Black Rose Episode 8 by Samreen Shah

black rose novel by samreen shah

black rose episode 8 by samreen shah best novel with romance and love, very very romantic urdu novel by samreen shah.

Read Here Episode 8 and search for previous episodes in same page.

وہ اسے گولف سینٹر لے آیا جہاں ہر طرف گرینری لاش پش لان کے ساتھ ٹھنڈی ہواؤں کا جھونکا دل کو بھلا لگ رہا تھا شفق اپنی کیپ اُتار کر بازو سینے پہ باندھے
ماحول کو اپنے آنکھوں میں جزب کررہی تھی جبکہ فائیق کی نظریں اس کے بروان بالوں کی طرف تھی جو پونی میں بندھے ہوائوں کے باعث اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ فائیق کے بازو کو چھو رہی تھی بیشک فائیق نے کوٹ پہنا ہوا تھا لیکن وہ ان زلفوں کو اپنے رگوں میں محسوس کررہا تھا بات عجیب سی تھی لیکن تھی اس کی فلاسفی
وہ مڑی اور اسے دیکھتے ہوے مسکرائی
“بہت اچھا ہے ۔”
فائیق نے اپنے بھنویں کھینچی اور دلچسپ مسکراہٹ اس کے لبوں پہ کھیلی جارہی تھی
“بس اچھا !! آپ کے منہ سے تو یہ نہیں سُنا چارہا تھا۔”
وہ ہلکہ سا ہنسی
“آئی مین بہت زبردست ہے لوکیشن بھی پرفیکٹ ہے اب سپیچلس ہوں کیا کہوں میں ائیم سوری ویسے یہ جگہ واقی تعریف کے مستعق ہے ۔”
وہ ہنسنا شروع ہوگیا
“ارے میں مزاق کررہا ہوں آپ سریس ہوگئی ویسے آپ کے ابو نہیں آئے ۔”
“بابا کا تو پتا ہے نا آپ کو ہر چیز کی اشورٹئ چاہیتے ہیں پوچھ گچھ ڈیٹیل میں کررہے ہوگے ۔”
“ایک سکینڈ میں گولف کی چیزیں لے آو ۔”
اسے دو سکینڈ لگے چٹکی بجاتے ہوے اور بیگ حاضر تھا یہ چیز شفق نے نہیں دیکھی تھی جب مڑی تو فائیق کو کھڑے ہوے اور ہاتھ میں گولف بیگ پکڑے پایا تو اس کا منہ کھل گیا
“آپ اسے کب لائے ! ۔”
“ہی ہی میجیک !۔”
وہ مزے سے بولا اور چلنے لگا
“نہیں سریسلی آپ نے یہ کیسے کیا ! کیا آپ مجیشن ہیں ، او واو آپ مجھے سکھائیں گے ۔”
“مزاق کررہا ہوں ابھی میرا بندہ پیچھے تھا اس نے پکڑا ہوا تھا ۔”
“میں نے تو نہیں دیکھا آپ واقی سچ کہہ رہے ۔”
وہ مڑتے ہوے دیکھنے لگی ان دونوں کے علاوہ یہاں کوئی نہیں تھا
“وہ بندہ چلا گیا ہے آپ آئے آپ گولف کھیلنے آتی ہیں ۔”
فائیق کی آواز پہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی
“ہاں آتی ہے تھوڑی بہت !۔”
“چلے اچھا ہے آئے آپ کو نمبر فائیو والے کورس میں لیے کر جاتا ہوں ۔”
※※※※※※※※※※※※※
“باپ !۔”
ہما نے اپنے لب دبائے اسے اتنی جلدی انکشاف نہیں کرنا چاہیے تھا
“ہما یہ تم نے کیا کہا ہے زرا ایک بار پھر کہنا ۔”
زُلنین اتنا زیادہ وحشت زدہ لگ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آئی کے وہ کیا کریں ہما اس سے دور ہوجائے گی اور وہ مر کر بھی ایسا ہونا نہیں دیں گا
“تمھیں یہ جس نے بھی کہا یہ بکواس ہے تم ان کی بیٹی نہیں ہو ان کی تو شادی ہی نہیں ہوئی اور تمھاری مدر کی امریکہ میں رہتی تھی ۔”
“نانو نے کہی ہے یہ بات .”
