Black Rose Episode 4 by Samreen Shah

blacl rose episode 9

Black Rose Episode 4 by Samreen Shah Urdu Novel Read Online Here

بلیک روز
Black Rose epi 4
ایپیسوڈ فور

دوسرا عنوان
“ہولناک کنول ۔”
اسے پیاس لگی تھی وہ اتنی سردی میں اُٹھنا نہیں چاہتی تھی لیکن حلق ایسا سوکھا تھا جیسے صدیوں سے پانی کے ایک بوند سے محروم رہی ہوں اس لیے ناچارا اسے اُٹھنا پڑا اور اپنے سائڈ ٹیبل میں دیکھا تو پانی کا جگ نہیں تھا ہما کو سخت مایوسی ہوئی پھر اس نے دوبارہ تکیے پہ سر رکھ دیا اور ایسے چھت کو گھورنے لگی زُلنین اسی کے ساتھ تھا پھر ہما نے ضد کی کے وہ چلا جائے وہ رہ لے گی ویسے بھی ساری زندگی ایسے ہی گزرنی ہے زُلنین نے اسے گھوری سے نوازا لیکن پھر اس کی کہنے پر چلا گیا اور کہا وہ کل اسے اپنے ساتھ کہی لیے جائے گا وہ راضی ہوگئی
اور ابھی سوئی تھی کے پیاس کی شدت سے اس کی آنکھ کھل گئی اسے برداشت نا ہوا تو وہ اُٹھی اور پیر میں سلپرز ڈھونڈنے لگی نیچے جھکی تو اس کچھ محسوس ہوا اس نے جلدی سے سر اوپر کیا جلدی سے لیمپ آن کیا اور اپنا وہم سمجھ کر وہ سر جھٹکتی ہوئی پیر نیچے کرنے لگی جب اسے لگا کے کسی نے اس کا پیر پکڑا ہے اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی
“اللّٰلہ و اکبر !نہیں یہ میرا وہم ہے مجھے اکیلہ چھوڑ کر یہ سمجھتے ہیں کے میں جی نہیں پاو گی تو ان کی غلط فہمی ہے میں ان کے بغیر بھی بہت خوش ہوں ۔”
وہ ہچکی لیتے ہوئے بولی اسے بہت رونا آرہا تھا ہمت کر کے دوبارہ اُٹھی اور دیکھا سلپرز پڑیں ہوئے تھے دیکھا یہ اس کے اندر کا ڈر تھا اور کچھ نہیں جلدی سے پہن کر وہ اُٹھی اور لائٹ ان کر کے دروازے کی طرف بڑھی اور سڑھیوں کی طرف بڑھی اسے محسوس ہوا جیسے کوئی سایہ گزرا ہوں وہ ایک منٹ کے لیے رُک گئی سڑھیوں کی لائٹ آن کی تو اس نے محسوس کیا جیسے وہ سایہ نیچے جارہا ہے ہما نے اپنا دل تھام لیا اور زبان پہ جتنے آیت اور سورتیں آتی تھی پڑھنے لگی
“یا اللّٰلہ یہ ڈیپریشن کی وجہ سے ہورہا ہوں ۔”
وہ خود کو تسلی دینے لگی اور نیچے بڑھی نیچے پہنچتے پہنچتے اس کا پورا جسم بھیگ چکا تھا نقاہت زدہ حالت میں وہ کچن کی طرف بڑھی اسے لگا وہ سایہ تیزی سے اس کے پاس سے گزرا ہوں وہ ایک دم پیچھے ہوئی
“یا اللّٰلہ !”
وہ بالکل رونے والی ہوگئی خوف سے اس کا چہرہ سفید ہوگیا تھا پیچھے ہوئی تو کسی وجود سے ٹکرائی وہ ایک منٹ کے لیے ساکت ہوگئی پھر اس کے وجود میں جنبش ہوئی مڑی تو دیکھا نانو اس کی نانو واپس آگئی
“نانو ! آپ تھی نانو آپ آگئی ۔”
ہما کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس میں بے یقینی سی بے یقینی تھی
نانو مسکرائی
“میری جان مجھے آنا تو تھا تیرا جو خون پینا تھا ۔”
اچانک بولتے بولتے ان کی آواز بدلی اور شکل عجیب سی خوفناک کے روپ میں دھاڑ لی گئی اچانک اس نے ہما کی گردن کو پکڑا اور دباؤں بڑھایا اور ہما کو لگا آج تو وہ گئی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“نہیں مجھے مت مارو مت مارو مجھے نہیں کوئی ہے نانو امی بابا!!!!”
وہ چیخ رہی تھی اور زُلنین جو باہر ہی اس کے گھر میں موجود تھا اس کی چیخوں پہ بھاگتا ہوا آیا جو کمبل میں دبکی چیخ رہے تھی
“ہما !”
وہ لائٹ ان کر کے اندر آیا دیکھا ہما اوندھی منہ بستر پہ گری رورہی تھی
“مجھے سب اکیلے چھوڑ گئے سب مارے گے مجھے ۔”
زُلنین نے بڑھ کر اسے اُٹھایا اور وہ چیخنے لگی
“ہٹوں مت مارو مجھے مت مارو میں نے کسی کو کچھ نہیں کہا رحم کرو مجھے پر رحم !”
“ہما ہما !! ہوش میں آو ہما ۔”
زُلنین نے اسے جنجھوڑا ہما ہوش میں آئی زُلنین نے اس کے منہ ت ہٹائے اور چونک کر دیکھا اس کا چہرہ بالکل سفید ہوا وا تھا ہونٹ سختی کاٹنے کے باعث خون سے رس گیا تھا اور روئی روئی شکل نے اس کا چہرے کا نقشہ بدل دیا اُف آج سے پہلے زُلنین کو کھبی اتنی تکلیف نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہورہی تھی
“کیا کردیا تم نے ۔”
وہ بالکل بے رنگ نظروں سے زُلنین کو دیکھ رہی تھی
زُلنین نے بڑھ کر اس کی شال اُٹھائی اور اس کے گرد لپیٹی اس طرح لپیٹی کے اس کا پورا جسم اور بال چھپ گئے اس وقت رات کے تین بج رہے تھے اور یہ وقت مناسب نہیں تھا
“بیٹھو ! ”
وہ نہیں ہلی
“ہما بیٹھو یار !”
اسے زبردستی کر کے بیٹھنا چاہا وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“یہ قبر بن جائے گا میری اور وہ مجھے مار دیں گے ۔”
وہ درد بھرے لہجے میں بولی
“کوئی نہیں بنے گی قبر میں ہونا بیٹھو !”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
“مجھے اس کمرے میں نہیں بیٹھنا پلیز مجھے باہر لیے جاو ۔”
لہجے میں بے پناہ خوف تھا زُلنین نے لب بھینچ لیے اس نے ہما کو چھوڑا
“او گھبڑاو نہیں میں ہوں نا یار !”
وہ شال اپنے گرد سختی سے لپیٹے آگئے بڑھی اسے اپنے ڈر میں ہوش ہی نہ رہا کے زُلنین اس گھر داخل کیسے ہوا
وہ سڑھیوں کے پاس پہنچی دوبارہ سے وہ منظر اس کے سامنے گھوما اس نے اپنا چہرہ چھپا لیا
“دور ہوجاو دور ہوجاو ۔”
“ہما ! ایے چُپ بس کچھ نہیں بُرا خواب تھا ریلکس ۔”
وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کے کندھے پہ بازو پھیلا کر اسے دلاسے دینے لگا
“تم ابھی کچھ بن جاو گئے اور مجھے مارو گئے ہٹاؤ اپنا ہاتھ ۔”
وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر چیخی زُلنین نے بڑھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اس سے اسے ہپنوٹایز کرنے لگا
“اب اپنے آنکھیں بند کرو اور دل کو پُرسکون کردو میں ہونا بے فکر رہو ۔”
اچانک ہما کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
‎وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
‎ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
‎~پروین شاکر
‎اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو نرم بستر پہ پایا
اس نے دیکھا الارم بج رہا یانی نمازِفجر کا وقت ہوگیا ہے تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کی پھر دیکھا الارم کی آواز تیزی ہوتی جارہی یانی کے اب اُٹھ جاو سُستی کاہلی کو مار بگھاوں ہما نے ہاتھ بڑھا کر الارم بند کیا اچانک اس کا زہن کام کیا اسے بڑا ہی عجیب خواب آیا ایک تو وہ نانو کے روپ میں بد روح یا چڑیل اس کے بعد اس کا چیخنا اور زُلنین کا آنا پھر ایک دم بلینک ہوجانا سب ایک دم ہوا اور ایک دم اصلی لگ ہی نا رہا تھا کے وہ خواب دیکھ کر آئی
“خدا یہ سچ نہ ہوں ۔”
کہتے ہیں صبح کے ٹائیم کے خواب سچ ثابت ہوتے ہیں اور اب تک ہو بھی چُکی تھے جیسے زُلنین اس کے خواب میں آتا تھا اور اب اس کے اچانک اصل میں آجانا اور اس کو اکیلے تنہا سب کو جھیلنا وہ جھیل رہی تھئ
یا اللّٰلہ اس نے کمبل میں خود کو ڈھک لیا اچانک بیل کی آواز پہ وہ اچھل پڑی تیزی سے کمبل اپنے اوپر ڈھکا اور تیزی سے اللّٰلہ کو پکارنے لگی
“یا اللّٰلہ پلیز یہ سچ میں نہ ہوں یا اللّٰلہ میرا وہم ہی ہوں مجھے مت آزمائش میں ڈال خدا میں بہت اکیلی ہوں ۔”
اچانک اس کا موبائل بجا وہ اور مزید گھبڑا گئی جلدی سے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا کے وہ چیخ نا پڑیں
“اللّٰلہ میرے پہ رحم کر ۔”
اچانک کسی نے اس کا کمبل کھینچا وہ بے اختیار چیخنے لگی جب زُلنین نے منہ پہ ہاتھ رکھا
“کیوں پرندوں کو ڈرانے پہ تُلی ہیں محترمہ !”
زُلنین کو دیکھ کر اس کا دھڑکتا دل تھم گیا لیکن جھٹکا لگا یہ کیسے اندر آیا

اس کو دیکھ کر وہ پُرسکون ہوگئی اور اپنے آنکھیں بند کی لیکن جھٹکا لگا وہ کیسے اندر آیا
“کیا ہوا ؟۔”
زُلنین نے اسے آنکھیں بند کر کے دیکھا اور اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ چکے تھے
“کچھ نہیں بُرا خواب دیکھا تھا ڈر گئی آپ کیسے آئے۔”
وہ نرمی سے مسکرایا اور جلدی سے اُٹھ کر تھوڑے فاصلے پہ کھڑا ہوگیا
“بھول گئی محترمہ نے مجھے خود چابی پیش کی تھی ۔”
ہما نے سر ہلایا جیسے اب یاد آیا ہوں کے واقی اس نے چابی زُلنین کو دیں تھی امیرجینسی کے لیے
“اس وقت کیسے آنا ہوا !”
وہ اپنی شال اپنے گرد لپیٹے ہوئے اسے دیکھنے لگی
“نماز کے لیے جارہا تھا پہلے سوچا حاضری لگا لو کے آیا اُٹھی ہوں یا سورہی ہوں بیل پہ کوئی جواب نہیں دیا پتا نہیں مجھے عجیب سے پریشانی محسوس ہوئی تو بس آگیا ۔”
اس نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی اور ہما نے پوچھی بھی نہیں بس سر ہلا دیا
“مسجد کا ٹائیم گزر گیا ہے نیچے پڑھ لے ۔”
وہ کہتے ہوئے اُٹھی
“ٹھیک ہے لیکن اب ٹھیک ہونا !!”
وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا
“میں ٹھیک ہوں ۔”
ہما نے دھیمی سے مسکراہٹ سے کہا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی
نماز پڑھنے کے بعد دیکھا صبح کا وقت ہوچکا تھا ہلکی ہلکی روشنی میرے کمرے میں آنے لگی نانو کو گئے ہوئے دو دن ہوچکے تھے یہ سوچتے ہما کی آنکھوں میں آنسو آگئے اتنا دُکھ تو ماما کا بھی نہیں تھا جتنا نانو کو ہوا وہ کیوں چلی گئی ایسے جائے نماز پہ بیٹھے ہاتھوں میں تسبی پکڑیں آنسو بہا رہی تھی جب سائڈ پہ کافی کا کپ رکھا گیا میں چونکئ یہ گیا نہیں ابھی تک وہ بھی زمین کے بل ہما سے تھوڑے فاصلے پہ بیٹھ گیا اس کا دل پگھل رہا ہے یہ شخص کتنا پیارا اس کی ساری پیاری حرکتوں میں سے سب سے زیادہ اس کا احترام اور عزت سے پیش آنا تھا تنہائی کے باوجود اس نے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا کیا ایسی نیکی دُنیا میں پائی جاتی ہے شاہد ہاں
“زیادہ سوچنا زہن کو الجھاتا ہے ۔”
نرمی سے کہا گیا فقرہ ہما کو گہرا سانس لینے پہ مجبور کیا
“سوچتی کہاں ہوں سوچ خودبخود آجاتی ہے ۔”
وہ کپ کو اُٹھانےلگی
“اتنا بھی انڈیپنڈنٹ نہیں ہے آپ کا دماغ جو جب دل کریں اپنی مرضی سے کریں دل اور دماغ ہمارے اپنے کنڑول میں ہے ہاں کچھ فنکشن پہ ہمارا کوئی رول نہیں ۔”
“آپ تو کہی سے ایس پی نہیں لگتے ایک ماہر نفسیات معلوم ہوتے ہیں ۔”
اس نے نظریں اُٹھائی اور زُلنین کی بلیو آنکھوں میں دیکھا
“نفسیات کو سمجھنا کوئی مشکل کام تو نہیں ہے اور آپ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ۔”
“لیکن میں خاصی ڈم ہوں مجھے نہیں پتا کچھ بھی ۔”
“اُف ایک تو انسانوں کی عادتیں اتنا انڈراسٹیمیٹ کیوں کرتی ہے خود کو دوسری کی باتوں میں اتنا بھی ڈیپلی نہیں لینا چاہئیے اچھی بات ہے کسی کے اچھے مشورے پہ عمل کرنا لیکن اپنا دماغ بھی استمعال کریں وہ کیا کہتے ہیں سُنو سب کی لیکن کرو من کئ اور ڈم کہاں سے او پلیز کم سے کم سٹنفورڈ کے ٹاپ یونی ورسٹی سے سکولرشپ کوئی ڈم لڑکی نہیں لیتی ۔”
وہ بہت ہی اچھا سپیکر تھا
“لیکن میں پڑھ کہاں رہی ہوں فارغ ہی تو بیٹھی ہوں ۔”
“ہاں وہ تم نے خود کو فارغ کیوں رہنے دیا ہے چاہو تو بہت کچھ کرسکتی ہوں ۔”
“میں ہارر ناول لکھنے کا۔۔
ایک دم کہتے کہتے رُک گئی اور زُلنین ہولے سے ہنس پڑا
“ابھی ڈر گئی تھی خواب سے ناول لکھو گی ۔”
وہ مزاق کرتے ہوئے بولا تاکہ اس کا دل تھوڑا سا ہلکہ ہوجائے
“اب کسی چیز کا دل ہی نہیں کرتا ۔”
وہ بالکل رونے والی ہوگئی نانو کے بعد اس کو بہت زیادہ رونا آرہا تھا حالانکہ وہ روندی روح ہرگز نہ تھی لیکن پتا نہیں کیوں شاہد تنہائی کا احساس
“ہما بڑیو بنا پڑیں گا ، یہ دُنیا بہت مشکل ہے تم کمزور پڑو گی تو اور مشکل بن جائے گی ۔”
وہ اپنے گیلے گال صاف کرنے لگی
“تمھیں پتا ہے میں نے کہی سُنا تھا یا شاہد پڑھا تھا
کے آپ کا کوئی اپنا مرتا ہے تو آپ کو اس کے مرنے کا دُکھ نہیں ہوتا بلکہ آپ اپنے اکیلے ہوں جانے کا غم مناتے ہیں کے وہ ہمیں اکیلا اس دُنیا میں کیوں چھوڑ گئے ان کی بغیر کیا کریں گئے ،وہی بات ہے مجھے ان کے مرنے سے زیادہ اپنے اکیلے ہونے کا رنج ہے اور اگر نانو ابھی میرے سامنے آجائے تو کہی گی تم تو تنہا رہنے کی عادی ہوں تمھیں کب سے کسی کئ ضرورت محسوس ہوئی اب کیا بتاو جتنا مجھے لوگوں کے درمیان اُٹھنا بیٹھنا کھل کر زندگی جینا مستی کرنا دوستیں بنانا ہنسی مزاق کرنا ناکہ ایک کمرے میں بیٹھ کر ناولز اور مویز دیکھنا اور اپنا پڑھنا بس تنہائی میری مجبوری تھی اور شاہد اب تو نصیب میں لکھ دی گئئ ہے ۔”
وہ آج اعتراف ایسے شخص کررہی تھی جس سے ملاقات ہوئے وئے صرف چند دن ہوئے تھے پتا نہیں اس شخص میں ایسا کیا تھا جس کے سامنے وہ اپنا آپ کھول بیٹھی تھی جو ایک خول میں بند کیا گیا تھا
“او ہو بس اتنی سی خواہش مس برڈی آپ کی پہلی خواہش تو پوری کرچکا ہوں میں آپ کا زبردستی دوست بن کر باقی تو ایک دن کی بات ہے لیکن میں چاہوں گا آپ آہستہ آہستہ انجوائی کریں تب تک کے لیے ناشتہ نہ کر لے قسم سے دو دن سے کچھ نہیں کھایا ۔”
وہ کپ رکھتے ہوئے بولا مقصد صرف ہما کو کھلانے کا تھا جس نے واقی دو دن سے ایک نوالہ اپنے اندر نہیں ڈالا
“کوفی کافی نہیں ہے ایس پی صاحب ۔”
ہما آہستہ سے بولی
“لو جی محترمہ کو نہیں پتا ہم پاکستانی پولیس آفسر کتنا کھاتے ہیں ۔”
وہ اُٹھتے ہوئے بولا
اور وہ ابھی تک بیٹھی رہی اب اس کی ٹانگیں بھی آکڑ رہی تھی زیادہ دیر بیٹھنے سے اس سے اُٹھنا تھوڑا مشکل ہوگیا لیکن بہرحال اُٹھ پڑی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“آپ فرانس کیوں جارہے ہیں ۔”
فائیق فائل پہ مصروف تھا جب اچانک جزلان اندر آتے ہوئے بولا
“بغیر پوچھے میری پرآئیویٹ سپاٹ میں مت آیا کرو ۔”
کرختگی سے کہا گیا جواب نے جزلان کو تیش دلایا
“چاچو اگر زُلنین کو پتا چلا ۔۔۔۔آپ نے آخر ایسا کیوں کیا ۔”
“کیا کیا ہے میں نے ۔”
فائیق کے لہجے میں زرا بھی نرمی شامل نہیں تھی
“آپ نے مارا ہے نا ۔”
“کس کو مارا ہے ۔”
وہ فائل پٹھک کر اُٹھا
“طاہرہ آنٹی کو !”
فائیق ایک دم رُک گیا بلکہ رُک نہیں گیا وہ تو ساکت ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا
“کس کو مارا ہے ۔”
وہ جیسے کنفرم کرنا چارہا تھا اس کے بےحد عجیب لہجے پہ جزلان زرا سا بھی نہیں چونکہ
“پلیز چاچو بس کردیں آپ کا عشق آپ کو گہری کھائی میں پھینکے گا اپنے عشق کو اپنے لیے سگیرٹ کے مانند نہ کریں جو رفتہ رفتہ آپ کو اندر سے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو بھی ختم کردیں۔ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں چاچو بس کردیں اگر دادا ابا کو پتا چلا کے اب آپ کے ہاتھوں ساتواں قتل ہوا ہے تو ان کی عزت جو زُلنین نے قائم کی ہے اسے ختم نہ کریں ہمارا خاندان
“تم اپنی بکواس بند کرو گے ۔”
وہی دھاڑ جو پورے گھر کو ہلا دیتی تھی اور نفرت اور شعلے سے بھری نظریں ۔جزلان خائف ہوئے بغیر بولا
“میں تو کردوں گا چاچو لیکن ہمارے جنز نہیں کریں گئے جو پہلے بھی آپ کے بارے میں بولتے تھے مزید بولے گئے
خیر آپ کے مرضی اچھا ہے چلے جائے فرانس آپ کے لیے بھی بہتر ہے اور ہم سب کے لیے بھی ۔”
وہ کہتے ہوئے چلا گیا اور فائیق کی نظر شفق پہ پڑی جیسے اس کی آنکھیں فائیق سے شکوہ بلکہ شکوہ نہیں نفرت کا اظہار کررہی تھی اور فائیق کی حالت عجیب ہوگئی وہ تیزی سے اُٹھا
💀💀💀💀💀💀💀💀
“اس سے اچھا تھا میں گھر پہ ہی ناشتہ کھا لیتا میں یہاں کمپنی کے لیے آیا تھا ہما ۔”
ہما کو مسلسل خاموش دیکھ کر وہ جنجھلاتے ہوئے ناشتے کی ٹیبل کے چیر ڈریگ کر کے بیٹھتے ہوئے بولا
“کمپنی تو یہاں نہیں ہے زُلنین شہر میں مل جائے گی نوکری ۔”
وہ سنجیدگی سے کیٹل اُٹھاتے ہوئے کہنے لگی
“میرا سٹائل مت کاپی کریں آپ اچھا !”
