Black Rose Episode 5 by Samreen Shah

blacl rose episode 9

Black Rose Episode 4 by Samreen Shah Urdu Novel

Black Rose Episode 5

وہ سلام پھیر چکا جب اسے ہما کی ہچکی سُنائی دیں وہ مڑا تو اس نے دیکھا ہما سجدے کچھ بڑبڑاتے ہوئے رورہی تھی
“امی مجھے کنگہار مت سمجھے امی میں آپ کی تربیت میں کھبی حرف نہیں آنے دوں گی امی زُلنین بھی بہت اچھا ہے امی اتنی پاکیزہ نظریں میں نے کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھی آپ بالکل غلط مت سمجھے ۔”
“اسے کیا ہوا ہے ۔”
زُلنین پریشان ہوگیا وہ مڑا اور اسے دیکھنے لگا اب کیا کریں کچھ سوچا اور اس نے اس کے موبائل پہ بیل بجانا شروع کردیں ہما کے جسم ایک دم رُکا پھر اس نے اُٹھ کر دیکھا زُلنین کو اس کی سُرخ آنکھوں کو دیکھ دل پھسچ گیا پر بے حد تحمل سے بیٹھا اس کو ہی دیکھ رہا تھا جو سسُت قدموں سے فون کی طرف بڑھی نمبر دیکھا زُلنین تھا جس کا نام اس نے بلیو جینز کے نام سے سیو کیا تھا گلے کو نارمل کر کے اس نے فون اُٹھایا
“ہلیو ؟۔”
“اسلام و علیکم یہ تمھاری آواز کو کیا ہوا ہے ۔؟”
زُلنین ایک دم چوکنّے والے انداز میں بولا اور اسے دیکھا رہا تھا جو سامنے پڑا پانی کا گلاس پی رہی تھی
“وعلیکم و سلام کچھ نہیں آپ پانی پیا تو آواز ایسے آرہی تھی آپ بتائیں فون کس لیے کیا ۔”
“ڈر تو نہیں لگ رہا ؟۔”
“ڈر کیوں لگنا ہے ۔”
وہ اپنے سر سے ڈوپٹہ ڈھیلہ کررہی تھی ۔
“ظاہر سی بات ہے اکیلے گھر میں انسان ڈر جاتا ہے ۔”
زُلنین اُٹھتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور وہ بےخبر اسے دھوکہ دیں رہی تھی جب کے اسے خود نہیں معلوم تھا وہ دھوکے کی زد میں ہے ۔
“ڈر تو پھر آپ کو بھی لگنا چاہیے میرا گھر تو پھر عام سا ہے آپ تو اچھے خاصے ہانٹٹ ہاوس میں رہتے ہیں اب بتائیں کیسے رہ لیتے ہیں ۔”
وہ مزے سے بولی زُلنین مسکرا پڑا اور نا محسوس طریقے سے ڈوپٹہ کا کونہ مزید ماتھے پر لیے گیا ہما کو پتا نہیں چلا
“اپنے گھر میں کیسا ڈر ۔”
“دُرست اپنے گھر میں کیسا ڈر زُلنین جب مقدر میں ہی تنہائی لکھی ہے تو مقدر سے لڑنے کے بجائے اس قبول کرلینا چاہیے کیونکہ تقدیر نے بڑی سُن لینی ہے ہماری ۔”
وہ اُداسی سے بولی
“اتنی مایوسی ! اور تقدیر کون سی سُنتا ہے سُنے والا تو اوپر کی ذات ہے اس سے جو بولو گی تو وہ کیوں نہیں مدد کریں گا بیشک وہ رحم کرنے والا ہے ۔”
“پتا نہیں زُلنین مجھے لگتا ہے جیسے میں بہت گنہگار ہوں اب دیکھ لو تم سے اتنی رات کو بات کررہی ہوں حالانکہ ہم کوئی غلط بات یا حرکت نہیں کررہے لیکن پھر بھی تم میرے نامحرم ہو اور اللّٰلہ نامحرم سے آنکھ ملانے کی اجازت نہیں دیتا کجا کے بات اور گھومنا ۔”
زُلنین ایک دم خاموش ہوگیا اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا کہتا بھی تو کیا سچ تھا اور سچ بڑا ہی کڑوا ثابت ہوا تھا ۔
“تمھیں اچانک کیا ہوا ہے ہما سب ٹھیک تو ہے نا ؟۔”
“پتا نہیں ایسا لگتا ہے یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔”
وہ تھکے انداز میں اب اپنے بیڈ پہ بیٹھ گئی اور زُلنین اس کے ساتھ تھوڑے فاصلے پہ بیٹھا اس کے تھکے چہرے کو دیکھ رہا تھا
“زیادہ سوچنا بھی اچھا نہیں سر میں درد کے ساتھ فضول سوچے آئے گی فضول مت سوچو صبح تیار ہوجانا پھر سکول جاکر ڈسکشن کریں گی دوست کے ناطے اب تم میری کو ۔ورکر اور سٹاف کا حصہ ہو ۔”
ہما خاموشی رہی پھر اس طرف دیکھنے لگی جہاں زُلنین اسے ہی دیکھ رہا تھا ایک منٹ کے لیے زُلنین کو لگا کے وہ اسے ہی دیکھ رہی ہے لیکن زُلنین نے مڑ کر دیکھا وہاں ہما اور نانو کی تصویر تھی
“مگر ۔”
“تم تھکی ہوئی لگ رہی آج طبیعت بھی صحیح نہیں لگ رہی اپنے آنکھیں بند کرو اور سو جاو ۔”
“فون کھول کر !۔”
زُلنین مسکرا پڑا
“نہیں مجھ مسکین کا بیلنس ختم ہوجائیں گا ۔” وہ ہولے سے ہنس پڑی
“ایک گاڑی آپ کی پانچ کڑور کی ہے گھر اب کا عربوں کا ہوگا اور بیلنس ختم ہونے کا غم ۔”
“وہ کیا ہے ہم پولیس والے تھوڑے کنجوس ہیں کنجوسی نہ کریں تو اتنی دولت کہاں سے آئے ۔”
“ہاں بہت پیسے ہے آپ کے پاس آپ جیسے دوست کا تو فائدہ اُٹھانا چاہیے پہلے دوست ملا ہے وہ بھی امیر اور میں پاگلوں کی طرح آپ سے لڑتی ہوں ۔”
“میری نہیں قدر آپ کو میری دولت کی قدر ہے ۔”
“کیا کریں مڑیلیسٹک دُنیا میں رہتی ہوں تو اس لیے ۔”
“اچھا محترمہ سو جائیں اب مجھے بھی بڑی نیند آرہی ہے آپ فارغ عواموں کی خدمت میں حاضر ہونا ہے ۔”