“وہ مجھے نانو لگ بھی نہیں رہی ہما نانو مر چکی ہیں مجھے یہ کوئی بہروپیا ہوگی بہتر ہے انھیں نکالو انھیں ۔”
“زُلنین !۔”
وہ شاکڈ انداز میں اسے دیکھ رہی تھی
“زُلنین !۔”
اچانک زُلنین کو پتا نہیں کیا ہوا تھا اس نے ڈیسک کو زور سے ٹھوکر ماری
“وہ تمھارا باپ نہیں ہے ۔”
وہ ایسے لہجے میں بولا تھا کے ہما کا جسم کانپ گیا تھا یہ لہجہ تو زُلنین کا نہیں تھا
“وہ نہیں ہوسکتا ! تم صرف ریحان کی بیٹی ہوں ۔”
اتنا کرخت لہجہ وہ شل ہوگئی تھی زُلنین تیزی سے اس سے گزر کر دروازہ کھول کر نکل چکا تھا اور وہ وہی کھڑی رہی پھر اچانک کیا ہوا اسے وہ بھاگی تیزی سے نیچے دیکھا زُلنین چلا گیا تھا
“زُلنین !، زُلنین رُکے !۔”
وہ تیزی سے سڑھیاں اُتری اور چلتے ہوے مین ڈور کی طرف آئی مین ڈور تیزی سے بند ہوا اور کسی فورس نے اسے پیچھے پھینکا وہ سیدھا صوفے کو جاکر لگئ
ہما کا سر بہت زور سے لگا
“اُف!۔”اس نے اپنا سر پکڑا اسے سمجھ نہیں آئی ہوا کیا ہے پھر بھی ہمت کر کے اُٹھی اس لگا کوئی سایہ اس کے پاس سے گزرا ہے
اور سیدھا سامنے پڑی فائیق کی پینٹنگ اس کے سامنے گری وہ ڈر گئی تھی دکھتے سر پہ اب ڈر حاوی ہوگیا تھا کوئی تھا اس گھر میں کوئی واقی تھا
“کون ہو تم ؟۔”
اس نے بے اختیار کہا اسے لگا جیسے خوف نے اسے گھیر لیا ہو
※※※※※※※※※※※
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے چاچو محبت کرتے تھے لیکن ان کے بیچ میں یہ رشتہ تو نہیں تھا اور ہما فائیق چاچو کی بیٹی کیسے ہوسکتی ہے ورنہ وہ اس وقت انسان نہیں ایک جن ہوتئ چلو جن بھی نہیں لیکن چاچو کی کچھ تو پاورز ہوتی ۔”
وہ بہت غصے میں ہر ایک چیز کو تہس نہس کر چکا تھا جب جزلان کمرے میں آیا اس کے غصے پہ حیران ہوگیا آج کل تو اس کا غصہ غائب ہوگیا تھا اچانک کیسے آگیا جب وجہ پوچھی تو زُلنین ایک حرف با حرف اسے کے گوش گزارا ۔
“اور یہ نانو کا چکر مجھے نہیں سمجھ آرہا ۔”
“میں بھی جان سکتا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی میں کچھ جان کیوں نہیں پارہا ایک تو میری طبیعت نے سارا کام الٹا کردیا کیا کرو میں ہما کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا میں اس سے شادی جلداز جلد کرنا چاہتا ہوں اسے کچھ ہوگیا تو خود کو معاف نہیں کر پاوں گا ۔”
وہ اپنا سر تھام چکا تھا
“ریلکس ریلکس بڈی ! کچھ نہیں ہوگا اسے پہلے واقی اس نانو کے چکر کا پتا لگانا ہوگا ۔”
وہ اس کے پاس آیا اور اس نے زُلنین کے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“تم بالکل نہ فکر کرو !میں ضرور مدد کروں گا تمھاری لیکن یار یہ فائیق چاچو کا ہما کی بیٹی کا اگر معاملہ ہے تو زُلنین واقی بہت سریس معاملہ ہے ۔”
زُلنین کے آنکھیں جل رہی تھی اور واقی انھیں کوئی دیکھتا تو بسم ہوجاتا
“یہ بات تو کشف پھوپھو یا دادا ذولفیقار بتا سکتے ہیں ۔
وہ کہتے ہوے اُٹھ پڑا
*************
وہ پیدل ہی قبرستان کی طرف بڑھی اس نے سفید شلوار قمیض پہنا ہوا تھا سر پہ ڈوپٹہ نماز کئ سٹائل میں باندھا ہوا تھا وہ واقی اس روپ میں بہت پیاری لگتی مگر اس کا چہرہ بالکل اپنے لباس کی طرح لگ رہا تھا اس کے ساتھ ہوا اس نے فورن وضو کر نماز پڑھی اور اللّٰلہ سے اپنی آسانی کی دعا کی اور اس کے دل سے ہرقسم کا خوف دور کرنا اور اسے شیطان کی شر سے بچانا وہ اب چلتے ہوے اپنے نانا کی قبر کی طرف آئی اس کے ہاتھوں میں پھولوں سے بھرا شاپر تھا نانا کے ساتھ نانو کی قبر ہونی چاہئے تھی مگر وہ وہی رُک گئی ہاتھوں میں پکڑا شاپر بھی اسے خاصا بھاری لگا اس سے کھڑا رہنا محال ہوگیا وہ مشکل سے قدم اُٹھاتی آگئے بڑھی وہاں صرف نانا کی ہی قبر تھی
تو یہ سب گیم تھا یہ اللّٰلہ آخر یہ ہو کیا رہا
“عورتوں کا قبرستان میں آنا منع ہے ۔”
وہ ایک دم ڈر کر مڑی اس نے دیکھا سامنے ایک درخت کے نیچے ایک فقیر بیٹھا ہوا تھا ہما کے ہاتھ سے شاپر چھوٹ گیا گلاب کے پتے اردگرد پھیل گئے
“تم یہاں کیا کررہی ہو ۔”
وہ اس فقیر کی لال آنکھیں دیکھ کر گھبڑا گئی تھی
************
“مجھے سے ہو ہی نہیں رہا !۔”
وہ دسویں دفعہ کر چکا تھی لیکن بال ہول میں جانے کا نام نہیں لی رہی تھی فائیق نے اس کہا مدد کرنے کو لیکن وہ مجھے آتا ہے کہہ کر اسے روک دیتی وہ اب اس کی بات پہ مسکرانے لگا
“آپ تو کہہ رہی تھی آپ کو آتا ہے۔”اس کی مسکراہٹ پہ شفق نے اسے گھورا اور سٹک کندھے پہ رکھ کر بولی