وہ منہ بناتے ہوئے بولا
“مجھے باندروں کا سٹائل کاپی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیا لیے گئے نٹیلا یا پینٹ بٹر؟”
“لے لو گا آجاو اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے کام پہ جانا ہے میں بس تمھیں دیکھنے آیا تھا کوئی آیا نہیں تمھارا پوچھنے ۔”
وہ بھی اب سنجیدگی سے کہنے لگا وہ اسے اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن اسے نانو کے قاتل کا پتا لگانا تھا اور ہما اکیلے کم سے کم رہ نہیں سکتی تھی منہ سے بولے گی نہیں لیکن دل ابھی بہت ٹوٹا اور خوف سے بھرا ہوا تھا
“کون آئے گا زُلنین ؟مری آئے ہمیں ہفتے سے زیادہ نہیں ہوا تھا اور اتنا سب کچھ ہوگیا ملاقات تو آپ کے علاوہ کسی سے بھی نہیں ہوئی ہاں ماما کی دوست تھی اور ان کی بیٹی وہ بھی بچاری اپنے چکروں میں اسلام آباد
اس سے بہتر تو میں امریکہ میں تھی کم سے کم وہاں کوئی تو تھا ۔”
“یانی تمھارے پاپا مجھے سمجھ نہیں آتی کوئی باپ اتنا بے حس کیسے ہوسکتا ایسا نہیں ہوسکتا اور ان کا پتا نہ ہوں ۔”
وہ اس کے چہرے کو دیکھنے لگا جو ابھی تک ڈوپٹے کے ہالے میں تھا اور زُلنین بتا نہیں سکتا تھا وہ اس میں کتنی خوبصورت لگ رہی ہے
“چھوڑو کوئی اور بات کرتے ہیں انھیں پتا ہوں یا نہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اب کس کس سے شکوہ کروں مرنے والے نے پروا کی میری جو زندہ والے کریں ۔”
وہ عجیب و غریب بات کررہی تھی
“ارے کیا بول رہی ہو مرنے والوں کو خود شوق ہوتا ہے بھلا کوئی شوق سے کھبی نہیں مرتا ہما ہاں سوسائڈ والی بات ہوتی تو میں تمھاری بات سمجھتا لیکن کیا تمھاری ماما اور نانو نے سوسئیاڈ کیا یہ ان کا وقت تھا ان کے رول دُنیا سے ختم ہوچکا تھا اور ہمیں اللّٰلہ کی مرضی میں ٹانگ نہیں اُڑانی چاہیے ۔”
وہ پھر رونے والی ہوگئی اور زُلنین کو سمجھ آرہی تھئ یہ اس کے بس میں نہیں ہے جبھی تو وہ بار بار پریشان ہورہی ہے گھبڑا رہی ہے اس کے بس میں ہوتا تو وہ کھبی کسی کے سامنے نہ روتی نہ اپنے جزبات کا اظہار کرتی یا شاہد بہت جلدی سنبھل جاتی لیکن ابھی زخم بہت گہرے تھے اور خاصے تازہ
“اللّٰلہ تعالی نے ٹھیک نہیں کیا میرے ساتھ نانو کی جگہ مجھے اپنے پاس بلا لیتے ۔”
وہ اپنے آنکھیں مسلتے ہوئے بھرائی آواز میں بولی
“پھر فضول بکواس منع کیا ہے ایسے نہیں کہتے ایک تو انسانوں کی سمجھ نہیں آتی ہر چیز کو اللّٰلہ پہ کیوں بلیم کرتے ہیں بھئی اس کی چیز ہے اس کی تخلیق ہوئی مخلوق جب چائیے اس دُنیا میں بھیج دیں جب چائیے اپنے پاس بلا لیے ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے اس لیے ہما دوبارہ ایسے مت کہنا ۔”
وہ تنبیہ لہجے میں اسے دیکھنے لگا اور ہما سُرخ آنکھوں سے گھورنے لگی
“اچھا بس بھی کرو اس سے تم زیادہ اچھے اور میں بُری محسوس ہوگئی ۔”
وہ شرمندگی سے جوس کا ڈبہ رکھتے ہوئے بولی
“یہ پھر آپ کی سوچ ہے مس ہما ۔”
زُلنین جوس کا گلاس اُٹھاتے ہوئے بولا
“ایسا لگتا ہے نانو نے آپ کی بھر پور ٹرینگ کی ہے اگر وہ آپ سے مل لیتی تو آپ کی دیوانی ہوجاتی یا اپنا بیٹا ہی بنا لیتی لیکن اب کیا کہہ سکتے ہیں ۔”
وہ جیسے بہت مایوس ہوئی تھی
“کوئی نہیں اگر مجھ غریب کو اگر جنت نصیب ہوگئی تو ضرور مل لو گا ان سے ۔”
وہ ہولے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا
وہ دوسری طرف بیٹھتے ہوئے اس دیکھنے لگی
“کیوں نہیں ہوگی اتنے نیک تو ہیں آپ ۔”
“پتا نہیں !”
وہ ہما کو نہیں دیکھ رہا
“اچھا یہ بتائیں ایسا تو نہیں ہوسکتا کے آپ کے رشتے دار ہی نہ ہوں کوئی تو ہوگا میری تو ماما خیر اکلوتی تو اور بابا بھی پھر بھی بابا کے کزن اور رشتے دار وغیرہ تھے ماما کا تو تھا ہی کوئی نہیں نانا اور نانو بھی اکلوتے تھے اور فنی بات میں بھی اکلوتی ہوں ۔”
وہ اپنی بریڈ پہ سپریڈ لگائے سر جکھاتے ہوئے بولی
“فارغ رہو گی تو واقی پاگل ہوجانا ہے لگتا ہے بہت سارے کام پہ لگانا پڑیں گا ۔”
“نوکری تو ملنے سے رہی مجھ کو کوئی ڈگری ہی نہیں ہے میرے پاس ۔”
“ڈگری ایک فارمیلٹی ہے عقل کی ضرورت ہوتی ہے کام کے لیے اور وہ تھوڑا بہت ہے آپ کے پاس ۔”
وہ شرارت سے مسکرایا
“یہ آپ جب میرا مزاق بنارہی ہوتے ہیں تو آپ جناب کیوں خطاب کرنے لگ جاتے ہیں ۔”
“عزت اور مزاق کو ساتھ لیکر چلے گے تو بہت کم آپ کی بات بُری لگے گی ۔”
“ویسے جتنے لیکچر آپ مجھے دیں چکے ہیں اتنے آپ نے اپنے مجرم کو دیتے نا تو صحیح نیک ہوجانا تھا انہوں نے ۔”
وہ ہنس پڑا
“اس کی نوبت ہی نہیں آتی جیل کی ہوا لگتی ہی صراطِ مستقیم بن جاتے ہیں ۔”
“ہیں !!”
وہ رُک کر اسے دیکھنے لگی جو اب پلیٹ خالی کرچکا تھا ابھی تو اس نے شروع کیا تھا
“بہت کام کرنے ہے تمھارے پہلے تو یہ کے لائیسنس بناوانا ہے پھر یہ انٹیق سی گاڑی آپ کے استمعال میں لانی ہے پھر جاب سے پہلے آپ کے ڈریسس کی شاپنگ کریں گئے ۔”
“کیوں کیا ہوا میرے کپڑوں کو ۔”
گھوری زُلنین کی طرف اچھالی گئی وہ مسکراہٹ دبانے لگا
“بس ایسی ہی میں چاہتا ہوں ہما صاحبہ مشرقی کپڑے پہنے پتا نہیں کیوں آپ کو یہ شلوار قمیض بہت سوٹ کی ہے ۔”
“ہاں یہ تو ہے نانو کو بہت شوق تھا جب کھبی عید آتی تو شوق سے میرے لیے بنواتی اور زبردستی پہناتی وہ کہتی میرا حُسن اسی ڈریس میں نظر آتا ہے خیر مجھے پتا ہے ۔۔۔”
“اچھا اچھا اب دُکھی امداد حُسین نہ بن جانا میں لیٹ ہورہا ہوں ایک کام کرو جلدی تیار ہوں میرے ساتھ پولیس سٹیشن چلو۔”
وہ اُٹھتے ہوئے بولا
“خود بولتے رہتے ہیں میری باری آئی تو چُپ کروادیا اور پولیس سٹیشن کیوں زُلنین ابھی میں کہی نکلنا نہیں چاہتی اوپر سے لوگ کیا سوچے گئے نانی کے مرنے کا انتظار تھا اور اپنے عاشق کے ساتھ گھومنے پھرنے لگی ۔”
وہ پہلے دیکھتا رہا پھر ہنسنے لگا
“کون لوگ ؟ جو افسوس کرنے تک نہیں آئے ان کی بات کررہی ہو اور کوئی آیا ہے تمھارے پاس میرے سوا کے تم اکیلے کیسے رہے رہی ہوگئ تم نے کھایا ہے کے نہیں اکیلے سو تو جاو گی اس ویرانے میں اچھا نانو کا غم میں جانتا ہوں بہت بڑا اور مجھ سے زیادہ تمھاری فیلنگز کوئی نہیں سمجھ سکتا لیکن اب مو آن تو کرنا ہے کیونکہ یہی دُنیا کا دستور ہے ، ٹھیک ہے غم منانے کے لیے اسلام نے تین دن دیں ہیں جو کے آج کا دن ہے جتنے چاہیے آنسو بھا ڈالو لیکن چلوں میرے ساتھ لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا ان کو کرنے دوں ہم بھی کر لے گئے ٹھیک ہے حساب برابر !”
ہما نے سر ہلایا اور آنسو کو زبردستی روکا واقی اچھے انسان اس دُنیا میں پائے جاتے ہیں زُلنین کو دیکھ کر اسے پتا چلا تھا
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“آپ کا پولیس سٹیشن کہاں ہے ۔”
ڈھونڈنے پر بھی اسے کوئی سادہ سی شلوار قمیض نہیں ملی تو نہ چارہ اسے ریڈ لمبی سویٹر کے ساتھ بلیک کوٹ اور بلیک پینٹ پہن کر آگئی زُلنین کو وہ پھر بھی اچھی لگ رہی تھی
“زیادہ دور نہیں ہے یار اور گھبڑا کیوں رہی ہوں ایسے ڈر رہی ہوں جیسے جیل بجھوا دوں گا ۔”
“میں بھلا آپ سے اور جیل سے کیوں ڈرنے لگی ۔”
ہما نے گھورا
“وہ اس لیے میں اچھا اور پیارا پولیس آفسر ہوں ورنہ میرا اصلی روپ دیکھ لے تو ڈر کر بھاگ جائے ۔”
“ہاں چھچھورے اب بھی ہیں اور وہ روپ میں دیکھ چکی ہوں اس لیے میں نہیں ڈرنے والے مسڑ ۔”

“اتنا دور نہیں ہے بس پندرہ منٹ کے اندر پہنچ جائے گئے ۔”
“ویسے کسی جگہ لیکر جانے کے لیے آپ کو پولیس سٹیشن ہی نظر آیا بہت پہلے وہ عجیب سا سکول توبہ ایک تو آپ اتنی خطرناک جگہ کیوں لیکر جاتے ہیں ۔”
“ارے یہ دونوں ہی تو میری فیورٹ جگہ ہے مجھے لگا باقیوں کی طرح آپ کو زولفیقار ہاوس ہانٹٹ اور سکیری لگا ہوگا ۔”
وہ اس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“پتا نہیں مجھے تو ہرگز نہیں لگا سکیری اتنا خوبصورت تو ہے لوگوں نے ایسی جیلسی میں آکر کہہ دیا ہوگا ۔”
وہ مسکرا پڑا
“او ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔”
“ہاں مسڑ پوزیٹو نے یہ بات سوچی ہی نہیں ۔”
ہما بھی اسی کے انداز میں بولی زُلنین ہنس پڑا
اور جزلان کار کے پیچھے اپنے سر پکڑ کر بیٹھا تھا کے زُلنین بھی غلطی کرنے جارہا ہے
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“یہ کون سا پولیس سٹیشن ہے جو ابھی تک آہی نہیں رہا ۔”
ہما اس سے بات کررہی تھی جب اچانک اس نے دیکھا اب مری کی سرد اونچی ہواؤں سے بھری وادیوں کی بجائے وہ اب دھوپ سی بھری ہائے وے میں پہنچ گئے تھے
“پولیس سٹیشن کس نے جانا ہے اب !”
وہ مڑ کر مسکرایا
“لیکن آپ نے یونی فورم پہنا ہے آپ اپنے کام سے چھٹی لے لی کتنی بُری بات ہے ایک تو آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا اور اب یقینن شہر لے آئے ہیں دوسرا آپ نے کام چوری کی بولنے والے کو اپنی باتوں پر عمل ہرگز کرنا چاہیے ۔”
ہما نے زُلنین کے ہی سٹائل میں کہا
“پہلی بات نہ ہی میں نے جھوٹ بولا اور دوسرا نہ ہی کوئی کام چوری کی اصل میں میرا کام اسلام آباد ہی تھا وہ تو ویسے آپ کو نیا دکھانا تھا آپ نے خود بوریت کا اظہار کیا اور ویسے بھی ٹائیم ویسٹ ہونا تھا دوسرا یہ ہے کے میں کام چوری نہیں بلکہ وقت کی پابندی دکھا رہا ہوں اور مجھے پورے دس بجے پہنچنا ۔”
“پھر تو آپ لیٹ ہونے والے ہیں ۔”
وہ مسکرا کر بولتے ہوئے کار کی گھڑی دیکھنے لگی تو جھٹکا لگا ابھی صرف نو بجے تھے جبکہ وہ نکلے سوا آٹھ تھے
“میں ایک اچھا ڈرائیور ہوں اور انشااللّٰلہ آپ کو بھی سکھاؤں گا ۔”
“جی بالکل !”
وہ سادہ لہجے میں بولتے ہوئے سیٹ کی پُشت سے سر ٹکا دیا اور گردن موڑ کر شیشے کے پار اب در آنے والی ٹریفک کو دیکھنے لگی اچانک زُلنین اس کو دیکھتے ہوئے چونکہ ہما کے کان کے نیچے زخم تھا یہ کیسا زخم تھا وہ اس زخم کو دھیان سے دیکھ پاتا کے ہما مڑ کر اسے دیکھنے لگی
“کیا ہوا ؟”
زُلنین پیچھے ہوگیا
“اا کچھ نہیں !”