ہما نے گھوری فون کو نوازی
“اللّٰلہ حافظ !۔”
واقی ہما کو نیند آرہی تھی اس لیے اس نے فون بند کردیا ۔اور بیڈ پہ جاکر لیٹ گئی تھی
کمبل اوڑھ کر سو گئی اور زُلنین اسے دیکھنے لگا
********************
“آپ مان کیوں نہیں جاتے نانا ابا ۔”
پرمیس نے ان کے ہاتھ پیار سے پکڑے اور منت بھری نظروں سے دیکھا
“زُلنین نے ہمیشہ اپنی ہی کی ہے پرمیس وہ کسی کی نہیں سُنے گا پہلے اس کے تعلقات سب سے خراب ہے سوائے میرے اب تم چاہتی ہو میرے سے بھی خراب ہو ۔”
“لیکن نانا ابا ۔”
“لیکن ویکن کچھ نہیں تم اگر کسی اور کی بات کرتی تو میں بالکل انکار نہیں کرتا لیکن زُلنین اور فائیق ایسی شہہ ہیں جن سے میں نہیں پنگا لے سکتا ۔”
پرمیس نے منہ بنایا اور بولی
“آپ سے چھوٹے ہیں دونوں اور آپ ان سے ڈرتے ہیں ۔”
زولفیقار دادا نے اسے گھورا
“ڈرتا تو میں کسی کے باپ سے نہیں لیکن وہ دونوں پہلے ہی گھر کم آتے ہیں میری سختی کے بعد ہمیشہ کے لیے غائب ہوجائیں گے ۔”
“او ہو نانا ابا اویں خوامخواہ آپ ایک دفعہ بات کر کے تو دیکھیں ۔”
“مجھے یقین ہے وہ انکار کریں گا اور بڑے دھڑلے سے کریں ۔”
“آخر کب کریں گا وہ ایسی کون سی لڑکی چاہیے کہی یہ بھی تو فائیق ماموں کی طرح کسی انسان کے عشق میں تو نہیں چلا گیا ۔”
زولفیقار دادا ٹھٹکے
“اللّٰلہ نہ کریں اسے کسی انسان سے محبت ہو ۔”
“کیا پتا نانا ابا لیکن آپ اس پہ نظر رکھے پھر دوسرے فائیق زولفیقار نہ آجائیں ۔”
وہ آگ لگانے میں ماہر تھی اور اس نے اس بار بھی آگ لگائی تھی ۔
زولفیقار دادا کے تاثرات عجیب سے ہوگئے ان کی پُرسوچ نظریں فائیق کی تصویر پہ تھی جہاں وہ بیس سال پہلے بالکل زُلنین کی کاپی تھا فرق صرف یہ تھا وہ زُلنین کی طرح اس وقت کرخت مزاج نہیں تھا اس کے خوبصورت چہرے میں کسی قسم کا غم نہیں تھا اس کی آنکھیں روشن تھی اور اس کی آنکھوں میں شفق فہمیم کا عکس نظر آتا تھا
********************
مجھے وہ موم سی گڑیا
اندر سے پتھر لگی تھی
لیکن میں جانتا تھا
یہ اس کی مجبوری تھی
پر یہ اس کی مجبوری
مجھے اندر سے مار رہی تھی
(ثمرین شاہ )
وہ بریڈ پہ پینٹ بٹر لگا رہی تھی جب دروازے پہ دستک ہوئی ۔ وہ دروازے کی طرف جانے لگی جب ایک سکینڈ کے لیے رُکی
اس نے مڑ کر دیکھا جیسے ڈرائینگ روم کے بڑے سے آئینے میں اس نے لال انچل دیکھا تھا اور وہ بھی اڑُتے ہوئے
وہ دروازے کو بھول کر وہاں گئی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا شیشے کے قریب آئی لیکن بیل کی آواز پہ اس مڑنا پڑا کے اچانک پازیب کی آواز آئی پائل کی ساز پہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی جب اچانک کسی زور دار دروازے کی بند ہونے کی آواز آئی وہ ڈر کر اچھلی منہ پہ ہاتھ رکھ وہ تیزی سے بھاگی کے دوسرے دروازہ بند ہونے کی وہ بھی خاصی فورس سے آئی آپ تو اس کو سچ مچ یقین ہوگیا کے کچھ ہے وہ جلدی سے مین دروازے کی طرف پہنچی کے ایک دم کسی چیز اس کے پیروں میں آئی دیکھا تو پائل تھی لیکن ساتھ خون لگنے پر ہما پوری فورس سے دروازے کی طرف بھاگی جہاں زُلنین ہما کو فون کرنے لگا تھا جب اچانک ہما روتے ہوئے بھاگ کر اس کے پاس آئی اور اس سے لگ کر رونے لگی زُلنین ایک دم گھبڑا گیا
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔”
“پلیز مجھے یہاں سے لیے جاو مجھے نہیں رہنا وہ خون ۔”
وہ گھٹی ہوئی آواز میں بولی
زُلنین نے اس الگ کیا اور اس کا گیلا چہرہ اپنے سامنے کیا
“اِدھر دیکھو ہما کیا ہوا ۔”
وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا
“زُلنین پلیز پلیز وہاں خون ہے اور پائل کی آواز ۔”
اس کا جسم خود سے ٹھنڈا ہوگیا تھا
“میں اندر جاکر دیکھتا ہوں ۔”
وہ جانے لگا ہما نے اس کا بازو پکڑا
“نہیں ! پلیز مت جاو پلیز ۔”
“دیکھنے تو دو مجھے دو دن سے تم ڈر رہی ہو کیا بات ہے مجھے بتاو آو اندر چلو ایسے ہی بھاگ آئی سویٹر بھی نہیں پہنی آو۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لیکر گیا وہ اس وقت وردی میں ہی ملبوس تھا اور ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا ۔
وہ مزید زُلنین کے ساتھ چپکی اس وقت اسے صحیح غلط کی پروا نہیں تھی اب جو بھی تھا اس کا زُلنین ہی تھا اور آج اس نے دل سے یا خوف سے مانا تھا لیکن مان لیا تھا زُلنین اندر آیا
“وہاں سامنے پڑی ہے پائل ۔”
“کون سی پائل ۔”