“اصل میں ہوا بہت تیزی سے چل رہی ہے اس لیے بال اُدھر چلا جاتا ہے ۔”
“اچھا !۔”
“آپ طنز کررہے ہیں مجھ پہ ۔”
گھوری مزید بڑھتی گئی
“ارے ارے میں بات کرتا ہوں آپ اسے طنز سمجھ جاتی ہیں واقی ہوا بہت تیزی سے چل رہی ہے اتنی کے مجھے ڈر ہے آپ کہی اُڑھ نہ جائے ۔”
وہ گولف سٹک اس کو مارنے لگی وہ پیچھے ہوا
“ہاے ہوٹل کے مالک پہ تشدد !۔”
وہ ڈرنے کی اکیٹنگ کرنے لگا وہ ہنس پڑی
“سچ پوچھے تو نہیں آتا مجھے کھیلنا ۔”
“ارے اتنی سی بات میں آپ کو سکھاتا ہوں ۔”
وہ چلتے ہوئے اس کی طرف آیا اور سٹک اس سے لی اور اس کا بازو پکڑا شفق ایک دم پیچھے ہوے اس کے چھونے سے پتا نہیں اسے کیا ہوا تھا بہت ہی عجیب سی فیلنگ تھی

“جس کی قبر ڈھونڈ رہی ہو وہ تو کھبی ماری ہی نہیں پھر کیوں آئی ہو ۔”
وہ ڈر کر جانے لگی تھیں جب اس شخص کی بات پہ رُک گئی اس نے گردن موڑی وہ فقیر ابھی تک موجود تھا مگر وہ اب ہما کو نہیں دیکھ رہا تھا 
ان کی نظر اب صرف اپنے ہاتھ میں تسبی پر تھی ہما پہلے تو ان کو دیکھتی رہی
“تو وہ سب کیا جو میرے ساتھ ہورہا ۔”
کوئی جواب نہیں
“میرے پاس پہلے خواب آیا کرتے تھے گھر کے ایک شخص کے اور اس کے بعد وہی لوگ وہی جگہ اصل میں موجود ہیں اور میرے سامنے آئی ۔”
“میرے نانی کو فوت ہوے ابھی ایک مہینہ ہونے والا تھا ان ایک مہینے کے دوران میرے ساتھ ایسی حرکتیں ہوئی ہے جیسے میرے گھر میں آسیب کا سایہ پڑ گیا ہے پہلے تو یقین نہیں کرتی تھی مگر اب مجھے لگتا ہے ۔”
“مجھ سے ایک لڑکا بہت محبت کرتا ہے محبت تو میں بھی بے انتہا کرتی ہوں وہ مجھ شادی کا پیغام دیں رہا مگر ہاں میری زبان سے نہیں نکل رہا ایسا کیوں ۔”
“تم نمازوں کی پابند ہو ؟۔”
وہ اب اس کی بات پہ بولا تھا
“جی؟۔”
“ہوں !!!”
“تم اس وقت یہاں سے چلی جاوں تو بہت بہتر ہے تمھارے لیے بس اتنی سی بات کہوں گا میں اچھا شخص کو اچھا نہ جانو اس دُنیا میں بُرے سے زیادہ منافق انسان خطرناک ہے اور کسی کے منہ سے اگر میٹھی زبان نکل رہی ہو تو یہ نا سمجھنا وہ تمھیں پسند کرتا کیونکہ وہ تمھارئ ہی پیٹھ میں چھڑا گھونپ رہا ہے ۔”
وہ اتنا کہتے ہوے چُپ ہوگئے اور ہما الجھن میں پڑ گئی
یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ زُلنین ؟ نہیں وہ ایسا کھبی نہیں ہے لیکن ان کے کہنے پر پہلا نام اسی کا اس کی سوچ میں کیوں آیا نہیں وہ اپنی پاکیزہ محبت پر کھبی شک نہیں کرسکتی ۔
وہ اپنی سوچ کو جھٹک کر مڑ گئی ۔
•••••••••••••
کیا ہوا ؟۔”
شفق نے نفی میں سر ہلایا تو فائیق نے اس کو سٹک پکڑائی اور اس کو پوزیشن ہونے کو کہا
“ایسے نہیں تھوڑا سا جھکے زیادہ نہیں اور سٹک کو زور سے نہیں پکڑنا بال کی تھوڑی دھلائی کرنی ہے
اور زور سے بھی نہیں مارنا بلکل آرام سے ۔”
“پہلے بھی آرام سے مارا تھا لیکن وہ پہنچا بھی نہیں ۔”
“اب اتنا بھی نہیں مارے آرام سے لیکن مارے ایسے تاکہ وہ اس کے اندر چلو ہول کے قریب تو آئے ۔”
وہ سر ہلا کر سمجھ گئی
“فوکس بھی رکھنا ہے ۔”
فائیق اب پیچھے ہوگیا تھا وہ اب ہول کو دیکھ رہی تھی
اس نے اس کی ہیدائت پر عمل کیا مگر سارا طریقہ فائیق کی پاور کا تھا بال جسے اس نے انداز سے ماری تھئ اس نے ایک انچ تو نہیں کم سے کم دو یا تین انچ آگئے چلے جانا تھا مگر وہ اب ہول کے بالکل قریب تھی
“او ایم جی !۔”
وہ خوش ہوکر فائیق کی طرف مڑی
“اب آگئے جاو اور اس ہول کے اندر گرا دوں ۔”
وہ سر ہلا کر تیزی سے بھاگی
اور فائیق کے نظر پھر اس کے اُڑتے بالوں میں الجھ گئی
“شفق !۔”
اس نے دیکھا بہت ہی گریس فل سے پولو شرٹ اور پینٹ کے اوپر کیپ پہنے یقین شفق کے ابو تھے جو چلتے ہوے اس کے پاس آرہے تھے ،شفق مڑی اور پھر مسکرا کر بولی
“بابا رُکیے میں یہ کمپلیٹ کرلو ۔”
وہ بولتے دوبارہ فوکس کرنے لگی پھر اس نے بال بلا آخر ہول میں گرا دیا
“یا ہو !۔”
وہ مڑی اور اس نے دیکھا فائیق مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا اور وہ بابا کی طرف مڑی
“دیکھیں بابا میں نے فائینئلئ کرلیا ! اور یہ سب مسٹر اونر جی نے کیا ہے ۔”
“اونر ؟۔”
اس نے اشارہ کیا فہیم صاحب نے دیکھا وہاں سوٹ میں ملبوس کھڑا فائیق زولفیقار چلتا ہوا ان کے پاس آرہا تھا فہیم صاحب اس کے پرسنالیٹئ کو دیکھ کر امپریس ہوگے واقی اونر کو ہونا چاہیے ۔”
“گُڈ ایونگ سر ولیکم ٹو بلیک روز ریزورٹ !۔”
وہ ہاتھ جیب سے نکلتا بے انتہا خوش اخلاقی سے بولتے ہوے ہاتھ آگئے کیا جسے فہیم صاحب نے امپریس ہوکر تھام لیا تھا .