زُلنین کی نظر اس کے زخم پر ایک بار پھر پڑی ہما نے اس کو اپنے اوپر گھورتے ہوئے پایا تو ماتھے پہ شکن لاتے ہوئے بولی
“کیا دیکھ رہے ہیں مسڑ چھچھوڑے !”
“ارے مجھ جیسے شرافت سے بھر پور آدمی کو آپ چھچھوڑا تو نہ کہے ۔”
“تو اتنا سکین کرکے کیوں دیکھ رہے ہیں ۔”
شکن ابھی تک تھئ
“خدا کو مانے اگر میں چھچھوڑا ہوتا تو آپ کیا میری گاڑی میں بیٹھتی !”
“وہ تو میرے آپ نیبر ہے اور نیبر کے حقوق نبھاتے ہوئے آپ کا دل نہیں توڑ رہی ورنہ اب بھی آپ چھچھوڑے ہی ہیں ۔”
“رائٹ ! ہم حقوق بنھوئے تو چھچھوڑے آپ نبھائے تو احسان !”
اب زُلنین بڑبڑاتے ہوئے بولا تو ہما نے اپنے ہنسی روکنے کی بھر پور کوشش کی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“فائیق بھائی فرانس ایسے ہی گئے ہیں ابا ورنہ کون سا بزنس ان کا ۔”
کشف نے اپنے لپ سٹک کو آخری ٹچ دیا کشف کو انسانوں کی ایک چیز پسند تھی وہ تھی لپ سٹک کی کریشن جتنا وہ دیوانی تھی لپ سٹک کی شاہد ہی کوئی عورت ہوئی ہو۔
“فائیق انسان کے روپ میں کام بھی کرتا ہے کشف !زُلنین بھی تو پولیس کی وردی میں کام کرتا ہے ۔”
دادا ابا مطمن انداز میں بولے
“زُلنین کا تو مجھے پتا وہ کس لیے کرتا ہے لیکن فائیق بھائی کا ایسا کون سا بزنس ہے جو میرے اور جزلان کے علم میں نہیں ہے ۔”
ان کا کہنا کا مطلب صاف صاف تھا ساری ریپورٹ انھیں جزلان دیا کرتا تھا اگر جزلان کو نہیں پتا تھا تو سمجھو ان کو بھی نہیں پتا ۔
“ہوٹل ! اور یہ نیلم ویلی میں ہے جو گھر نہیں یاد ڈیوڈ کا تھا وہ اس نے فائیق کو دیں دیا ہے اور فائیق نے ۔”
“یقینن لوگوں کو ڈرایا ہوگا !”
کشف آنکھیں گھماتے ہوئے بولی
“فائیق سخت مزاج ضرور ہے کشف لیکن شرارتی بچہ نہیں ہے جو لوگوں کو ڈرائے ۔”دادا زولفیقار کو گوارا نہیں تھا کے وہ اپنی اولاد کی بُرایاں اپنی دوسری اولاد کے سامنے کریں چاہیے وہ کوئی بھی جتنا بُرا ہی کیوں نہ ہو
“تو پھر لوگ ان کے نام تک سے کانپ کیوں جاتے ہیں ۔”
“اس کی بارعب شخصیت سے !”
“رائٹ ابا یہ بات آپ زولی کے لیے کہتے ہیں !”
وہ اپنے لمبے بالوں کا جھٹکتے ہوئے بولی
“میرے لیے تم سب برابر ہوں کاشف !”
دادا زولفیقار نے گویا بات ہی ختم کردیں
“لیکن ابا مجھے یہ فائیق بھائی کا فرانس جانا کچھ ہضم نہیں ہوا ۔”
“نہیں ہوا تو بیٹا جاکر ہاج مولا کھا لے ۔”
دادا ابا کی شرارت سے کہنے پر وہ اونہہ کہہ کر آُٹھ کر چل پڑی
💀💀💀💀💀💀💀💀
وہ شہر پہنچ چکے تھے ہما کو اسلام آباد کو پورا دیکھنے کا دل کیا لیکن زُلنین کو کہہ نہیں سکتی تھی اس لیے ایک دم چُپ ہوکر ایسی اس شہر کی ایک ایک چیز کو اپنے اندر سموئے ہولے سے مسکرائی
“کیا ہوا مجھے چُپ ہونا چاہیے تھا لیکن محترمہ ہما صاحبہ چُپ ہیں خیریت تو ہے ۔”
“اپنی بُرایاں کروانے کا شوق ہے تو ضرور میں بولنے کے لیے تیار ہوں ۔”
وہ بیزاری سے بولی
“ارے ارے ناراض تو نہ ہوئے میں آپ کو پورا اسلام آباد گھماؤ گا ٹرسٹ می بس تھوڑا سا ویٹ کریں بس کسی ڈی ائی جی سے میٹنگ کر آو ۔”
وہ اس کی بیزاری سمجھ چکا تھا
“ٹھیک ہے جائیں آپ میں انتظار کر لو گی ۔”
“پکا ! ”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“پکا !”
وہ جھنجلائی
“کھبی مجھے بھی دھوکہ دیں دیا کرو ! ”
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے نکل پڑا
ہما کو اس کی بات دیر سے سمجھ آئی وہ مسکراہٹ کی بات کررہا تھا لیکن وہ چا کر بھی مسکرا نہ سکی
نانو کو گئے اتنے دن بھی نہیں ہوئے تو اور وہ ایک اجنبی کے ساتھ گھوم رہی تھی اکسائٹمنٹ کی جگہ گلٹ نے لے لی تھی اسے شرمندگی ہوئی وہ کتنی بُری ہے ۔لیکن وہ بھی کیا کرتی اسے اس گھر میں اکیلے رہتے ہوئے خوف آرہا تھا اور زُلنین کی موجودگی اسے تحفظ کا احساس دلاتی تھی وہ کیا کرسکتی تھی وہ مجبور تھی ایک آنسو ہما کے آنکھوں میں جما ہوا اس نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی
💀💀💀💀💀💀💀💀💀
“ان کے پیٹ پہ کچھ سپیسفک قسم کے زخم تھے پوسٹ مارٹم کے مطابق دوسرا ان کا سانس بھی روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی میرا کہنے کا مطلب ہے ایک تو زخم دیں کر پھر سفوکیٹ کر کے مارا تھا ۔”
ایس پی اورہان زُلنین کا دوست بولا یہ وہ دوست تھا جو انسان تھا اور اسے یہ نہیں پتا تھا زُلنین جن ہے ۔
“یانی یہ نیچرل ڈیتھ نہیں سراسر قتل ہے ۔”
زُلنین لب بھینچتے ہوئے بولا
“یس ! قتل اور وہ بے رحمی سے کیا گیا قتل !تم یہ زخم دیکھ رہے ہو یار کوئی انسان اتنا بھی جانوروں کی طرح مار سکتا ہے ”
“برما کے حالات تم بھول گئے ہو لگتا ہے وہ کسی دوسری مخلوق نے نہیں بلکہ انسان کا کیا دھرا کام ہے ۔”
ڈی آئی جی صاحب جو اتنی دیر سے خاموش تھے بول پڑے زُلنین چُپ رہا
“یہ تو ہے ہم انسان ہی بے رحم مخلوق ہے ۔”
“اور ہم پتا نہیں انسان زرا الزام حیوان کو دیں دیتے ہیں ۔”
زُلنین تلخی سے بولا سب ایک دم خاموش ہوگئے
“ہم اپنے ضمیر کو مطمن کرنے کی خاطر ساری غلطیاں یا تو معاشرے ، لوگ ، چرند پرند ، دوسری مخلوق پر ڈال دیتے ہیں یا ان سے کمپیر کردیتے ہیں اور تو اور ہم اپنے خدا کو بھی ہماری ساری حالات کا زمہ دار ٹہرا دیتے ہیں یہ انسان اور یہ ہے ان کی انسانیت !”
زُلنین کو کچھ شک پڑرہا تھا پتا نہیں یہ کام جن کا تھا لیکن اتنی نفرت اور حقارت بھلا کیوں ہوگی دال میں کچھ کالا تو تھا
“زُلنین بیٹا ہما کیسی ہے ۔”
زُلنین کی سچ اور کڑوی باتیں ڈی ائی جی صاحب سے بھی ہضم نہیں ہوئی اس لیے بات بدلتے ہوئے بولے
زُلنین نے سر اُٹھایا
“ٹھیک ہے سر ابھی کار میں بیٹھی ہے ۔”
“اچھا اس سے ملواوں یار اور کوشش کرو اس کا خیال رکھو اگر کسی نے اس کی نانی کو مارا ہے تو اس کا بھی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔”
“جی سر میں ابھی لاتا ہوں ۔”
💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀💀
وہ کار میں بیٹھی ایسی آنکھیں بند کیے اس کا انتظار کررہی تھی جب کار زور سے ہلی اس نے دیکھا شاہد زُلنین آگیا لیکن نہیں وہ سیدھے ہوکر بیٹھ گئی گاڑی دوبارہ ہلی اور بڑے زور سے اس نے پیر جلدی سے اوپر کیے اسے لگا جیسے زلزلہ آگیا ہوں
“یا اللّٰلہ ! اب کون سی آفت آنے لگی ہے ۔”
وہ ڈر کر بولی جو مسلسل ہل رہی تھی ایک دم کار ہلنے رُک گئی اس نے گہرا سانس لیا اور پھر اس کی نظر شیشے کی طرف بڑھی جہاں شرارتی لڑکی چلتے ہوئے ہنس رہے تھے اور اور ایک دوسرے کی ہاتھ پہ تالی مار رہے تھے ہما کو سمجھ آئی کسی نے اس کو شرارت سے تنگ کیا غصے نے ہما کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ہما تیزی سے کار سے اُتری اور تیزی سے ان کے پاس آئی
“او ہلیو !”
لڑکے ہنستے ہوئے بے اختیار مڑے جہاں سُرخ چہرہ لیے ہما انھیں گھور رہی تھی
“جی ہلیو !”
وہ بھی شرارت سے مسکرائے اور انداز تو بے حد لو فرانہ تھا
“تم لوگوں کو کوئی مینرز نہیں ہیں ایسے کرتا ہے کوئی بھلا ۔”
وہ غصے سے بولی
“ہاں نہیں ہے مینرز آپ سکھا دیں ۔”
ایک تو بے حد گندی نظروں سے ہما کو دیکھ رہا تھا اور یہ بات ہما کو آگ بگھولہ کردیا
“لگتا ہے تمھیں نہیں پتا کے دور ہی ایک پولیس سٹیشن ہے اور جس کی کار کو تم شرارت سے چھیڑ رہے تھے وہ ایک ایس پی کی ہے ۔”
“چلے جانِ من آپ کو چھیڑتے ہیں ۔”
ایک میں سے کہتے ہوئے آگئے بڑھا ہی تھا ہما ایک دم پیچھے ہوئی کیونکہ جس طرف وہ چل کر آئی تھی وہ سنسان جگہ تھی
“ابھی بلواتی ہوں میں زُلنین کو !”
وہ تیزی سے مڑنے لگی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا
مڑی
“چھوڑو میرا ہاتھ چھوڑو !!!”
ایک دم اس بندے کے منہ پہ پنج لگا وہ بندے سیدھا دور جاکر گرا
کسی نے اسےاپنے پاس کھینچا دیکھا تو اور کوئی نہیں وردی میں ملبوس خوبصورت اور بارعب شخصیت والا اس کا ہی دوست زُلنین زولفیقار تھا
“تم نے مجھے بلوایا ہما لو میں حاضر ۔”
ان لڑکے نے حیرت سے زُلنین کو پھر اپنے دور گرے دوست کو دیکھا جس کا منہ خون سے لت پت ہوگا
“زُلنین یہ کیا کیا آپ نے !”