“یہ تمھارے آگئے ۔” وہ دیکھ نہیں رہی تھی اس کے پُشت پہ ہوئی بولی اچانک دروازہ پھر زور سے بند ہوا وہ پھر زُلنین کی جیکٹ تھام کر بولی
“دیکھا دیکھا وہ دروازے کی آوازیں زُلنین پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا سب مجھے اکیلہ چھوڑ گئے پلیز مجھے یہاں سے نکالوں ۔”
“ریلکس اِدھر دیکھو میری طرف ۔”
ہما سامنے آئی زُلنین کی کہنے پہ اس نے سر اُٹھایا
“سب چھوڑ گئے زُلنین کسی کو بھی پروا نہیں ہے میری کچھ تو خیال کرتے میں کتنی اکیلی ہوگئی ہو ۔”
“تم اکیلی نہیں ہو ہما میں تمھارے ساتھ ہو چاہیے پوری دُنیا تمھیں چھوڑ دیں میں تمھیں کھبی نہیں چھوڑوں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے اب اِدھر آو۔”
وہ اس کی یقین پر رُک گی ٹہر کر اس شخص کو دیکھنے لگی سپارک تھا وہ واقی ایک سپارک تھا جو اس کی زندگی میں نہیں روح میں روشنی بکھیر چکا تھا
اچانک پھر دروازے بند ہوا وہ پھر ڈر گئی وہ پھر باہر جانے لگی
“اِدھر آو ڈرپوک لڑکی حد ہوگئی کل گنڈوں کا حشر کردیا اب اتنی سی آواز پہ گھبڑا رہی ہو ضرور یہ بیسمنٹ کا دروازہ ہے جو ہوا کے باعث زور سے بند ہورہا ہو ۔”
وہ اس کا ہاتھ کھینچ کر آگئے بڑھا اور دیکھا تو وہ واقی ہوا کے باعث بار بار بند ہورہا تھا لیکن اتنی فورس زُلنین نے سینس کرنا چاہا کے کوئی ہے ضرور ہے جو اسے تنگ کررہا ہے ۔
“ناشتہ کیا تم نے ۔”
وہ لب بھینچ کر جزلان کو سگنل دیں چکا تھا پھر ہما کی طرف بولا ہما نے نفی میں سر ہلایا
“جاو جیکٹ پہن کر آو باہر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر تمھاری چیزیں بھی آگئی ایک اور بات آج تو میں تمھارا بندوبست کرتا ہو ۔”
“آپ کیا کرنے والے ہیں اور پلیز میرے ساتھ اوپر چلے مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔”
“حد ہوگئی اتنی ایمان کی کمزوری ہما ۔”
زُلنین نے اسے گھورا
“مجھے واقی خوف آرہا ہے زُلنین آپ کو نہیں پتا مجھے بار بار ایسا محسوس ہوتا ہے ۔”
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ سب تمھارے وہم ہے ایک انسان جو تنہا رہتا ہو اور اس کے ساتھ ٹریجیڈی ہوجائے تو وہ ایسا ریکائٹ کرتا ہے اس لیے خود کو ریلکس رکھو ۔”
وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
“تو کیا کرو میری پڑھائی ۔”
“کچھ نہیں ہوگا تم تب تک کے لیے کورس کرو چھ مہینے کا ہے پھر تمھاری یونی کا ٹائیم شروع ہوجائیں گا ۔”
“کس چیز کا کورس ۔”
“کسی کا بھی ہوسکتا ہے میرے خیال سے گرافکس ڈیزائنگ یا ٹیکسٹایل میں کرلو ہاتھ کا ہنر آجائے گا دوسرا سکول کا بھی کام شروع کرتے ہیں ۔”
“اچھا ٹھیک ہے چلے آپ !۔” زُلنین گہرا سانس لیا اور ہنس پڑا اور اس کے سر پہ ہلکی سے چپیٹ لگائی
“تمھارا کچھ نہیں ہوسکتا !چلو ۔”
🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂🍂
“ہلیو ۔”
سرد بھاری آواز پہ زولفیقار صاحب نے گہرا سانس لیا
“تم تو پیرس کا کہہ رہے تھے امریکہ میں کیا کررہے ہو ۔”
“آپ کو کوئی کام تھا ۔”
سرد لہجہ ہنوز قائم تھا
“ہاں کام تھا پاکستان واپس آو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔”
“بات کرنے کے لیے پاکستان واپس آنا ضروری ہے ۔”
اب سختی آگئی لہجہ میں
“شفق کی قبر پہ ہو اس وقت ۔!”
وہ خاموش رہا
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں کیا تم تین دن سے سارا دن اس کی قبر کے پاس تھے ۔”
“میں آپ کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔”
“کیوں نہیں سمجھتے ! باپ ہوں تمھارا میں بھول رہے ہو شاہد۔”
“ابا پلیز ! جو کہنا ہے کہہ دیجیے میں اس سے پہلے کال کاٹ دوں ۔”
“پہلی فُہرست میں تم اس لڑکی سے دور ہوجاو ۔”
اب فائیق کی آنکھیں آگ رنگ میں شعلے بڑکھنے لگے
“اب لوگ کیوں مجبور کرتے ہے کے میں اپنے وجود کو ختم کردوں پہلے اس کی زندگی میں مجھے کسی نے اجازت نہ دیں اب اس کے مرنے کا بعد بھی آپ سب کو چین نہیں یا برداشت نہیں ہوتا اس کے پاس میں رہو نہیں ابا مجھے یہاں ہزار سال بھی بیٹھا رُہنا پڑیں تو میں رہوں گا آخری سانس تک میں شفق کے ساتھ اس کی زندگی میں نہ رہ سکا لیکن اب اس کی زندگی بعد اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اب میری یہ عجیب خواہش سمجھ لے یا میرا پاگل پن لیکن اب میری اختیار میں کچھ نہیں ہے ۔”
زولفیقار صاحب نے پہلی بار اس کا ٹوٹا ہوا لہجہ دیکھا تو اک دم تڑپ اُٹھے
“فائیق فائیق ۔!”