※※※※※※※※※※※※
وہ پیدل چلتے ہوے سیدھا زولفیقار ہاوس پہنچی بارش شروع ہونے کو تھیں اس لیے اس کے قدم تیزی سے بڑھ رہے تھے لیکن پھر بھی پانی کی بوندیں اس کے کو اپنے اوپر گرتے ہوے محسوس ہونے لگی تھی اس لیے چلنے کے بجائے اب وہ بھاگ رہی تھی بامشکل ہی پانی سے بچ کر وہاں پہنچی اور اس نے بیل بجائی بیل ایسی تھی کے پورے گھر میں گونجتی تھی اور بندے کو ہلا کر رکھ دیتی تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور وائٹ شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس پرمیس کھڑی اسے دیکھنے لگی
“جی !۔”
ہما نے اسے دیکھا تو اسے ناگواری ہوئی اس سے کیوں سامنا ہونا تھا
“مجھے زُلنین سے ملنا ہے ۔”
“وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں ہے ۔”
پرمیس نے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا لی اور اسے حقارت سے دیکھتے ہوے بولی لیکن زبان بہت شیریں تھی
“کدھر گیا ہے ؟۔”
ہما تیزی سے بولی
“پتا نہیں !۔” ہما نے اپنے لب دبا لیے اور جلدی سے اپنے پرس سے فون نکالا اور فون ملانے لگی
“کسے فون کررہی ہو ؟۔”
ہما نے کوئی جواب نہیں دیا
اور کال ملانے لگی وہ فون نہیں اُٹھا رہا تھا وہ پھر ملانے لگی مگر کوئی جواب نہیں !۔
“ڈیم اٹ !۔”
اس نے گہرا سانس لیا
“اللّٰلہ حافظ !۔”
وہ چلی گئی جبکہ رؤف پہ بیٹھا زُلنین اسے جاتے ہوے دیکھنے لگا وہ اب اس سے ایک ہفتہ نہیں ملے گا وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہما کو اس کی کتنی قدر ہے اور کتنی پروا ہے اور وہ جانتا تھا وہ اسی طرح ہاں کریں گی ۔
※※※※※※※※※※※
“بہت اچھا لگا آپ میرے ہوٹل میں آئی ۔”
اب وہ جانے لگی تھی فائیق اس کے بعد کسی کام کے سلسلے سے اپنے آفس چلا گیا جبکہ وہ اپنے بابا کے ساتھ گولف کھیلتی رہی اب جب وہ جانے لگے تو مسٹر فہیم نے اسے رُکنے کو کہا وہ کار لاتے ہیں و وہ لابی میں ان کا ویٹ کرنے لگی جب فائیق کی آواز پہ اس نے اسے دیکھا وہ ہولے سے مسکرائی
“تھینک یو آپ نے اپنا قمیتی وقت نکال کر مجھے اپنے ہوٹل کا ٹور دیا اور مجھے گولف کھیلنا سکھائی ۔”
وہ ہولے سے ہنس پڑا شفق کو کوئی بندہ اتنا ہنستے ہوے نہیں پیارا لگا تھا جتنا فائیق لگا تھا یہ کیا سوچ رہی ہے ! اس نے تیزی سے اپنا سر جھٹکا
“ارے کیسا قمیتی وقت قمیتی تو یہ وقت تھا جو میں نے آپ جے ساتھ سپینڈ کیا آتی رہیے گا کوئی باپندی نہیں ہے ۔”
“کتنے چالاک ہے آپ مجھے بلا کر گولف کھیلا کھیلا کر پیسے کماے گے بزنس کرنا کوئی آپ سے سیکھے ہاو ٹو ڈیل ود پیپل !۔”
وہ ہنسنے لگا
“اُف نہیں آپ فری ممبر ہیں اور اونر کئ دوست یعنی میری نیو فرینڈ اتنا بھی بُرا دوست نہیں ہوگا ۔”
وہ ایک دم اس کے اتنے فرینک ہونے پر صرف منہ ہی کھل سکی تھی
“مگر آپ نے کہا ہی نہیں مجھ سے دوستی کرو گی ۔”
وہ ہنس پڑا اور ہاتھ آگئے کیا
“فرینڈذ!۔”
وہ پہلے اس کے ہاتھوں کو دیکھتے رہی پھر اس کی آنکھوں کو پھر ہاتھ آگئے کر کے ہاتھ ملا لیا
***************
اس نے ایک بار پھر کال کی مگر وہ اُٹھا ہی نہیں رہا تھا اسے ہوا کیا ہے وہ کیا اس سے اسلیے نفرت کرنے لگا کیونکہ اس کا باپ فائیق ہے کیا پتا فائیق نہ ہی ہو
مگر وہ کیسے پتا لگائے گھر آکر نانو کو دیکھا تو وہ کمرے میں ہے موجود نماز پڑھ کر رورہی تھی گڑگڑا رہی تھی وہ سمجھ سکتی تھی وہ کس لیے اتنا رورہی ہیں
اس نے ان کو اکیلا چھوڑ کر یاد کیا انھوں نے اب تک کچھ نہیں کھایا ہوگا باہر بوندا باندی شروع ہوچکی تھی اس کا دل کررہا تھا وہ اسے میں بھیگ جاے کیونکہ اس کا جسم بہت زیادہ جل رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے آگ میں پھینک دیا ہو اس نے ڈوپٹہ اتار کر سائڈ پہ رکھا