ہما منہ کھولے دیکھ رہی تھی
“ہاں تو کیا کہہ رہے تھےانھیں چھیڑو گئے تو چھیڑو میں بھی دیکھتا ہوں کیسے چھیڑتے ہو ۔”
“اے ایس پی تم جانتے نہیں ہو
میں کس کا بیٹا ہوں ایک کال لگاوں گا نوکری سے باہر ۔”
ان میں سے ایک دھاڑا
زُلنین نے سیدھا موبائل پھینکا اور اس کے منہ پہ جاکر لگا
“او سوری لگی تو نہیں ہاں ملائے اپنے ڈیڈی کو کیا نام ہے منسڑ اُف لا حدید ربانی ہاں کرو کال میرا سلام بھی دینا اور ہاں پھر میں میڈیا کو کال کر کےتمھارے ایک ایک کارنامے کو اکسپوز کروں گا اور انکل کو بولنا نیوز چینل آن کر لے ۔”
اس نے ہما کو ابھی تک پکڑا ہوا تھا اور ہما شاکڈ سے اس زخمی بندے کو دیکھ رہی تھئ
“ہم تھوکتے نہیں ہے تمھاری لڑکی کو یہ خود فری ہورہی تھی خود چل کر ہمارے پاس آئی تھی ۔”وہ کہتے ہوئے اپنے دوست کو اُٹھا کر چلنے لگے
کے زُلنین نے اس کی بات پہ آگ بگھولہ ہوا اور آگئے بڑھ کر مارنے لگا اور ہما ہوش میں آتے ہی اس کے پاس بھاگی

زُلنین اس پہ تھپڑوں کی بارش کرچکا تھا جس سے اس شخص کا چہرہ نیلا ہوگیا تھا ہما کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی اور بھاگی اور زُلنین کی پُشت سے شرٹ پکڑ کر کھینچا
“زُلنین زُلنین ! چھوڑے اسے اتنی مار کافی ہے زُلنین بیشک انھیں سلاخوں میں ڈال دیں لیکن مار تو نہ دیں ۔”
زلینن کو ایک منٹ لگا ہوش میں آیا وہ جلدی سے اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا لیکن ایک کو ٹھوکر مار کر غرایا
“ان کی وجہ سے چھوڑ رہا ہوں ورنہ آج تمھارا ٹھکانہ کفن تھا سوری بولو اپنی بہن کو ۔”
“زلینن بس ٹھیک ہے چلے ۔”
وہ پریشانی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی
“کیا کہا ہے میں نے سوری بولو !”
وہ دھاڑا
“س س سوری ۔”
“اٹس اوکے چلے زلینن ۔”
زلینن تیزی سے مڑا اور ہما کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا
“لوگ صحیح کہتے ہیں آپ واقی جلاد ہیں میں خوامخواہ آپ کو شریف سمجھتی تھی اب تو قسم سے اتنے خطرناک ۔”
وہ ناراضگی سے بولی زلینن خاموش ہی رہا اسے خود پہ حیرانگی ہورہی تھی کے وہ اپنے اس غضیلی طبیعت کو ہما کے سامنے بھی چھپا نہ سکا اسے خود پر غصہ آرہا تھا لیکن ان لڑکوں کی نظریں اور الفاظ بھی تو برداشت سے باہر تھے
وہ تھانے کے اندر آیا اور ایک طرف لیے گیا اور وجدان کے آفس میں انڑ ہوا وجدان اس وقت فائل پہ مصروف تھا زُلنین کو اندر آنے کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر جھٹکے سے اُٹھا
“یہ کون ہے ؟”
“طاہرہ میڈیم کی نواسی ۔”
چونکہ وجدان اس کیس کے لیے کام کررہا تھا اس لیے زلینن نے اسے بتادیا
“اسلام و علیکم ہما پلیز بیٹھیے ۔”
وجدان سمجھ گیا اور ہما کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکی سے مسکراہٹ پر بولا ہما نے سر ہلایا اور نا سمجھی سے زلینن کو دیکھا
“وجی میں زرا ابھی آیا تم بیٹھو ہما میں ابھی آرہا ہوں ۔”
“لیکن !”
“آرہا ہوں پھر چلے گئے ٹھیک ہے بیٹھو وجدان میرا دوست ہی ہے ۔”
وہ ہلکی سی مسکراہٹ اچھال کر چل پڑا ہما اسے دیکھتی رہی
“ارے مس ہما بیٹھے ۔”
وہ اس کے کہنے پر سر ہلاتے ہوہے بیٹھی
“کیا لے گیا آپ ٹھنڈا گرم ؟”
وہ اب انٹرکام اُٹھاتے ہوئے پوچھنے لگا ہما نے نفی میں سر ہلایا اور اردگرد اس شاندار آفس کو دیکھنے لگی
“ارے کچھ تو لے گی آپ زلینن کی فرینڈ ہیں موسم کے لحاظ سے کافی چلے گی میں منگواتا ہوں ۔”
وہ دو کافی کے آڈر دیں کر ہما کی طرف مڑا جو کسی سوچ میں۔ گُم تھی
“ہاں جی مس ہما کیسی ہے آپ بہت افسوس ہوا آپ کی نانو کا سُن کر اللّٰلہ ان کی مغفرت کریں ۔”
“امین ۔”
ہما کے آنکھوں میں نانو کے ذکر سے پھر سے نمی آنے لگی جس اس نے سختی سے روکا
“ہما جب آپ آئی تھی تو آپ کو نانو کس حالت میں ملی تھی ۔”
ہما نے چونک کر سر اُٹھایا وجدان کو دیکھا جو بالکل سنیجدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“جی !”
“میں کہہ رہا ہوں آپ کو نانو مرتے ہوئے کس حالت میں ملی تھی ۔”
“نانو شہر گئی تھی اپنے دوست کے کسی فنکشن پر تو میں زلینن کے ساتھ ایسے ہی گئی تھے جانا نہیں چاہیے تھا لیکن جو میرے باپ ۔”
وجدان ایک دم چونکہ
“جو آپ کا باپ ؟ہما مجھے آپ کھل کر بتائیں اس میں آپ کا ہی بھلا ہے ۔”
“میرا بھلا ؟”
“جی آپ کا بھلا ؟”
“کوئی بات ہوئی ہے سر ؟”
ہما کو شک کی گھنٹی بجی
“آپ کچھ کہہ رہی تھی ۔”
وجدان ابھی فل حال جیسے بتانے کو تیار نہیں تھا
“جی تو زلینن کے ساتھ واپس میں سات بجے آئی مجھے لگا نانو آٹھ نو بجے آئی گی اس لیے جلدی آگئی گھر آتے دیکھا نانو لائونج کے صوفے سر ٹکائے لیٹی تھی اور میں گھبڑا گئی نانو تھوڑی سخت مزاج تھی اس لیے لیکن زلینن نے کہا کے سب بتادینا وہاں گئی نانو نے کوئی رسپونڈ نہیں کیا پہلے لگا مجھے سے ناراض ہے پھر پتا چلا سو گئی ہیں انھیں کمبل اوڑھنے کے لیے اُٹھی واپس آئی اب اُٹھا نہیں سکتی تھی اس لیے یہی انھیں سوچا یہی لٹادو جیسے نانو کی گردن پکڑی ۔۔”
اس سے آگئے بولا نہیں گیا وجدان نے پانی کا گلاس اسے پکڑایا ہما نے تھام لیا اور اسے پینے لگی ، وجدان اسے دیکھ رہا تھا پھر نظریں چینج کر لی کیونکہ زلینن صاحب کہی نہیں گئے تھے عین ہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور وجدان کو وہ دیکھ رہا تھا وجدان کو پتا تھا زلینن کیا اس کے لیے کوئی حیرانگی والی بات نہیں تھی ہاں اس کے لیے بالکل بھی نہیں تھی کیونکہ اسے سب پتا تھا
“اچھا پتا چلا کے نانو کو کیا ہوا ؟”
وہ اب سیٹ کے پیچھے ہوگیا تھا
“پتا نہیں مجھے اس وقت ہوش ہی نہیں رہا کے نانو تو بالکل ٹھیک تھی بالکل فریش اچانک پتا نہیں کیا ہوگیا !”
“اوکے ! اور غسل کس نے کروایا تھا نانو کو ۔”
“مجھے کچھ نہیں یاد پتا نہیں شاہد عورت آئی تھی مجھے کہہ رہی تھی میں کرواوں گی میری دوست ہے ۔”
“کون تھی وہ ؟”
اچانک زلینن چونکہ اور وجدان کو دیکھا جو اب ہما کو ہی دیکھ رہا تھا سوچ کی لکیر اس کے چہرے پہ پائی جارہی تھی
“مجھے یاد نہیں ہے ۔”
“صحیح سے یاد کریں ہما کیا آپ نے انھیں کھبی دیکھا ہے ۔”
“نہیں ۔”
ہما نے نفی میں سر ہلایا
“اوکے اگر ہم آپ کو کھبی بلائے تو آپ آئی گی ۔”
“جی اگر زلینن کہے ۔”
اس کی معصومانہ بات پر زلینن اور وجدان کی چہرے پہ مسکراہٹ آئی
“زلینن کا تو بس نہیں چلے گا وہ تو کہی آپ کو پولیس آفسر ہی نہ بنادیں ۔”
“جی!”
زلینن نے اسے گھورا
“مزاق کررہا ہوں یہ لے آپ کی کافی میں ابھی آیا ۔”
وہ اُٹھ گیا اور ہما اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی
“کمفرٹیبل ۔”
وہ زلینن کی آواز سے اچھلی اور دل پہ ہاتھ رکھا
“اللّٰلہ !”
اس نے دیکھا زلینن بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
“کیا ہوا ڈر کیوں گی ۔”
“آپ کب آئے ۔ ”
وہ اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“ابھی ایک سکینڈ پہلے اوہو کافی پیے جارہی ہے ۔”
وہ کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا
“ہم یہاں کب تک ہے زلینن ؟”
ہما بیزار سے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اسے بولی
“کیوں میرا آفس پسند نہیں آیا ؟”
“یہ آپ کا تو آفس نہیں ہے ۔”
“ہاں پر کام تو ہوتے ہے نا ! وجدان کیسا لگا تنگ تو نہیں کیا !۔”
“بس نانو کی پوچھ گچھ کررہے تھے ! نانو کو تو ہارٹ اٹیک ہوا تھا نا تو یہ ایسے کیوں پوچھ رہے تھے جیسے ان کا مرڈر ہوا تھا ۔”
“پاگل تھوڑا شکی سا ہے ایسے موت اس کو ہضم نہیں ہوتی ۔”
“او اوکے !”
