زُلنین سمجھ گیا کے وہ کیا سوچ رہی ہے اس نے جلدی سے ہما کو سیدھا کیا لیکن چھوڑا نہیں کیونکہ جو اس کی کفیفیت ہوگئی تھیں اس سے وہ دوبارہ گر سکتی تھیں
اور ہما کا منہ ابھی تک کھلا کا کھلا رہا
“آپ گرتی بہت ہے ۔”
حالانکہ یہ دوسری بار تھا لیکن زُلنین ایسے بول رہا تھا جیسے ہما بار بار اس کے سامنے گر چکی ہو یہ بات ہما نے نوٹس نہیں کی کیونکہ وہ ابھی تک اس کی میجیکل آنکھوں میں کھوئی وی تھیں پھر ایک دم اس کا منہ بند ہوا پھر بنھوئے کھینچی گئی اور پتا نہیں کنفیوزڈ سوچو میں وہ تیزی سے بولی
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے ۔”
اب کی بار زُلنین کی ائی بروز اوپر ہوئی کنفیوزڈ سی
“میری وجہ سے ۔”
اس نے ابھی تک ہما کو پکڑا ہوا تھا
“اب چھوڑ بھی دیں !”
ہما نے اس کا ہاتھ تیزی سے ہٹایا لہجے میں ڈھیروں ناگواری لے آئی جو زُلنین کو بہت محسوس ہوا
“سارا کام تو آپ کی وجہ سے ہوا ہے کون ہے آپ !ہر طرف کیوں نظر آتے ہیں ۔”
ہما دل کی بات بول بیٹھی
“ہیں ! میں کل ہی تو نظر آیا ہوں اور میری وجہ سے البتہ میں نے آپ کو بچایا ہے رہی بات کون کی تو میں ایس پی زُلنین ذولفیقار ہوں !”
“اچھا تو یہ اسی کا گھر ہے آواز کتنی پیاری ہے ۔”
ہما دل میں بولی
“آپ ایس پی ہوں یا ڈی ایس پی میری بلا سے لیکن بار بار نہ آیا کریں ۔”
اس کے کہنے کا مطلب خواب تھا لیکن زُلیُن کے خاک پلے پڑنا تھا
“میں کہاں آیا ہوں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے !”
“آپ آتے تو ہیں ؟”
ہما جنجھلا کر بولی
“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی گھر جائے ویسے بھی باہر ٹھنڈ ہے ۔”
وہ کہہ کر مڑ پڑا جب ہما کو وہ بات یاد آئی
“آپ کو میرا نام کیسے پتا !”
زُلنین مڑا
“کیا ؟”
“آپ کو سُنائی نہیں دیا لگتا ہے لیکن یہ کے آپ کو میرا نام کیسے پتا !”
ہما کے لہجے میں بے چینی تھیں
“ام مجھے کیا پتا آپ کا نام ؟”
“ہے آپ نے اس دن مجھے کہا تھا ہما آپ ٹھیک ہے ۔”
اس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ آئی
“آو آپ کا نام ہما ہے بیرڈ سے انسپریشن لی تھیں

If you liked the Novel and wants to continue reading, comment in below section to inform us.

 

Related posts

Leave a Comment