اور نانو کے لیے ناشتہ بنانے لگی اور ساتھ میں دوبارہ فون اُٹھا کر اسے کال ملا رہی تھیں مگر وہ اٹھانے کا نام نہیں لے رہا تھا اس نے اپنے آنسو پونچھے جو بے اختیار نکل آئے تھے وہ اس سے ناراض ہوگیا تھا یا شاید نفرت کرنے لگا تھا اس لیے شاہد وہ اس کے چاچو کی ناجائز بیٹی تھی لیکن ابھی تھوڑی ہی کنفرم ہوا ہوسکتا ہے وہ بیٹی ہو کیا پتا ماما کی پہلے فائیق سے شادی ہوئی ہو یا پھر وہ ان کئ بیٹی ہی نہ ہوں بہت سے باتیں وہ سوچ رہی تھی اچانک اس کا فون بجا اور وہ خوشی سے بنا دیکھے اُٹھانے لگی
“زُلنین ! تم فون کیوں نہیں اُٹھا رہے تھے ۔”
“ہما کیسے ہو ؟ ۔”
ایک دم وجدان کی آواز سُن کر ہما ٹہر گئی اور اس کا دل بجھ گیا
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے زُلنین بھی ۔”
“نہیں وہ بزی ہیں اس لیے فون نہیں اُٹھا رہا تھا مجھے لگا اس کا فون ہوگا کیسے ہیں آپ ۔”
“میں خیریت سے ہو آپ سُنائیں کل یاد ہے آپ کی کلاسس سٹارٹ ہونے لگی ہیں ۔”
“کلاسس اتنی جلدی !۔”
“جی آپ کو یاد نہیں رہا ۔”
“پتا نہیں ٹینشن میں کچھ یاد ہی نہیں رہتا !۔”
“ارے اتنے سے عمر میں ٹینشن نہیں لینی چاہئے اور اگر ہے تو بلا جھجھک مجھے کہہ دیا کریں خیر آپ کے پاس چیزیں ہیں ؟۔”
“ابھی تو میں نے کوئی تیاری نہیں کی !۔”
“ٹھیک ہے ریڈی رہے میں آتا ہوں آپ کو لینے زُلنین تو ڈیوٹی پہ ہوگا میں فارغ ہوں ۔”
“مگر !۔۔۔”
لیکن وہ فون کاٹ چکا تھا اور وہ فون کو دیکھنے لگی تھی ایک بار پھر اس نے زُلنین کو کال ملانے کو سوچا کال لوگ میں زُلنین کا نام نیچے جبکہ وجدان کا نام اوپر تھا زُلنین کا نام نیچے جبکہ وجدان کا نام اوپر گھبڑا کر اس نے فون بند کردیا اور نانو کا ناشتہ بنانے لگی ۔
************
“آج کا دن کیسا رہا تمھارا !۔”
امی اس کی فرنچ ناٹ بنا رہی تھی اور وہ نیچے بیٹھی اپنی ناخنوں کو صاف کررہی تھی کیونکہ امی نے نماز پڑھنے کا حُکم دیا تھا اور اسے صاف کرنا ضروری تھا
“اچھا ! یعنی بہت اچھا بہت خوبصورت ہوٹل ہے ماما آپ دیکھے گئ تو لندن پیرس اور باقی سب ہوٹلز کو بھول جاے گی اور پھول دُنیا جہاں کے پھول اس ہوٹل میں پاے گے ہیں ۔”
“اچھا ! یہ تو اچھی بات ہے تمھیں مری پسند آگیا ۔”
“ممی کیا میں روز وہاں جاسکتی ہوں ۔”
“پاگل ہوں ہر ویکینڈ سوچا جاسکتا ہر روز جاکر کیا کروں گی ۔”
وہ اب اس کی ناٹ بنا چکی تھی تب ڈپٹ کر بولی
“نہیں میں یہ کہہ رہی ہو مجھے گولف سیکھنی ہے میں ایک گھنٹہ کھیل کر آجایا کروں گی ۔”
“لیکن وہ کافی دور ہے تمھارے بابا روز روز تو نہیں تمھیں لے کر جاسکتے ویسے بھی ان کی صحت کو بھی دیکھنا ہے ۔
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوے کہنے لگی اور سائڈ ٹیبل پہ پڑی تسبی اُٹھا لی شفق نے منہ بسور لیا
“جلدی سے صاف کروں نماز میں دیرئ اچھی بات نہیں ہے ۔”
وہ منہ بسور کر اُٹھ پڑی اسے لگا کوئ سایہ اس کے پاس سے گزرا ہے وہ رُک گئی اس نے پہلے لیفٹ سائڈ دیکھا اور پھر رائٹ پھر اپنا وہم سمجھ کر اوپر کئ طرف بڑھی
جبکہ فائیق سامنے آکر اسے اوپر جاتے ہوے دیکھنے لگا پتا نہیں اس میں کیا تھا جو اسے اس کی طرف مائل کررہا تھا اس کے بال اس کی اُٹھی ہوئی گردن یا اس کا انداز جسے فائیق نے پاگل کردیا وہ نانو کو دیکھنے لگا کو تسبی پڑھنے میں مصروف تھی اور پھر اس نے سڑھیوں کی طرف دیکھا اور اپنے قدم اوپر کی طرف بڑھاے
※※※※※※※※※※※※※
“تم فون کیوں نہیں اُٹھا رہے ؟۔”
“گھر پہ بھی نہیں ہو !۔”
“زُلنین پلیز جواب دوں میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے ۔”
“زُلنین ائیم سوری پلیز !۔”
“زُلنین میں تم سے بات نہیں کروں گی ۔”
“مجھے بتاو میری غلطی کیا ہے ؟ ۔”
“میں فائیق کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گی آئی پرامس ۔”
“زُلنین آئی لو یو !۔”