“ویسے آپ نے ٹھیک نہیں کیا اتنا نہیں مارنا چاہیے تھا انھیں بیچارے کے منہ سے خون کے فوارے نکلنے لگے تھے ۔”
زلینن نے اسے گھورا
“ہما وہ بیچارے نہیں تھے دیکھا نہیں تھا کتنی غلیض نظریں تھی ان کی ۔”
“مجھے پتا ہے لیکن اتنا ٹارچر نہیں بنتا تھا ۔”
“شکر ہے محترمہ آپ پولیس میں نہیں ہے ورنہ آپ نے ہر مجرم کو معاف کردینا تھا کے کوئی نہیں ہوجاتی ہے غلطی اتنا بھی قصور نہیں بنتا تھا ان کا ۔”
وہ اب تیزی سے اور تمسخرا انداز سے بولا
“آپ بہت روڈ ہورہے ہیں ۔”
ہما کو اس کے اس نئے قسم کے لہجے کی عادت نہیں تھی ۔
“آپ بات ایسے نہیں کریں گی تو نہیں ہوگا روڈ ۔”
زلینن کے لہجے میں نرمی آگئی تھی
“جو لوگ کہتے ہیں صحیح کہتے ہیں آپ کے بارے میں ۔”
وہ خفگی سے کہتے ہوئے کافی کا کپ اُٹھانے لگی
“اور کیا کہتے ہیں لوگ میرے بارے میں ؟”
“یہ کے آپ جلاد ہے اور سو فیصد سچ کہتے ہیں میں بس آپ کو بہت سویٹ سمجھتی تھی ۔”
زلینن کو عجیب سی ناگواری ہوئی وہ ہر کسی سے اپنے بُرے کمنٹس سُن سکتا تھا لیکن ہما سے نہیں ۔
“میں تو اب بھی سویٹ ہوں ہما ،بس جو چیز غلط ہے میں اس کے خلاف ہوں ۔”
“آپ ہی تو کہتے تھے بُرائی کو بُرا بن کر ٹریٹ مت کرو اسے اچھا بن کر مات دو تو یہاں آپ کی کون سی اچھائی تھی ۔”
زلینن ایک دم لاجواب ہوگیا پھر جب بولا تو آواز نارمل تھی
“تم نے سوشیلوجی پڑھی ہے ہما ؟”
“یہ کیسا سوال ہے ؟”
وہ چونکی
“اس میں ایک جرمن فیلوسفر ایند اکنامسٹ ہے مکث ویبیر اس کا کہنا تھا سوشیل ایکشن کے دو طریقے ہیں جس سے سوسائٹی کو طریقے سے چلایا جاسکتا یا کسی کو زبردستی منوانا یا کسی کو قائل کرنے کی کوشش کرنا زبردستی میں دو چیز آتی ہیں یا تو دھمکی وہ دھمکی اب کسی چیز کی بھی ہوسکتی اور دوسرا وائیلنس یانی مار پیٹنا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو ہم نرمی سے اپنے محبت اور اچھائی سے قائل کر لیتے ہیں اور وہ قائل ہونا بھی چاہیتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ جن کے جسم سے لیکر زہینیت تک گندگی بھری ہوتی ہے تو اس گندگی کا خاتمہ کھبی کھبی اچھائی نہیں ہوتی جو بہرحال آپ سائیکولجسٹ کو سمجھ نہیں آئی گی ۔”
وہ اب لاجواب ہوگئی تھی لیکن وہ ہار مانے والوں میں سے نہیں تھی
“اور اسلام کیا کہتا ہے اس بارے میں ۔”
اب زلینن پھر خاموش ہوگیا
“اسلام میں تو بُرے کے ساتھ بُرا سلوک کا تو نہیں کہا گیا آپ کو پتا ہے جنگ کے قیدیوں کے ساتھ بھی ہمارے نبی صلہ اللّٰلہ و علیہ وسلم نے اتنا اچھا سلوک کیا تھا کے وہ ان کی اتنی اچھائی پر اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔”
زلینن اس کی بات پہ مسکرا پڑا وہ واقی اس بارے میں جواب نہیں دیں سکتا تھا
“اچھا میڈم آپ جیت گئی ٹھیک ہیں آئیندہ اچھائی اور نرمی سے ہینڈل سے کرو گا مجرموں کو لیکن کہی یہ نہ ہو کے میں ہی مارا نہ جاو اس چکر میں ۔”
ہما کے دل میں اچانک تکلیف کی لہر اُٹھی وہ کھبی سوچ نہیں سکتی تھی زلینن کو کچھ ہوئے پتا نہیں بہت ہی عجیب سا احساس اس پر گزرا تھا
“فضول باتیں مت کرا کریں ۔”
وہ گھورتے ہوئے بولی
“کیا کریں ہم آدمی ہے بڑے فضول سے ۔”
وہ کافی کے سپ لینے لگی
“آپ کا کام ہوگیا ۔”
زلینن نے نفی میں سر ہلایا
“تو پھر جائے اپنا کام مکمل کریں بارہ بج گئے ہیں زلینن !۔”
“کام ہی تو کررہا ہوں ۔”
وہ ہما کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“کیا ؟”
“تمھیں دیکھ کر ۔”
ہما حلق میں کافی اٹک گئی
“واٹ !”
زلینن گڑبڑایا
“آئی مین تمھیں دیکھ کر کافی کا دل ہورہا میں ابھی آیا !۔”
وہ خود کو ہزار دفعہ کوستے ہوئے وہ باہر نکلا اور ہما اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی پھر کندھے اچکاتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
“ہاں جی تو مس ہما کہاں جانا ہے آپ کو ؟۔”
زلینن نے کار اسلام آباد ہائے وے کی طرف لیکر گیا جب چہرے موڑتے ہوئے ہما سے پوچھنے لگا
“ام مجھے وہاں جانا ہے پتا نہیں کیا نام ہے اس کا ۔”
“ہاں بولے کیا یاد کریں گی آپ زلینن زولفیقار آپ کو آج کہی لیکر جائے گا جہاں آپ چاہیے ۔”
وہ مسکرا کر موڑ کاٹتے ہوئے بولا
“نام تھا ہاں یاد لنڈی بازار !مجھے وہاں جانا ہے ۔”
زلینن پہلے اسے دیکھتا رہا وہ بھی حیرت سے اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑا
“سب سے پہلے بات وہ لنڈی نہیں او گاڈ ہاہاہا لنڈا ہوتا ہے یا سمپلی ایل مارکٹ دوسرا پورے اسلام آباد میں سینٹورس سفا مال کو چھوڑ کر آپ وہاں جانا چاہتی ہیں اور ویسے بھی باہر کی چیزیں ملی گی ۔”
“آپ لیکر جارہے ہیں کے نہیں ویسے بھی سُنا وہاں بہت سستی اور اچھی چیزیں ملتی ہیں ڈیکوریشن پیسس کارپٹس رگز اور سبزیاں بھی ضروری بندہ کپڑے لینے ہی جائے اور اگر آپ اجازت دیں زلینن میں چاہتی ہوں میں آپ کا سکول اپنے ہاتھ سے ریینیوٹ کرو کچھ کرنا چاہتی ہوں جب تک میری یونی نہیں سٹارٹ ہوجاتی آگر آپ اجازت دیں دوسرا دیکھنا پھر کیسا آپ کا ایمج کلیر ہوگا اور پھر بچوں سے بھرا ہوگا سکول ۔”
زلینن نے بے حد پیار سے اس کو دیکھا
“ہاں کیوں نہیں ضرور داٹس دا سپرٹ ! میں تو کہنے والا تھا لیکن ابھی غم تھا نانو کو کہنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔”
ہما کی مسکراہٹ غائب ہوگئی
“اب جانے والے پہ صبر کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے ۔”
وہ اداسی سے بولی
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
ایل مارکٹ میں اس وقت رش کم تھا کیونکہ عموماً چھٹی والے دن زیادہ رش پایا جاتا تھا
ہما اردگرد ہر چیز کو دیکھ رہی تھی اور ہر دُکان کا مالک
“دو دو سو بیس بیس روپے ۔”کا نعرہ لگا رہا تھا تاکہ گاہگ کو اپنی طرف متوجہ کر سکے
ہما کی ہنسی چھوٹ گئی
“کیا ہوا ۔”
“یہ کیسے بول رہے ہیں ۔”
زلینن بھی مسکرا پڑا
“کام ہے ان کا ۔”
وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا ،وہ کپڑے کی دُکان چھوڑ کر کارپٹس والی جگہ گئی اور لال رنگ کا خوبصورت آفغانی کارپٹ دیکھ کر ہما کی آنکھیں چندھیاں گئی
“زلینن یہ دیکھے کتنا خوبصورت ہے ۔”
زلینن دیکھ رہا تھا کب کسی فورس نے اسے کھینچا
اس نے مڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا زلینن نے اردگرد نظریں دوڑائی ضرور جزلان کمینہ ہوگا ایک بار نظر تو آئے پھر بتاتا ہے اس کو ۔
وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا جب ہما نے دو کارپٹس پسند کر لیے
“یہ دیکھیے اچھے ہے نا ایک تو میں نے انڑنس کے لیے اور دوسرا اپنے روم کے لیے ۔”
“اچھے ہیں ۔”
“ہم باقی چیزیں دیکھ کر آتے ہیں تب انھیں اُٹھا لے گئے بہت ہیوی ہے نا ۔”
“ٹھیک ہے ۔”
وہ چلنے لگی جب زلینن کی کسی کی ساتھ ٹکر ہوئی اور وہ آگئے چلنے لگا جب مڑا تو بچی گر گئی تھی
“ایک منٹ ہما ۔”
وہ واپس آیا اور اس بچی کی ہلیپ کی
“سوری بیٹا ۔”
وہ بچی پہلے رونے والی ہوگی لیکن زلینن کی نرم مسکراہٹ کو دیکھ کر بولی
“اٹس اوکے انکل !۔”
ہما کو لگا تھا جن سے زلینن اس کی زندگی میں آیا مسکراہٹ کھبی اس کے چہرے سے الگ نہیں ہوئی اتنا اچھا اور پیارا انسان ۔
وہ اُٹھ کر مڑا ہی تھا ہما کے پیچھے دیکھا وہی گروپ کے لڑکے ساتھ تین چار نئی پارٹی تھی
“ایس پی صاحب بھول گئے ۔”
ہما بھی زلینن کی نظروں اور آواز پہ تیزی سے مڑی

ہما مڑی تو اس کو انھیں لڑکوں کو دیکھ کر جھٹکا لگا ایک میں سے زخمی کھڑا انھیں اشارہ کررہا تھا کے یہی لوگ ہیں ،ہما مے جلدی سے زلنین کو دیکھا جو بالکل سپاٹ نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا پھر ہما کو دیکھا کے اب بتاو ان بُرے لوگوں کے ساتھ کیا کرو ہما نے شرمندگی سے نظریں ہٹا لی
“ہاں ایس پی صاحب آج تو تیرا پولیس سٹیشن بھی پاس نہیں ہے اب تو کیا کریں گا ۔”
ہما جلدی سے زُلنین کے پیچھے آئی ،تھیں تو ازل سے ڈرپوک کون کہتا کے وہی بہادر ہما ہے جو لوگوں سے آنکھ ملا کر بنا کسی کے خوف کے بات کرتی تھی لیکن اچانک زُلنین کی وجہ سے پتا نہیں خود کو کیوں کمزور سمجھنے لگی زُلنین نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے سامنے لایا
“ویری گُڈ مجھے ہر چیز کا درس دیں کر خود ہی میرے چھپ گئی ،ہما اب تمھارے ساتھ کوئی نہیں ہے میں بھی نہیں یہ سمجھ لو گی خود کو تم مضبوط کرو گی تمھیں بہادر بنا پڑیں گا ان بھیڑیوں کو اپنے پیروں تلے خود روندوں گی ۔” کوئی بھاگتے ہوئے ہاکی زُلنین کے پیچھے مارنے کے لیے آیا تو ہما چیخنے لگی اس سے پہلے زُلنین کو لگتی زلینن نے مڑ کر ہاکی پکڑی اور یہ پھینک کر ایک تھپڑ مارا اس کا ایک ہی تھپڑ ہی کافی تھا تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا
“مجھے میری بات کے درمیان آنے والے لوگوں سے نفرت ہے اس لیے مائینڈ اٹ ۔”
ہما نے دہل کر اپنے دل پہ ہاتھ رکھ لیا اور صرف ہما نے اردگرد دیکھنے والے لوگوں نے بھی
“زُلنین پلیز کام ڈاون ۔”
ہما اس کے سامنے آئی اور اس نے زُلنین کا ہاتھ پکڑ لیا
“چلے دیکھے ہم کوئی لڑائی نہیں چاہیتے آپ پلیز ان کو ہوسپیٹل لیے جائے ۔”
وہ کہتے ہوئے تیزی سے زُلنین کو اشارہ کرنے لگی اور زلینن آنکھیں گھماتا ہوا اسے دیکھنے لگا جو اسے بہادر بنانے کی کوشش کررہا تھا اور وہ ڈرپوکو کی طرح بھاگ رہی تھی پھر بھی اس کی خاطر چُپ ہوگیا
وہ مڑنے لگا جب کسی نے کھینچا یہ کیا ہورہا ہے کون اسے کھینچ رہا ہے وہ مڑا تو وہ لوگ غائب ہوگئے تھے مطلب اتنی آسانی سے چلے گئے اسے شک کی گھنٹی بجی
“زُلنین !!!”