وہ تیار ہوکر نیچے آئی تو زُلنین کھڑا ہوا تھا
لیکن اس کے ساتھ وجدان بھی تھا پر وہ براون جیکٹ اور بلیک پینٹ میں اچھا لگ رہا تھا لیکن آگر زُلنین کھڑا نہ ہوتا تو زیادہ خوبصورت معلوم ہوتا کیونکہ زُلنین کی خوبصورتی ہر چیز کو مانند کردیتی تھی ۔
“لو آگئی ڈرپوک پلیز زرا اس کا کام ہوتے ہی فورن آجانا کیونکہ میں نے آج ان محترمہ کے ساتھ میٹنگ کرنی ہے ۔”
زُلنین نے وجدان کو کہا جو ہلکہ سا مسکرا کر ہما کو دیکھ رہا تھا جو بلیک ٹاپ اور لمبی پرپل سویٹر کے ساتھ اونچے جوڑے میں اچھی لگ رہی تھی ۔
“زُلنین !۔”
“ہاں یہ میرا دوست ہے سمجھو اب تمھارا دوست ہے ٹھیک ہے ابھی میرا ایک کام ہے اور یہ تمھارا ایک انسٹیٹیوٹ میں آڈمیشن کروائے گا بہت ہوگئے سٹیفن کنگ کے ناولز اور تمھارے ڈرامے ۔”
“لیکن زُلنین ! ۔”
وہ وجدان کے ساتھ جانے پر جھجھک رہی تھی
“پلیز مجھے کام نہ ہوتا تو میں واقی ساتھ لیکر جاتا سمجھا کرو نا ۔”
ہما کو ناچار منا پڑا وہ کیا کرتئ اب جب زُلنین اتنا پُرزور اثرار کررہا تھا تو کیا کہا جاسکتا ہے ۔
وہ وجدان جے ساتھ چل پڑی اور زُلنین ایک دم غائب ہوگیا اور نیچے بیسمنٹ سے زُلنین اوپر آیا
“ہما ! یار اب ابھی جاوں ! ہما ! ۔”
وہ بولا اسے نیچے کچھ خاص نہیں ملا تھا اسے پتا تھا کچھ گڑبڑ تھی اور یہ جو کررہا ہے اس کا تو ریشہ ریشہ کردیں گا ۔
“ہما !کہی کچھ ہو تو نہیں گیا یا اللّٰلہ نہ کریں ۔”
وہ تیزی سے اس کے کمرے میں پہنچا وہ وہاں نہیں تھی کہاں گئی ہما !!!
“ہما !!!
اب اس کے لہجے میں پریشانی اور آنکھوں میں وحشت آگئی وہ جان گیا وہ گھر نہیں تو گئی کہاں
※※※※※※※※※※※※※※※
وہ اس کی کار کے اندر بیٹھی باہر کے نظارے میں کھوئے وی تھی اسے یہ اجنبی ماحول عجیب سا لگ رہا تھا
“آپ سائیکولجی پڑھ رہی تو یہ زُلنین نے آپ کو اس طرح دوسرے کورس کرنے کو کیوں کہا ۔”
وجدان ڈرائیو کرتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ہما چونک کر اسے دیکھنے لگی وہ بہت نرمی سے اسے دیکھ رہا تھا
“بس ایسے ہی پتا بھی ہے آپ کو نانو کی وجہ سے بہت ڈیپریسڈ ہوگئی ہوں مجھے Hallucination ہی نہ ہو جائے ۔”
وہ دھیرے سے ہنسا
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے خیر ویسے سُنا ہے آپ سٹینفورڈ سے کررہی تھی بیکچلیر اتنے اچھا انسٹیٹوٹ چھوڑ آئی آپ یار زندگی بدل جاتی ۔”
وہ چُپ رہی پھر بولی
“بس نانو کی خواہش تھی یہاں آنے کو اب میں وہاں تھوڑی ہی رہ سکتی ہوں ۔”
وہ سر ہلا کر ڈرائیو کرنے لگا اسے لگا ہما زیادہ بات نہیں کرنا چاہتی جبکہ ہما کا دل خراب ہوگیا اسے زُلنین کے ساتھ جانا تھا ۔
🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑🌑
وہ جب نظروں سے اوجھل ہوئی
میری سانسیں الجھنے لگی
جزلان بیٹھا اپنے فروملاز بنا رہا تھا جب زُلنین اندر داخل ہوا س کی آنکھ اتنی لال ہوگئی تھی کے جزلان نے سر اُٹھا کر گھبڑا گیا اب خوامخواہ پٹائی ہی نہ ہوجائے
“مجھے ہما نہیں مل رہی !۔”
وہ تیزی سے بولا
“کیا مطلب یہی کہی ہوگی اور جدھر بھی ہے آپ کو کیوں نہیں مل رہی ۔”
وہ غصے سے اس کا ٹیبل اُٹھا کر دیوار پہ مار چکا تھا
“میرا دماغ کام نہیں کررہا وہ بیچاری پہلی ڈری ہوئی تھی میں نے اسے چینج کرنے کو کہا اور نیچے بیسمنٹ میں اس کو ڈھونڈ رہا تھا جس نے اس کو ڈرانے کی کوشش کی ہے وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی ضرور کوئی تھا !کدھر ہے وہ پلیز بتاو ورنہ میں پاگل ہوجاو گا ۔”
زُلنین تو جیسے دیوانہ ہوگیا جزلان تو ایک دم شل ہوگیا
“زُلنین بھائی ! آپ مجھے فائیق چاچو کی طرح لگ رہے ہیں ۔”
“نام بھی مت لو اس کا میرا سامنے اس نے محبت نہیں کی تھی سمجھے !! اس نے محبت نہیں کی اسے تو بس ہوس تھی انسان کی ہوس ! ۔”
جزلان کو تیر کی طرح لگی یہ بات کیا زُلنین اتنا لہجے کا کڑوا ہوسکتا ہے شاہد جب وہ ہما سے دور ہوتا ہے تو ایسے ہی ہوجاتا ہے سخت بےرحم !