وہ آخری فقرہ لکھنا چاہتی تھی لیکن رُک گئی اور اس نے تھک کر فون بیڈ پہ پھینک دیا اور اپنے ڈریس کو دیکھنے لگی اس نے شاپنگ کرتے وقت شلوار قمیض کافی ساری خرید لے لی تھی اور وہ اس وقت بلیک قمیض اور ہری رنگ کی شلوار کے ساتھ پرنٹٹ ڈوپٹہ کو پن آپ کرنے لگی اور اپنے بالوں کو دیکھنے لگی کو کافی بڑی ہوگئے تھے اس کے تو بڑھتے ہی نہیں تھے لیکن جب سے یہاں آئی ایک مہینے کے اندر اس کے کندھے سے کافی نیچے اچکے تھے اور وہ برش اُٹھا کر اپنے بالوں کو سیدھے کرنے لگی اسے لگا اسے کوئی دیکھ رہا تھا اس نے آئینے میں دیکھا بلیک شلوار قمیض میں ملبوس زُلنین کھڑا تھا اور اس کی بلیو جینز آنکھیں چمک رہی تھی
“زُلنین !۔”
اس کا دل بے اختیار دھڑک اُٹھا وہ مڑی بھی نہیں بس اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے قریب آرہا تھا وہ اسے بتا نہیں سکتی تھی وہ اتنا اتنا خوبصورت لگ رہا تھا کے وہ اس کا دل جیسے باہر آجاے گا وہ چلتے ہوے اس کے اتنے قریب آگیا تھا کے ہما نے تیزی سے آنکھیں بند کر لی
‏You’re too much breath taking beautiful
کسی نے سرگوشی کی تھی
اس نے آنکھیں کھولی تو نمی چہرے سے پھسل کر نیچے زمین میں جزب ہوگئی
‏You are my flower that will never die
ایک اور نمی جو اب زمین کے بجاے زُلنین کے ہاتھوں کو جزب ہوگئی تھی
‏Your a colour of my life that will never fade
اب کی بار سسکیاں باہر نکلی کس نے اس کا چہرہ تھپکا تھا
ہما نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن وہ پکڑ ہی نہیں پائی
اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا وہ یہی تھا مگر نہیں تھا
‏Your a oxygen to me without you I’m nothing just a dead creature
وہ بولا تھا اور ہما نے سُنا تھا اب زُلنین جھکا تھا اور ہولے سے ہما کے پیشانی پہ سر ٹکرایا تھا
“میں تمھاری ساتھ ہی ہوں اور آخری دم تک رہوں گا ۔”
اور وہ غائب ہوگیا
ایک ہوا کی جھونکے کی طرح وہ اپنی پھوار چھوڑ کر گزر گیا
ایک موسقی کی طرح جو اس کے کانوں سے چھو کر اس کے دماغ پہ چھا گیا مگر غائب ہوگیا
ایک لمس کی طرح جو اپنا لمس چھوڑ کر چلا گیا
ایک سانس کی طرح جو اس کے جسم میں چھوڑ کر چلا گیا
وہ کہاں چلا گیا
وہ آخر کہاں چلا گیا
ہما نے آئینے میں اس کا عکس تلاش کرنا چاہا جہاں وہ کھڑا کالی شلوار قمیض میں نظر لگ تک جانے لگا خوبصورت لگ رہا تھا اس نے آئینے کو چھوا اور دل نے اس کو ہاں کرنے کو کہہ دیا وہی اس کا ماضی ہے وہی اس کا حال ہے وہی اس کا کل ہوگا دل اور دماغ نے یکجا ہوکر فیصلہ بلا آخر کردیا

آج اس کا لا سکول میں دوسرا دن اسے بہت بوریت ہورہی تھی فائیق سے اس دن کے بعد سے اس کی صرف ایک بار ملاقات ہوئی تھی اور وہ بھی بڑی ہی سرسری تھی فائیق نے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی جسے اس نے قبول کر لی تھی مگر سکول شروع ہونے پہ اسے جانے کا موقع نہ مل سکا تھا
“ارے شفق ! تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھی ہو ۔”
زرین چلتے ہوے اس کے پاس آئی شفق نے سر اُٹھایا اور مسکرائی
“آو ویسے ہی اِدھر پُرسکون جگہ بیٹھنے کا دل کررہا تھا ۔”
وہ بیگ میں کچھ چھپاتے ہوے بولی
“کیا چھپا رہی ہو ۔”
کچھ نہیں وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“یار شفو تم تو مجھے اپنا دوست ہی نہیں مانتی ۔”
وہ منہ بناتے ہوے بولی
“نہیں میں کچھ نہیں چھپا رہی سچ میں ایسے ببل گم کھا رہی تھی تم لو گی ۔”
وہ تیزی سے بولی
“اچھا !۔”
وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوے بولی
“اور کیسا لگ رہا پاکستان ہمارا پاکستان !۔”
“اچھا ہے ویسے زری تم نے بلیک روز کے ہوٹل کے بارے میں سُنا ہے ۔”
وہ ویسے ہی پوچھنا چارہی تھی کیونکہ زرین بھی مری اس کے گھر کے کچھ قریب رہتی تھی تبھی تو اس کی بنی تھی