ہما کی چیخ پر وہ مڑا تو دیکھا اس میں سے ایک نے ہما کو پکڑا تھا اور چھڑی گردن پہ رکھی تھی زُلنین کو تو آگ ہی لگ گئی ۔
“تم لوگوں کو ضرور آج اپنا جنازہ پڑھوانے کا شوق ہے ؟۔”
وہ اب اپنے اصلی روپ میں آرہا تھا
“جنازہ تو تیری محبوبہ کا ہوگا ایس پی ۔”
ہما کا چہرہ سفید ہوگیا لیکن ایک بات اسے نانو کی یاد آئی تھی
“جب انسان خود کو بے بس اور مجبور محسوس کریں جب اس کے پاس کوئی نہ ہو تو وہ اپنے رب کو پکارے بیشک وہ سُنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے ۔”
اور اس وقت ہما نے شدت سے اپنے رب کو پکارا تھا
اچانک اس کا دماغ کام کیا اس نے اپنی ساری ہمت جمع کی اور اپنا پیر اُٹھا کر زور سے اس بندے کے پیر پہ مارا اور کہُنی اس کے پیٹ پہ ماری وہ بندہ ایک دم چیختے ہوئے درد سے پیچھے ہوا ہما نے رکھ کر اس کے منہ پہ زُلنین جتنی طاقت کے برابر تھپڑ مارا اسے سمجھ نہیں آئی یہ ہوا کیا ہے زُلنین کو بھی جھٹکا لگا یہ سب وہ بھی تو ہما سے کروانے لگا تھا تو یہ کون ہے ہما کے آنکھیں آگ رنگ کی برابر ہوگئی جو کسی اور کی بھی ہوا کرتی تھی اس نے جلدی سے ایک کی گردن پکڑی جس سے ایک کا چہرہ نیلا ہوگیا سارے لوگ ہما کی اس حالت پہ خوف کھانے لگے زُلنین۔ بھاگتے ہوئے آیا لیکن ہما نے اس دھکا دیا
“ہما !۔”وہ یقینن ایک کی انتھے باہر نکال دیتی کے زُلنین نے پکڑ کر کھینچا کے اس سے پہلے کوئی اقر بندہ اس کے سامنے آیا مارنے آج تو لگتا تھا پورے ایل مارکٹ میں
فائٹنگ شو ہے یا ڈبلیو ڈبلیو ڈی ریسل مینیا ہے کچھ لوگ تو ویڈیو بنانے لگے اور کچھ تو پریشانی سے بھاگے
کے بھاگو زُلنین اسے مارنے لگا لیکن ہما نے پتا نہیں کہاں سے ڈنڈا برآمد کیا اور زُلنین کا ہاتھ پکڑا
“بھاگے ایس پی صاحب !۔”
وہ کھکھلائی زُلنین ابھی تک حیرت میں تھی اس ڈرپوک لڑکی کو اچانک اتنی طاقت کہاں سے آگئی
“واہ میڈیم مجھ منع کر کے خود بروس لی بنی ہوئی تھی کیا مارا ہے ایک دن میں ٹرینگ لے لی کیا ؟۔”
“پتا نہیں بھاگے اس سے پہلے وہ آجائے اب اتنی طاقت نہیں ہے مجھ میں ۔”
وہ ہنس پڑا
“یار میں تو پولیس والا ہوں پہلا کوئی پولیس والا ہے جو کسی مجرم سے بھاگ رہا ہے ۔”
“یہی تو ایڈونچر ہے ۔”
وہ کھکلاتے ہوئے بولی
“کہی یہ تمھارا ایڈونچر مجھے مار ہی نہ دیں ہما !”
“ارے اتنی جلدی آپ نہیں مرنے والے ۔”
وہ جگہ دیکھ رہی تھی اور زُلنین اسی میں کھویا ہوا تھا وہ واقی اپنے بنا پاور کے اس کے ساتھ ایسی ہی لائف گزارنا چاہتا تھا
“مجھے تو اصولا آپ کو جیل بھجوانا چاہیے آپ نے اس بچارے کو لہولان کردیا ۔”
“یہ پاکستان ہے یہاں جیل کرپٹ اور بُرے لوگ نہیں جاتے اگر جاتے بھی ہیں تو جلدی نکل جاتے ہیں ۔”
“اچھا ! میرے لیے نئی انفورمیشن ہے ۔”
“آئیڈیا زُلنین مجھے جیل میں گھساو میں بھی دیکھوں ایک مجرم کی زندگی کیسی ہوتی ہے اور انصاف تو ملنا چاہیے ۔”
وہ ایک جگہ روک کر گہرا سانس لیتے ہوئے زُلنین کو بولی اور زُلنین اس جھلی کو دیکھنے لگا جس کی خواہش بڑی عجیب و غریب تھی۔
“کیا ؟۔”
“ہاں نا ۔”
“مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔”
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“کہاں ہے تمھاری ہتھکڑی ؟۔”
وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی کھکھلائی
“ارے زُلنین یہ تم تین تین کیوں لگ رہے ہو ؟۔
اسے نے ہما کا بازو رکھ پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اسے کچھ گڑبڑ لگی لیکن ہما اس سے پہلے آنکھیں بند کر کے اس کے باہوں میں جھول گئی ۔
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
امریکہ میں اس وقت صحیح ٹہر ٹہرا دینے والی سردی تھی ہر طرف برف جمی ہوئی تھی ایسے میں نکلنا لوگ کا محال ہوجاتا لیکن پھر بھی طرقی کے دور میں ہر ایک مجبوری تھی اسی طرح سردی کی صبح میں کوئی چلتا ہوا قبرستان کے اندر داخل ہوا اس کے قدموں کے چاب سے پتے نہیں ہلے تھے نہ ہی اس کی موجودگی کا کسی کو احساس تھا آج اس کی آگ رنگ جن میں سے شعلے پھوٹتے تھے بالکل بُجھی ہوئی تھی اور چہرے پہ زمانوں بھر کی تھکن تھی وہ خوبصورت ترین جن اس وقت ایک ہارا ہوا اور بے حد بوڑھا معلوم ہورہا تھا چلتے چلتے اس کے قدم برف سے ڈھکی قبر کی طرف آیا جو وہ جانتا تھا کس کی تھی , وہ سائڈ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا اپنے ہاتھوں سے اس برف کو ہٹانے لگا چہرہ پہ درد سا آگیا تھا ۔ پھر اس نے نام دیکھا جو انگریزی الفاظ میں لکھا گیا تھا
“شفق فہیم ۔”
فائیق اسے نام کو بار بار چھوا جیسے وہ شفق کو چھو رہا ہو
“اسلام و علیکم کیسے ہو شفی !۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے بولا کہتے ہیں کے انسان جب بھی کسی کے قبر میں آتا ہے اس سے بات کرتا ہے تو مرنے والا اس کے سُنتا تو کیا کسی جن کی پکار کوئی انسان سُن پائے گا
“شفق کیا تم مجھے سُن سکتی ہو کیا تمھیں میری آواز آرہی ۔”
پہلے وہ بے چینی سے بولا پھر بولتے ہوئے دُکھ سے ہنس پڑا
“میں پاگل بچوں جیسے سوال کررہا ہوں خیر اُمید کرتا ہوں تم بہت پُرسکون جگہ پہ ہوں تمھیں تنگ کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے لیکن شفی ایک دفعہ تو تکلیف میں مجھے پکارتی میں نے آجانا تھا پر تمھیں بھی لگا تمھاری ماں کی ہی جیت ہونی ہے صحیح کہا وہ جیت ہی تو گئی سب سے بڑی جیت ان کا تمھیں مجھ سے الگ کرنا تھا ۔”
وہ کہتے ہوئے ایک دم خاموش ہوگیا
“تمھیں پھولوں سے سخت چڑ تھی سواے روزز کے لیکن جب سے تم مجھ سے الگ ہوئی سارے گلاب سیاہ ہوگئے شفی میرے گھر میں موجود سارے گلاب جنھیں میں نے اور تم نے بے حد پیار سے لگائے تھے سیاہی ان کا مقدر ہوگئی اور اب میں روزز کو ہاتھ لگاتا ہوں تو وہ سیاہ ہوجاتے ہیں اس لیے میں صرف کنول ہی لاسکا یاد ہے کنول اور اس دن کا ہولناک واقع خیر چھوڑو ہما تو واقی تمھاری طرح نکلی ویسے ہی آنکھیں ویسے ہی چہرہ اور تم نے جان بوجھ کر اس کو بال نہیں بڑھانے دیں کے کہی میری طرح کوئی اس پہ عاشق نہ ہوجائے تو آپ کو ناکامی ہوئی کیونکہ میرے بھتیجے صاحب زُلنین صاحب ہما کی عشق میں گرفتار ہوچکے ہیں اب کیا ہوگا ۔”
وہ بولتے بولتے ایک دم چُپ ہوگیا واقی اب کیا ہوگا
کیا وہی تاریخ دھُرائی جائے گی ؟
یا پھر وہ ایک دوسرے کے ایک ہوجائے گے ؟
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
ہما کی آنکھیں کھلی تو اس نے خود کو کار کی سیٹ پہ ہی پایا اس نے موڑ کر دیکھا زُلنین اسے ہی دیکھ رہا تھا ہما کو اپنا سر بھاری محسوس ہورہا تھا
“زُلنین !۔”
“یہ لے پانی کی بوتل اتنا مارا لڑکوں کو کے ساری توانائی اس میں ضائع کردیں ۔”
“مجھے کیا ہوا تھا ۔”
“آپ کو ڈیزینس ہوئی پھر آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگی اس کے بعد آپ فینٹ یانی بیہوش ہوگئی حتاکہ آپ کو کہی بھی نہیں لگی تھی لیکن سائنس کے مطابق مارتے وقت آپ میں چودہ سو کلو جولز ویسٹ ۔
“افوہ چُپ کریں آئینسٹائین کی اولاد ۔”
وہ جھنجھلاتے کر پانی پیتے ہوئے بولی
“میرے ابو سائینٹسٹ تھے ۔”
“جبھی نیوکلیر بم بیٹے کے صورت بنا دیا ۔”
وہ ہنسنے لگا
“فنی !۔”
“ہم کہاں ہے اس وقت ۔”
“ہم اس وقت مارگلہ کے پہاڑ میں ہے جہاں سے ایک سلار سکندر برآمد ہوگا اور وہ ہمیں ڈنر کروائے گا اچھا خاصا پیسے والا ہے ۔”
“توبہ آپ تو اس تک کو بھی جانتے ہیں ۔”
“اس کو کون نہیں جانتا اور میری ماما پویٹس تھی ناولز اور شاعری کی دیوانی مجھے بار بار پُرزور سے انسانوں کی لکھت بیٹھ کے سُناتی اور ویسے بھی محترمہ میں لٹریچر کا سٹوڈنٹ تھا میں نے بہت پڑھے ہیں ۔”
“خیر اس وقت ہم مونال ہیں اور یہ اچھا انسان آپ کو اچھا سا کھانا کھلائے گا ۔”
“میں نے تو ابھی تک چیزیں ہی نہیں لی اور دیکھا بھی نہیں اور میرے کارپٹ ۔”
“کارپٹ آپ کے گھر میں کل آجائے گے اور دوسرا پھر کھبی چلے جائے گے واٹس دا بگ ڈیل چلو شاباش توبہ پہلی لڑکی کو ایل مارکٹ کا اتنا شوق ۔”
ہما نے اسے گھورا اور سردرد کو اگنور کر کے اُٹھی کوئی بہت ہی نفرت سے پیچھے بیٹھا ہما کو دیکھ رہا تھا اور اچانک تیزی سے بیک سیٹ پہ زور دار ناخُن مارا جس سے لیدر اکھڑ گیا

کوئی آس پاس تھا میرے
سب کو خبر تھی
بس مجھے کو نہیں معلوم
کوئی آس پاس تھا میرے
میں بے خبر سی
(ثمرین شاہ )