“ٹھیک ہے مانا کے چاچو کو ہوس تھی تو کیا آپ کو نہیں ہے ہما کی شفق تو ہما کی ماں ہے انہوں نے ماں کی ہوس رکھی آپ نے بیٹی کی ۔”
وہ آگئے مزید بول نہیں پایا کیونکہ زُلنین کا ہاتھ چلتا گیا
“میری محبت کو تم ہوس نہیں کہہ سکتے ۔”
وہ مارنے لگا کے جزلان نے اسے دھکا دیا زُلنین دور جاکر گرا اب جھٹکا دونوں کو لگا کیونکہ زُلنین تو کسی بھاری جن پر بھی حاوی ہوجاتا تھا یہ جزلان میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کے زُلنین دیوار کو جاکر لگا
“سوری بھائی لیکن یہ کیا ہورہا ہے ۔”
“مجھے ہما لاکر دوں بس میرا دماغ نہیں کام کررہا!۔”
“آپ نے کہی پی تو نہیں ہے ۔”
جزلان بڑھ کر اس کی طرف آیا اور زُلنین کو کھینچا
“بکواس مت کرو ! تمھیں پتا ہے میں تم لوگوں کی طرح حرام شے کو منہ نہیں لگاتا ۔”
“تو اتنے ہی پارسا ہے تو کر کیوں نہیں لیتے ہما سے نکاح اس کو اپنا کیوں نہیں اپنا لیتے مجھے اسلام کا اتنا نالج تو نہیں ہے لیکن کچھ باتیں ضرور معلوم ہے کے کسی غیر عورت کو چھونا یا دیکھنا بھی مرد پہ حرام ہے اور آپ اتنے بھی پارسا نہیں ہے مسٹر زُلنین زولفیقار ۔”
“مجھے چیلنج مت کرو میں چاہتا ہوں دل سے قبول کریں مجھے !۔”
وہ کھڑا ہوا
“آہا دل سے قبول ہی نہ کر لے آپ کو وہ بچی ۔”
“پلیز کچھ کرو بکواس مت کرو میری حالت عجیب ہورہی وہ گھر میں نہیں ہے ۔”
زُلنین کی پھر آواز بھاری ہوگئی
“رُکے مسٹر بون بریکر اچھا خاصا کیمیکل بنا رہا تھا برباد کردیتے ہیں آپ اس وقت کیوں آتے ہے جب میں کچھ بنا رہا پایا جاتا ہوں ۔”
زُلنین نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھا بلیو آنکھیں عجیب سی ہورہی تھی یہ آج اسے ہوا کیا ہے اتنا کمزور تو وہ نہیں تھا اتنی کمزوری کیا یہ ہما کی دوری کا باعث ہے یا کچھ اور ؟
********************
“آپ کا بہت شکریہ آپ کو زحمت ہوئی ۔”
وہ اس کا آڈمیشن کروا کر کہی اور لیکر جانا چاہتا تھا لیکن ہما نے انکار کردیا وہ زُلنین کے ساتھ کہی جاسکتی تھی زُلنین کے علاوہ ہر کوئی اس کے لیے اجنبی ہی تھا
“ارے زحمت کی کیا بات کرتی ہے آپ ! زُلنین نے کہا کے وہ آپ کی دوست ہے سمجھے ہماری لیکن آپ کمفرٹیبل نہیں لگ رہی تھی ۔”
وہ نرمی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“میں چلتی ہوں !۔”
وہ کہہ کر کار سے نکل گئی زُلنین دور اس کے رؤف پہ بیٹھا دیکھ رہا تھا اس کی آنکھیں عجیب تھی اسے کچھ عجیب لگ رہا تھا کچھ گڑبڑ ایک ہی منٹ میں اس نے فیصلہ کیا
ہما دروازے کی قریب آئی پھر صبح کا واقع سوچ کر ہی وہ رُک گئی اس کے ہاتھ پیر دوبارہ کانپنے لگے
“کدھر گئی تھی تم ؟۔”
ہما مڑی تو اس نے دیکھا زُلنین ٹریک سوٹ میں کھڑا پوکٹ میں ہاتھ ڈالے اس کا بلیو جینز پرنس لگ رہا تھا ہما کا دل دھڑک اُٹھا وہ ہر بندے سے مختلف تھا کوئی بھی اس جیسا نہیں تھا نہ ہی ہوسکتا ہے
“ہما کچھ پوچھ رہا ہوں کدھر تھی ۔”
ہما نے گھورا اب بس بھی کرو خود بھیجتے ہو اور خود ہی پوچھ رہے ہو
“مجھے نا آپ سے بات ہی نہیں کرنی یہ کوئی طریقہ ہے آپ کو پتا ہے میں سٹرینجر کے ساتھ جانا ہی نہیں پسند کرتی ۔”
جبکہ زُلنین کو کچھ اور سُنائی دیا
“آپ کو تو پتا ہے آپ کے سنگ میں بور ہورہی تھی اور وجدان کے ساتھ مجھے اچھا لگ رہا تھا گھومنا پھرنا ۔”
“کیا ؟۔”
زُلنین نے اسے حیرانگی سے دیکھا یہ کیا کہہ رہی تھی
“ہاں بہت بہت زیادہ ناراض ہوں مجھے آپ کی ضرورت تھی ۔”
“مجھے آپ کی ضرورت نہیں ہے ۔”
“ہما ہوش میں تو ہوں ۔”
اسے لگا وہ پاگل ہوگیا ہے یا ہما کا دماغ خراب ہوگیا ہے
“ہاں اب بندہ ناراض بھی نا ہوہے آپ سے ۔”
پھر زُلنین کی عجیب سی شکل کو دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی
“ارے آپ ناراض تو نہ ہوئے میں مزاق کررہی تھی ویسے آپ کا کام تھا ہوگیا ۔”
اچانک زُلنین گرنے لگا اس کی طبیعت آج کچھ زیادہ خراب تھی ہما ایک دم بھاگ کر پکڑا
“زُلنین ! زُلنین ۔”
زُلنین نے اپنا سر پکڑا ہما کی تو جان پر بن آئی
“آپ بیٹھے !۔”
اس نے گملوں کے ساتھ لگے تھوڑی سی سپیس پہ بیٹھایا بڑی مشکلوں سے وہ تو شکر تھا زُلنین ابھی ہوش میں تھا ہما جھکی اس نے زُلنین کا چہرہ تھاما
“زُلنین آنکھیں کھولے ! زُلنین !”