“بلیک روز ہوٹل کو کون نہیں جانتا ! مجھے اس کا مالک زہر لگتا ہے ،کافی ہینڈسم ہے لیکن غرور اللہ مت پوچھو ۔”
“ہیں!! غرور اور فائیق زولفیقار میں ۔”
“ہاں وہ دور ایک علاقے میں رہتا ہے کیا نام اس محل نما گھر کا ہاں زولفیقار ہاوس !۔”
وہ اب نوٹس نکلاتے ہوے بولی
“اسی کے تو پاس میرا گھر ہے ۔”
زرین کا پین پکڑا ہوا ہاتھ تھم گیا اور اس نے حیرت سے سر اُٹھایا
“کیا ؟۔”
“ہاں وہ میرا نیبر ہے ، لیکن مجھے ابھی تک اس میں کوئی غرور نظر نہیں آیا اتنی سویٹ پرسنالٹی ہیں ان کی ، ائینڈ یو نو واٹ انھوں نے ہی مجھے ایک دن گولف سکھائی تھی ۔”
زرین کی مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی لیکن پھر بامشکل ہی مسکرائی تھی
“اچھا تم سے باتیں کرتا ہے وہ ۔”
“ہاں تھوڑی بہت ہوئی تھی مگر میں اپنے یونی کی چکر میں اس سے مل نہ سکی ۔”
“آہا ! ملاقاتیں بھی ہوتی ہے چکر کیا ہے میڈم ۔”
وہ شرارت سے بولی مگر چہرے کے تاثرات عجیب سے تھے
“نہیں ایسی بات نہیں وہ بس اچھے نیبر ہے داٹس اٹ ۔”
وہ گھورتے ہوے بولی وہ ہنس پڑی
“گاڈ شفق اتنے کھڑوس آدمی کو اچھے مت کہو ۔”
“تم بتاو تمھاری ملاقات کب ہوئی ان سے جو تم انھیں کھڑوس کہہ رہی ہو ۔”
اس کو عجیب لگا تھا فائیق کے بارے میں کھڑوس سُن کر ۔
“بات نہیں ہوئی نا اس لیے کھڑوس کہہ رہی ہوں ۔”
“اچھا تو یہ بات نہیں تم بات کرنا ان سے بہت نائس ہیں ۔”
“اچھا لیکن مجھے نہیں ملنا چھوڑو اسے یار مجھے دوسرے لیکچر کے نوٹس دینا میں لکھ نہیں پائی تھی اتنا تیز تیز بولتے ہیں سر عقیل ۔”
وہ سر ہلا کر بیگ کھولنے لگی
***************
“کافی اچھی لگ رہی ہو تم !۔”
وہ ڈرائیو کررہا تھا تو ہما کو مشرقی روپ میں دیکھتے ہوے بولا ہما کو اچھا نہیں لگا
“زلنین سے آپ کی ملاقات آخری بار کب ہوئی تھی ۔”
وہ انگلی مڑورتے ہوے بولی
“میں نے جب آپ کا فون بند کیا تو وہ میرے گھر نیچے موجود تھا امی سے باتیں کررہا تھا ، میں حیران ہوگیا پھر ہم دونوں باتیں کرنے لگے آپ کے بارے میں بات ہی نہ ہوسکی وہ ابھی کسی مشن کے لیے نکلا کیس بہت بھاری ملا ہے اور آپ کی نانو کے کیس کو بھی دیکھ رہے ہیں آپ کو تو پتا ہے ۔”
ایک دم وہ ٹہر گئی
“وجدان آپ سے کچھ پوچھنا تھا ۔”
“ہاں ہما پوچھو !۔”
“نانو کے کیس کے بارے میں کل میں نانو کی قبر میں گئی تھی تو وہاں پہ نہیں تھی اور ایک فقیر بابا تھے وہ کہہ رہے تھے وہ کھبی دفنائی نہیں گئی ۔”
“ہما وہ کھبی دفنائی ہی نہیں گئی ابھی بھی ان کا پوسٹ مارٹم کے لیے ایک ہوسپیٹل میں ان کی باڈی رکھی ہے زُلنین نے آپ کو بتایا نہیں ۔”
اس کا دل بیٹھ گیا تو وہ کون ہے جو اس کے گھر میں موجود ہے یہ کیا ہے اس نے پاگل ہوجانا ہے
اس نے ہمت کی زُلنین کو دوست یعنی وہ فائیق کو جانتا ہوگا
“آپ فائیق زولفیقار کو جانتے ہیں ۔”
اس نے ایک دم کہا
“کس کو ؟۔”
وہ چونکہ
“زُلنین کے چچا فائیق کے بارے میں ، دیکھے اگر آپ کچھ جانتے ہیں تو پلیز مجھے سب کچھ بتادیں آپ بہت بڑی نیکی کریں گے ۔”
“ہما آپ کس کی بات کررہی ہے مجھے نہیں پتا زُلنین کے چھوٹی سی فیملی تھی اس کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوگئ بس وہ اب اکیلے رہتا ہے ۔”
“نہیں اس کے کزنز بھی ہیں جزلان اور پتا نہیں دوسری کا کیا نام ہے ۔”
“ہاں اور وہ چلے بھی گئے آج رات ۔”
“اچھا زلنین نے واقعی آپ کو کچھ نہیں بتایا ۔”
“ہما کیا ہوا کوئی بات ہوئی ہے ۔”
“زُلنین مجھ سے بہت ساری چیزیں چھپا رہا ہے ۔”
وہ اب غصے سے بولی تھی
“ارے وہ تو آپ سے کچھ نہیں چھپاتا مجھے خود حیرانگی ہے وہ کیوں خاموش ہے ۔”
یہ مسٹری کب سلجھی کی آخر یہ سلجھنے کے بجاے الجھتی کیوں جارہی تھی
*************
“یہ ہما گھر پہ بھی نہیں ان سے پوچھا تو وہ کھانا بنا رہی تھی مجھے کہتی نا میں ہما کو جانتی ہو نہ مجھے ۔”