مونال کے ریسٹورنٹ میں وہ اس کے ساتھ اندر آئی سڑھیوں سے اُترتے ہوئے اسے عجیب سا سر درد ہورہا تھا جیسے وہ اگر سوئے گی نہیں تو اس کا درد ٹھیک نہیں ہوگا ریلنگ کو تھامے وہ زُلنین کی پیچھی تھی جو نیچے تقریباً پہنچنے والا تھا ,جب وہ مڑا تو دیکھا ہما بہت آہستہ آہستہ نیچے آرہی تھی ۔
“کیا ہوا ابھی تک نیند چڑھی ہوئی ہے ۔”
اس نے سڑھیوں پہ ایک قدم رکھا فورن دس قدم پھلانکتے ہوئے وہ ہما کے پاس پہنچا ہما نے دھیان ہی نہیں دیا ۔ لیکن وہ کھڑے آنکھیں مسلتے ہوئے مڑ کر دور ہی روشنی سے نہائے شہر کو دیکھنے لگی ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی جہاز پہ بیٹھی ہو اور نیچے پوری دُنیا کے رنگ کو اپنے آنکھوں میں سموئے وہ اپنی ہی ونڈر لینڈ میں چلی گئی ہو
زُلنین نے اسے دیکھا وہ کہی کھو چکی تھی شاہد اپنی سوچوں کی دُنیا میں چلی گئی ہو اس کی بالوں کی لٹ ہوا کو چھوٹی اس کے نرم گالوں پہ کلوک وائز کی طرح کھبی اِدھر کھبی اُدھر زُلنین نے انھیں چھونا چاہا لیکن اپنے جزبات کو لگام دیں کر وہ نظر اس طرف کرچکا تھا
لیکن وہ لٹے اسے بے چین کررہی تھی ۔
“اگر یہ مومنٹ اتنا اچھا لگ رہا ہے تو نیچے چلو اس سے زیادہ قریب سے دکھاؤں گا اور کمیرہ بھی مقید کرلینا وہاں پیکس زیادہ اچھی آئے گی ۔”
وہ سر ہلا کر اس کے ساتھ نیچے اُترنے لگی آنکھیں بار بار بند ہورہی تھی اس نے اپنی آنکھوں کو دوبارہ مسلا لگتا ہے منہ دھونا پڑیں گا تب جاکر کچھ بہتر ہوگا ۔
“زُلنین !۔”
“ہاں !۔”
“وہ میں کہنا چارہی تھی واشروم کس طرف ہے ۔”وہ اس طرف آئے جہاں ٹیبل آڈر کروانے والا بندہ سڑھیوں کے قریب کھڑا زُلنین کے کہنے کا منتظر تھا پھر وہ دوسرے بندے کی طرف متوجہ ہوگیا جب زُلنین ہما کے پاس آیا
“وہ سامنے ہے میں تمھارا انتظار کررہا ہوں ۔”
“ضرورت نہیں ہے تم ٹیبیل آڈر کرو میں آجاوں گی ۔”
وہ کہتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھی واش روم میں چند عورتیں جو ہاتھ دھو کر اپنے آپ کو آئینے میں غور سے دیکھ رہی تھی کہی ان کا میک آپ تو نہیں خراب ہوگیا ہما ایک سائڈ پہ ہوکر ان کا نکلنے کا یا کم سے کم تھوڑا سا سائڈ پہ ہونے کا انتظار کررہی تھی لیکن یا تو لگتا تھا پارلر کھل چکا تھا میک آپ بال برش ہونے لگے تو اس نے سوچا واش روم استمعال کر لیتے ہیں واش روم کا دروازہ کھول کر وئ اندر گھس گئی جب اسے یقین ہوگیا وہ اب چلی گئی ہوگی تو دروازہ کھولا تو واقی کوئی نہیں تھا شُکر کا سانس لیتے ہوئے وہ ٹیپ آن کرنے لگی اور سب سے پہلے ہینڈ واش سے ہاتھ دھوئے اس کے پانی ہاتھوں کے پیالے میں پانی بھرا اور میں مارا اس نے نظر شیشے میں دیکھا تو ماما کھڑی تھی لیکن ماما کی آنکھیں پوری سال تھی جب گردن پہ عجیب سے زخم تھے ہما نے منہ پہ ہاتھ رکھتے دیوار سے ٹیگ لگائی
“تمھیں شرم نہیں آئی نانی کے مارنے کے بعد کسی غیر کے ساتھ رنگ ریلیاں منانے لگی ۔”
آواز تو ماما کی تھی لیکن ہما کو خوف میں کچھ سمجھ نہیں آئی
“ماما آپ !۔”
“مت لو میرا نام زرا سا بھی شرم آتی تمھیں ۔”
ان کا جسم اُدھر ہی تھا اور وہ بول نہیں رہی تھی آگ اُگل رہی تھی
“ماما وہ میرا دوست ہے ماما آپ اور نانو نے بے وفائی ۔”
وہ ڈر بھی رہی تھی لیکن ناجانے کیوں واضحت کررہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے ماما کو واقی تکلیف پہنچی ہو
“دوست بیوفوف سمجھا ہے مجھے میری تربیت تم نے داغ لگادیں میں تمھیں کھبی معاف نہیں کرو گی ہما ۔”
ایک دم سایہ غائب ہوا
“ماما ماما پلیز بات سُنے ۔”
وہ رونے لگی اچانک ہما کی آنکھیں کھلی وہ ابھی تک اسے شیشے کو دیکھ رہی تھی پیچھے سے چہرہ پانے کے ساتھ ساتھ پیسنے سے شرابو ہوگیا ,کیا واقی اس نے زُلنین کے ساتھ آکر گناہ کیا ہے کیا واقی لیکن اس نے تو کچھ غلط کام نہیں کیا تو کیوں ماما ایسے کہہ گئی اور پہلی بات ماما آئی کیسے مرنے والے دوبارہ کیسے آسکتے ہیں
اس کا کوٹ میں موجود فون بج اُٹھا اس نے نکالا دیکھا تو زُلنین کا تھا کافی دیر ہوگی تھی وہ بیچارا انتظار کررہا ہوگا اس نے اُٹھایا
“ہلیو !۔”
“ہما ٹھیک ہو کتنی دیر لگا دیں ہے سب خیریت ہے نا ؟۔
وہ پریشانی سے پوچھنے لگا
“ہاں وہ دیر ہوگی آرہی ہوں ۔”
وہ تیزی سے فون رکھ کر دوبارہ اس طرف دیکھنے لگی جہاں اس کی ماما کھڑی تھی
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
میرے عشق پر پتھر بھی پگھل گئے
مگر اس کا دل تو سخت فشرہ تھا (ثمرین شاہ )
“یہ لو گھر بھی آگیا ہے اب جاکر نماز پڑھ کر سیدھا سو جاو اگر ڈر لگ رہا ہے تم رُک سکتا ہوں ۔”
وہ بالکل چُپ چُپ سی تھی کھانے کے وقت بھی کچھ نہ بولی زُلنین کو عجیب لگا اور غور غور سے اس کو اندر تک پڑھنے کی کوشش کررہا تھا لیکن آج اسے کچھ پتا کیوں نہیں چل رہا تھا جزلان سے بات کرنی پڑے گی
“نہیں بہت شُکریہ آپ کا آج کا دن تو واقی بہت ہیکٹیک تھا ۔”
“ہاں ہما میڈیم نے مار مار کر ان کا قمیہ بنا دیا تھا ۔”
ہما نکلنے لگی جب اس نے ناسمجھی سے زُلنین کی بات پہ مڑ کر دیکھا
“کیا ؟۔
“ان لڑکوں۔ کو لہولہو کر کے مجھے ہاتھ آگئے کرتی ہے مجھے جیل گھسا دو ۔”
اسے لگا زُلنین مزاق کررہا ہے
“آپ بھی نا ! کیسی باتیں کرتے ہیں ۔”
“میں تو تمھیں دیکھ کر ڈر گیا تھا ۔”
زُلنین ہنستے ہوئے بولا اسے سمجھ نہیں آئی وہ کہہ کیا رہا ہے پھر بھی ہلکہ سا مسکرا کر وہ دروازہ کھل کر نکل پڑی
“صبح آو گا پھر چلے گے سکول ۔”
وہ سر ہلا کر آگئے بڑھ گئے اور زُلنین اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ایک دم اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور وہ گاڑی پوری تیزی سے بھگاتا ہوا ذولفیقار ہاوس پہنچا
وہاں کار روک کر وہ جزلان کے کمرے میں پہنچا وہ وہاں نہیں تھا اس نے اپنی اونچی دھاڑ سے جزلان کو پکارا ان کی ملازمہ میری جین آگئی
“یس سر ۔”
“جازی کہاں ہے ؟۔”
وہ سرد مہری سے پوچھنے لگا ۔
“وہ تو سر کشف بی بی کے ساتھ لاہور گئے ہوئے ہیں ۔”
“اچھا ! یہ اچانک لاہور کا پروگرام کیسے بن گیا ۔”
لہجے میں انتہا کی سرد مہری تھی
“پتا نہیں سر ۔”
وہ زُلنین سے ڈرتی تھی اس لیے گھبڑاتے ہوئے بولی
“ٹھیک ہے تم جاو ۔”
اچانک وہ جزلان کے کمرے نکلا اور اپنے کمرے میں آیا اور دیکھا تو آنکھوں میں خون اُتر آیا پرمیس اس کے بیڈ پہ نیم دراز تھی اور اس نے سفید رنگ کی لمبی سلیولس فراک پہنے وہ بہت خوبصورت جنزادی زُلنین کی پھوپھو کشف کی بیٹی تھی جو یقینن آج جاپان سے واپس آئی تھی وہ بہت بے باکی سے زُلنین کے حُسین چہرے کو دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ سُرخ انگارہ ہوگیا
“میرے کمرے میں کیا کررہی ہوں ۔”
وہ جبڑے بھینچ کر غرایا وہ مسکرا کر رنگی ہونٹوں سے مسکرائی
“اُف مائی ہینڈسم کزن اتنے دنوں بعد آئی ہو اس کا پوچھنے کے بجائے یہ تو نہ پوچھے ۔”
“ایک سکینڈ میں میرے کمرے سے دفع ہوجاو ورنہ اپنی گردن تڑپانے کے لیے تیار ہوجاو ۔”
وہ کڑوے لہجے میں بولا وہ اُٹھی اس کے سامنے آئے زُلنین تیزی سے پیچھے ہوا اس کی آنکھوں میں حقارت تھی
“اُف بدکتے تو ایسے ہو جیسے کوئی چڑیل ہوں تمھاری پھوپھی زاد ہوں زلی ۔”
“شٹ آپ ! تم کسی چڑیل سے بھی کم نہیں ہو میرے قریب مت آیا کرو ۔”
“اچھا ہے میری گردن مڑورتے ہوئے اسے چھوؤں گے تو صحیح ۔”
وہ اس کا لہجہ زُلنین کا دل کریں اس کو کھینچ کر تھپڑ مارے لیکن اس نے آج تک کسی لڑکی پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا
“دیکھو پرمیس یہاں سے ایک سکینڈ نہ نکلی تمھارا حشر کردینا ۔”
“میں حشر ہوجانے کے لیے تیار ہوں لیکن خیر کزن صاحب کے مزاج گرم لگ رہے ہیں اس لیے آج تم بخشا لیکن یہ مت سمجھنا کے تمھارا پیچھا چھوڑ دو گی ۔”
وہ اس فلائنگ کس دیں کر غائب ہوگئی اور زُلنین نے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا
“اُف دل کرتا ہے یہاں سے چلا جاوں اس سے زیادہ پُرسکون تو ہما کا ساتھ ہے۔”
اور وہ سوچتے ہوئے وہاں چلا بھی گیا اور ہما کے کمرے میں آیا جہاں وہ عیشا کی نماز شروع کر چکی تھی
زُلنین اس سفید لمبی سی چادر میں دیکھتے ہوئے کھو گیا اس لیے خود تیزی سے اپنے کمرے میں دوبارہ آیا وضو اور اور کالی شلوار قمیض پہن کر دوبارہ ہما کے پاس آیا اور اس سے تھوڑا آگئے پڑھنے لگا

Related posts

Leave a Comment