وہ آنکھیں نہیں کھول پارہا تھا وہ کھول سکتا تھا لیکن نہیں چاہتا تھا وہ اس کی آگ رنگ آنکھیں دیکھی
“آپ کا چہرہ لال کیوں ہورہا زُلنین اندر آئے رُکے میں پانی لائی ۔”
اسے سمجھ نہیں آئی کیا کہے نانو کے حادثے کے بعد زُلنین کی حالت دیکھ کر اس کا دل بند ہورہا تھا
اندر آئی اس نے فریج کھولا پانی نہیں تھا پانی کہاں ہے وہ ہر جگہ ڈھونڈنے لگی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا اسے کچھ نہیں مل رہا تھا پھر اس نے گلاس اُٹھایا اور سنگ کی طرف بڑھی اور نل کھولا اس میں سے پانی نہیں آرہا تھا
“یا اللّٰلہ انھیں ہوا کیا ہے !۔”
وہ گلاس چھوڑ کر سیدھا بھاگی زُلنین نے ابھی تک سر تھاما ہوا تھا
“زُلنین آئے ہوسپیٹل چلتے ہیں زُلنین آنکھیں کھولے ۔”
“میں ٹھیک ہو یار ۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامنے لگی ایک دم چیختے ہوئے ہاتھ پیچھے کیا اس لگا تھا کسی دہکتے کوئلے کو ہاتھ لگادیا ہوں اور اس نے اپنا ہاتھ دیکھا تو اس کا ہاتھ بہت لال ہوا وا تھا

“زُلنین !۔”
زُلنین بڑی مشکلوں سے اُٹھا
“میں ٹھیک ہوں چلتا ہوں ۔”
وہ ایک بار پھر لڑکھڑایا
“زُلنین !۔”
وہ منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے پاس بڑھی اور اس کا بازو تھاما زُلنین رُک گیا اور پھر اسے لگا کوئی بہت زور سی چیز اس کے سر پہ ماری ہو ایک دم اس کی آنکھیں بند ہوگئی ہو
“زُلنین !۔”
ہما چیخی
※※※※※※※※※※※
جب تیری سانیسں الجھنے لگی تو
میرا بھی وجود ریزہ ریزہ ہونے لگا
“انھیں کیا ہوا تھا ڈاکڑ ۔”
ہما جزلان کو دیکھ رہی تھی جو زُلنین کا چہرہ چھو کر ٹائیم کو دیکھ رہا تھا اس نے ڈرپ زُلنین کو لگا دیں تھی جو کے ہما کو لگا گلوکوز کی ہے لیکن وہ اس کی غذا خون کی تھی وائٹ بلڈ جس سے زُلنین کو طاقت ملے گی جزلان نے زُلنین کا کزن انٹروڈیوس کروایا تھا اور وہ فون سُنے کے لیے اِدھر ہوا تھا تو زُلنین آپ کے گھر چلا گیا ہما نے اتنی دھیان سے نہیں سُنی اسے تو زُلنین کی پروا تھی وہ اس کا ہاتھ پکڑے سورہ فاتحہ پڑھ کر پھونک رہی تھی زُلنین کا انگارہ وجود کا درجہ حرارت بھی مدھم ہونے لگا تھا اور وہ اب پُرسکون لگ رکا تھا
“کچھ نہیں کام کام اور کام کا ہی نتیجہ ہوگا تو یہی حال کریں گا ایسی ہی ہیٹ سٹروک ۔”
وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا اور اس کی نبض چیک کررہا تھا
“اتنی رات کو اور مری میں ہیٹ سٹروک !۔”
وہ اتنی بھی بھولی نہیں تھی جتنا جزلان سمجھ چکا تھا
“میرا مطلب ہے طبیعت ویسے بھی خراب تھی بس ظاہر نہیں کررہا تھا دوسرا آج سخت گرمی میں کھڑے ہوکر انسپیکشن کی اور اس کے اوپر گاڑی کی ٹھنڈی ہوا اور پاگل ابھی بھی واک کررہا تھا تو خراب تو ہونی ہی تھی ۔”
وہ اس کو دیکھ رہی تھی جو زُلنین سے مشاہبت رکھ رہا تھا لیکن زُلنین جیسا بالکل بھی نہیں تھا بلکہ زُلنین جیسا تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا وہ اس وقت سب کچھ بھول گئی تھی اس یاد تھا تو صرف زُلنین اور اسے اسی پل احساس ہوا وہ اس شخص کو ٹوٹ کر چاہنے لگی ہے اور اس کے بغیر ایک پل نہیں رہ پائی گی وہ تو پہلے ہی عشق کے دلدل میں دُنھس چکی تھی اور اسے اپنے خواب کا مطلب فورن سمجھ آگیا کوئی اسے کھینچ رہا تھا اور وہ زُلنین ہی تھا وہی نیلی آنکھوں والا اس کا پرنس اور اسے احساس ہوا تھا وہ کسی بھی مصیبت میں ہوگی زُلنین اس کے ساتھ ہوگا اور ہمیشہ سے تھا تھوڑے ہی پل میں وہ اس کا سب کچھ بن گیا تھا اب وہ زُلنین سے دستبردار نہیں ہوسکے گی
“آپ کچھ لیے گی چائے کافی ۔”
جزلان اس کو اتنا سٹل دیکھ کر بولا تو وہ چونکی اس نے دیکھا ابھی تک اس نے زُلنین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اب اسے احساس ہوا کے اس کا کزن کیا سوچتا ہوگا کزن لیکن زُلنین نے تو کہا تھا اس کا کوئی نہیں ہے تو کزن سے کہاں آ ٹپکا اس نے زُلنین کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اسے دیکھا جو کافی ینگ لگ رہا تھا زُلنین سے اور ڈاکڑ بھی نہیں لگ رہا تھا دماغ جب کام کرنا شروع ہوا تو اسے کچھ سمجھ میں آئی
“آپ زُلنین کے کزن ہے لیکن زُلنین نے تو کہا تھا اس کا کوئی نہیں ہے ۔”
“یہ بس آپ کو امپریس کرنے کے لیے ورنہ ان صاحب کا تو پورا خاندان موجود ہے ۔”
جزلان نے زُلنین کے قریب کُرسی رکھ کر بیٹھ کر اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ ہما نے منہ کھولا پہلے اسے پھر قریب لیٹے زُلنین کو دیکھا
“مزاق کررہا ہوں ہاں نہیں تھا لیکن میں اس کے چاچو کا بیٹا تو تھا باہر ہوتا ہوں تو کیا ہوا بندہ پوچھ ہی لیتا ہے بات ہی کرلیتا ہے لیکن نہیں ان صاحب نے اپنی ڈیڈ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے کیا کہہ سکتے ہیں ۔”
وہ خاموش رہی پھر زُلنین کا چہرہ دیکھنے لگی پرمیس اندر داخل ہونے لگی جب ایک لڑکی کو زُلنین کے قریب دیکھ کر اس کا لپ سٹک سے بھرا ہوئے ہونٹ کھل گئے اور جسم ایک دم ساکت ہوگیا زُلنین کے ساتھ ایک لڑکی
جو پرپل سویٹر میں عام سی شکل کی زُلنین کے مقابلے کچھ نہیں لگ رہی تھی پر ایک جھٹکا دینے والی بات زُلنین نے آج تک کسی ایک لڑکی کو بھی اہنے قریب بنھکنے کو تو کیا ان کی خشبو تک سے خود کو دور رکھا کجا کے ایک لڑکی اس کے پاس بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی اتنی جُرعت آگ جسم میں بڑکھی تھی ایش گرے آنکھوں نے آگ رنگ بڑکھانا شروع کردیا جبکہ اس کی کرلی چمکتے کالے بالوں میں سفیدی آگئی
اور مٹھیا بھینچے وہ ہما کو دیکھ رہی تھی اور جزلان بھی بیٹھا ہوا تھا اس کی خبر لے گی لیکن ایک بات تو وہ بھول گئی زُلنین کو کیا ہوا ہے اس کو ہر سال کی طرح پھر تو نہیں دورے پڑ گئے ۔
جزلان نے پرمیس کی شکل دیکھ لی تھی اس لیے ایک دم اُٹھا ہما نے سر نہیں اُٹھایا تھا وہ بس زُلنین کو دیکھ رہی تھی اس کی نظریں کہی اِدھر اُدھر جانے کی گستاخی نہیں کررہی تھی اچانک زلنین کا رنگ عجیب سا ہورہا تھا ہما ایک دم جھٹکے سے مزید اس کے پاس آئی
“زُلنین زُلنین آپ ٹھیک تو ہے نا یا اللّٰلہ میں مزید نہیں سہہ سکوں گی پلیز زُلنین کو کچھ نہیں ہونے دیں گا ۔”
وہ رونے لگی وہ زندگی میں کھبی کسی کے لیے اتنا نہیں روئی تھی جتنا وہ زُلنین کے لیے رورہی تھی کیا محبت ایسی ہوتی ہے آپ کو مضبوط کے ساتھ کمزور کردے وہ اپنے بہتے آنسو کے ساتھ زُلنین کا ہاتھ پکڑ کر اسے رگڑ رہی تھی اچانک اسے محسوس ہوا یہ ہاتھ عام ہاتھوں سے بہت مختلف تھا دیکھنے میں بھاری ہاتھ اس وقت بالکل محسوس نہیں ہورہا تھا اور یہ بالکل شیشے کے طرح ہاتھ انگلیوں میں بھی اک عجیب سا تاثر تھا وہ دیکھ رہی تھی جب زُلنین کے چہرے پہ دوبارہ نظر پڑی تو وہ پیلا ہورہا تھا وہ ایک دم گھبڑا گئی
“ڈاکڑ جزلان ڈاکڑ جزلان !!!”
وہ چیخنے لگی زُلنین نے درد سے ہاتھ اپنے سر پہ رکھا اور دھاڑا
ہما ایک دم پیچھے ہوئی اس نے اپنی آنکھیں کھولی تو ہما ایک دم ٹہر گئی زُلنین کی تو بلیو جینز آنکھیں تھی یہ یہ تو اگ تھی ایسا لگ رہا تھا ساری آگ اس کی آنکھوں میں سما گئی ہو زُلنین کو محسوس ہوا ہما آس پاس ہی ہے اس نے فورن آنکھیں بند کی اور سر تکیہ پہ ٹکا دیا
“کیا کررہی ہو ہما یہاں ۔”
ہما وہی کھڑی رہی پھر اس کی درد بھری آواز نے اسے مجبور کیا کے وہ اس کے پاس جائے وہ دوبارہ قریب آئی اور بولی
“آپ کو کیا ہوا آپ کی طبیعت ۔”
“میں ٹھیک ہوں ۔”
اب آواز خاصی بھاری تھی
“یہ ڈاکڑ آپ کو ہوسپیٹل نہیں لیکر جارہا کہہ رہا ہے آپ کا علاج یہاں ہوگا ۔”
زُلنین نے منہ اِدھر کر لیا تاکہ وہ اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات نہ دیکھ لے
“کون ڈاکڑ ؟۔”
ایک دم ہما کے کہنے پہ وہ چونک پڑا
“وہ آپ کا کزن جزلان !۔”
زُلنین ایک دم سے آنکھیں کھولی دل کیا جزلان کا ریشہ ریشہ کردیں درد کے باوجود اس کا دل کیا سیدھا اُٹھے اور اس کے وجود کو ختم کرنے میں ایک سکینڈ نہ لگائے
ہما نے دیکھا زلنین کی گردن کے پاس کچھ سوئی لگی ہوئی تھی یہ کیا زُلنین کو سوئی لگی اور اسے پتا نہیں ہے تبھی شاہد اس کو تکلیف ہورہی تھی اس نے ہاتھ بڑھ کر سوئی کھینچی ایک دم زُلنین اُٹھ پڑا
“اُف !!۔”
اس نے اپنی گردن پہ ہاتھ اور درد سے تقریباً چیخی پڑا ہما نے دیکھا اس کی گردن میں سیاہ رنگ کی نمی نکلی تھی زُلنین فورن اُٹھا اور واش روم کی طرف بڑھا
*************
تو درد میں تھا
تو میں بھی کون سا سکون میں تھی
جزلان اندر آیا تو دیکھا ہما واش روم کی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ زُلنین بستر پہ نہیں تھا
“یہ کدھر گیا ۔”
“واش روم میں ان کی پیچھے کوئی سوئی لگی وی تھی اور اس کو کھینچنے سے ان کی گردن پہ کالی نمی ۔”
“کیا ؟۔”
وہ ایک دم حیران ہوا اُف اگر ہما کو پتا چل گیا تو زُلنین نے تو بس ختم کردینا ہے
“نہیں خون ہوگا اور سوئی بستر پہ کہی پڑی ہوگئ اس لیے تکلیف سے اُٹھا ۔”
“آپ انھیں ہوسپیٹل کیوں نہیں لے جاتے اگر انھیں کچھ ہوگیا تو میں زندہ کیسے رہ پاوں گی ۔”
ہما کے منہ سے ادا ہونے والے لفظ نے جزلان کو کیا اندر سنگ میں جھکے زُلنین کو بھی ساکت کر گیے
“میں مزید صدمہ نہیں برداشت کرسکو پلیز زُلنین کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے ۔”
اندر دور سے ہی فائیق کے کمرے میں موجود مختلف پھولوں میں سے کنول کے کالے رنگ میں ایک عجیب سی تبدیلی ہوئی جیسے اس پھول میں جان آگئی ہو بلکہ وہ گرا ہوا کنول اونچا ہونے لگا اس کی ہولناکی میں کمی آگئی تھی اگر ہما مزید لفظ بولتی تو اس کے پھول میں جان آجاتی لیکن ہما نے آگئے سے کچھ نہیں کہا
“آپ ریلکس ہوجائے اگر واقی معاملہ سریس ہوگا تو میں لیکر جاوں گا زُلنین آپ سے زیادہ مجھے قیمتی ہے کیونکہ وہ میرا بھائی ہے ۔”
“اور وہ میرا دوست ہے اس کے بعد تو میں بالکل اکیلی ہوجاو گی نئ میری ماں ہے نا باپ نہ نانی نہ بہن بھائی کوئی تو نہیں ہے میری تو اب پوری دُنیا ہی زلنین زولفیقار ہے ۔”
محبوب کے درد سے زبان سے نکلنے والے الفاظ بے اختیار ہورہے تھے اور ایک بار پھر اس کنول میں توانائی آنے لگی اس کی رنگت کی سیاہی ختم ہونے لگی تھی اور اندر کھڑا زُلنین زولفیقار میں کمزوری کے باوجود ایک عجیب سی طاقت آگئی تھی اس کی پاکیزہ محبت پہ اتنی طاقت تھی جو اتنے کم دنوں میں ہما کے دل پہنچ گیا اس نے سر اُٹھا کر اوپر دیکھا تو ہلکی سی نمی اس کے گالوں سے پھسل گئی وہ جنزادہ پہلی بار اپنی کامیابی پہ خوش بھی ہوا تھا اور رویا بھی تھا ۔
“زُلنین دروازہ کھولو زُلنین تم ٹھیک ہو ۔”
جزلان کی آواز پہ وہ اپنے نمی کو دیکھنے لگا تو پاس پڑا کیمیکل اُٹھایا اور اپنے گردن پہ گرایا نمی رُک گئی تھی جب کے درد میں کمی ہوگئی تھی اعصاب ڈھیلے ہوئے گہرا سانس لیتا ہوا وہ دوبارہ سنگ پہ جکھا اور ومیٹ کرنے لگا اس سے فارغ ہوکر اپنی آنکھوں کو دیکھنے جس میں آسمانی رنگ کہی غائب ہوچکا تھا اور صرف تپش نے جگہ لے لی تھی
اس نے جیزی کو سگنل دیا اور جزلان سمجھ گیا
“مس ہما آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر جاسکتی ہے کیا پتا وہ آپ کی وجہ سے باہر نہ آرہا ہو ۔”
“لیکن !۔”
پر جزلان نے اپنی طاقت استمعال کر کے اس باہر جانے پہ مجبور کیا اور وہ باہر چلی گئی اور ایک دم اس نے دروازہ بند کیا اور اندر آیا دیکھ زُلنین اپنی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا
“یہ کس نے کیا ہے حالت اچھے خاصے بھلے تھے ہما کے پاس جاکر اچانک کیا ہوگیا ۔”
زُلنین نے اپنے منہ صاف کیا
“پتا نہیں ۔ بات کررہا تھا ہما عجیب سے جواب دیں رہی تھی اور میں جانتا ہو یہ ہما نہیں کہہ رہی ۔”
“بتاو تو صحیح ہوا کیا تھا ابھی بھی بہت عجیب لگ رہی ہے آواز اتنی زیادہ بھاری کے مجھے لگا ہما نے ڈر کر بھاگ جانا ۔”
“اس کو اِدھر کیوں لایا اور تمھیں پتا میں ہوش میں نہیں تھا ۔”
وہ آگ برساتی نظروں سے جزلان کو دیکھ رہا تھا
“ہما جب ہوتی ہے تو آپ کو کہاں ہوش ہوتا ہے وہ تو سب شراب سے بھی بھاری نکلی ۔”
“بکواس مت کرو ۔”
وہ دھاڑا
“اتنی مقدس لڑکی کو تم گھٹیا چیز سے کمپیر کررہے ہو میرے پاس طاقت نہیں ہے ورنہ ابھی تمھاری گز بڑھ لمبی زبان کو کاٹ کر پھینک دیتا خبردار وہ میرے لیے صرف ایک ہے دا اورنیجل جو اس جیسا کوئی نہیں ہوسکتا ۔”
“بڑے بڑے شاعر اور عاشق تو چاند کے ساتھ موتی کے ساتھ اور پتا نہیں کس کس چیز کے ساتھ کمپیر کرتے ہیں تو نے آج تک نہیں کیا ۔”
جزلان نے اس کو دیکھا جو اب چلتا ہوا اپنے کمرے میں آیا اور بستر پہ بیٹھ گیا کمزوری بہت زیادہ تھی
“ایسی چیز تو بہت کامن ہر کوئی بولتا ہے ہر جگہ اویلیبل ہے اور ہما تو ہما ہے صرف میری اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ہوگا یہ سیپ سے نکلے موتی ، یہ چاند یہ تاروں سے کمپیر کرنا سب بیکار بات ہے کے تم میرے لیے اس طرح ہو اس طرح ہو یہ تو اللّٰلہ کی نعمتیں ہیں نو ڈاؤٹ اور اللّٰلہ کی بنائی ہوئی نمعتوں میں سے ہما بھی تو ہے اس کا کسی چیز سے کیا مقابلہ وہ نمعت اللّٰلہ نے میری نظروں کو لیے دیںمحبت تو کسی چیز سے کمپیر کرنے کا نام ہی نہیں ہے محبت تو وہ آندھی گلی ہے جو ہزار کانٹوں کے باوجود بھی چلتے ہیں ہزار خامی کے باوجود اسے قبول کرتے ہیں اور مجھے اس لڑکی سے بے پناہ ہزار خامیوں کے باوجود بہت زیادہ محبت ہے ۔”
کنول اب کھڑا ہوچکا تھا سیاہی ختم ہونے لگی تھی دو دلوں کے ٹوٹ کر دینے والے اعتراف نے اس کنول میں اپنے اصلی رنگ بڑھ دیے تھے اور اس کی ہولناکی ختم ہورہی تھی لیکن ابھی بھی کچھ کچھ باقی
تھی
******************
دوسرے عنوان کا اختتام
*******************

Please support us by providing your important feedback:
Share this post as much as possible at all platforms and social media such as Facebook, Twitter, Pinterest & Whatsapp, share with your friends and family members so that we are encourage more and more to bring you much more that you want. Be supportive and share your comments in below comments section so that we can be aware of your views regarding our website.

Your best Urdu Digest, Novels, Afsanay, Short Stories, Episodic Stories, funny books and your requested novels will be available on your request.

Related posts

Leave a Comment