زُلنین جزلان کے سامنے بولا جزلان نے اسے کچھ ملا کر گلاس میں دیا
“یہ پیو اس سے شاہد جہاں وہ ہوگئ تم وہاں پہنچ جاو گے ۔”
“میں اس پر چلا اُٹھا تھا میرا دل تکلیف سے پاگل ہورہا ہے لیکن میں کیسے اسے بتا دیتا جس شخص کو وہ باپ کہہ رہی ہے اس نے میرے میری بابا اور میری ماما کو مار دیا اور وہ بھی اپنی محبت کو نہ حاصل ہونے کی وجہ سے مجھے یقین ہے وہ ہما کو بھی ورغلا رہے ہیں اور یہ نانو کو بھی اس نے کیڈنیپ کیا تھا اور یہ نانو کی شکل میں کسی اور کی باڈی دیں دی تھی اس شخص نے ۔”
“تمھیں زُلنین کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی یہ شاہد کوئی گڑبڑ ہو جبکہ وہ اصلی جو مر گئی ہیں ۔”
“نہیں وہ اصلی !!! میں آخری دفعہ اس کی باڈی کئ تصدیق کر کے آیا کے یہ واقعئ ان کی نہیں تھی اس دن کوریڈیو میں چلتے میرا ہاتھ بڑی زور سے چبا تھا جب ایک سٹریچر میرے پاس سے گزرا میں نے ہاتھوں کو دیکھا تو کچھ نہیں لگا تھا لیکن چبن بڑی شدید محسوس ہوئی تھی اس کے بعد سے میری طبیعت خراب کچھ تو کیا ہے انھیں اگر انھوں نے ہما کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی میں قتل جیسے گناہ کو کرنے میں زرا دیر نہیں لگاو گا ۔”
اس کے لہجے میں نفرت تھی جزلان کا دل بوجھل ہوگیا وہ اس کے پاس آیا
“زُلنین بڈی ! میرا دل ابھی تک کہتا ہے چاچو ایسے نہیں ہے ۔”
“تو پھر ان کے پاس جاو میرے پاس کیا کررہے ہو دفع ہوجاو ۔”
وہ بگڑ گیا
“اچھا پیو اسے ان کو چھوڑو اپنی محبوب کا سوچو ۔”
وہ اس کو بھلانے کے لیے کہہ رہا تھا جبکہ وہ سر جھٹک چکا تھا
***********
وہ بیٹھی میوزک سُن رہی تھی آنکھ بند کیے وہ کسی اور دُنیا میں تھی جب کسی کی گلا کھنکھارنے کی آواز آئی
اس کو اپنا وہم لگا لیکن جب گلا کھنکھارنے کا ولیوم کچھ زیادہ اونچا ہوگیا تو وہ چونکہ سامنے کھڑے فائیق زولفیقار کو دیکھ کر پہلے تو اس نے اپنا وہم سمجھا لیکن جب اس کی مسکراہٹ اور ہاتھ ہلانے پر جو اس کی حالت ہوئی کہ صرف وہی جانتی تھی
“آپ کیا کررہے ہیں ۔”
“بالکنی کافی اچھا ہے آپ کا کافئ کھلا کھلا سا سارے کمرے کا نظارہ نظر آتا ہے ۔”
وہ مزے سے بولا
“آہستہ بولے امی کو پتا چل گیا آپ کو ایسے نہیں آنا چاہئے تھا ۔”
وہ اس کو دیکھ کر دروازے کو دیکھنے لگی
“ارے آپ تو ایسے ڈر گئی ہے جیسے آپ کے سامنے کوئی جن کھڑا ہو ۔”
وہ بڑے آرام سے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا .
“آپ کسی جن سے کم نہیں ہے اُٹھے امی میرا اور آپ کا دونوں کا گلا دبا دیں گی ۔”
وہ ہنس پڑا
“ششش !!!”
“مس شفق میوزک کی آواز آرہی باہر آواز نہیں آئی گی اور میں ویسے ہی باتیں کرنے آیا ہوں ۔”
“مگر مجھے ابھی آپ سے بات نہیں کرنی ۔”
“ارے ہم سے کوئی گستاخی ہوگئی میڈم ! جو آپ ہم سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔”
وہ کتنی خوبصورت مسکان لیے بولا تھا کے شفق کا دل بے اختیار دھڑک اُٹھا تھا
“نہیں کوئی نہیں ہوئی پر میری مجبوری سمجھے نا ۔”
“میرے بھی دل کی مجبوری سمجھے نا اس کو روک دیجیے پھر میں نہیں آو گا اس ٹائیم !۔”
“مطلب آپ پھر آئے گئے ۔”
“اگر آپ ہمارے غریب خانے میں قدم نہیں رکھی گی تو پھر ہمیں آپ کے اس محل میں اپنے قدم جمانے ہوگے ۔”
“بہت اچھا جوک تھا میں آو گئ فائیق مگر امی مجھے ایسے نہیں آنے دیں گی ۔”
دل تو بے اختیار رضامند تھا مگر امی کی نظریں سامنے آجاتی تھی وہ سر جھٹکتے ہوئےبولی
“اچھا ٹھیک ہے ویسے تھوڑی دیر تو بیٹھنے دیں مجھے ۔”
“اُف !!۔”
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی جبکہ وہ ٹانگ پہ ٹانگ جماے آنکھوں میں دُنیا جہاں کی پُرشوخ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“سڈڈیز کیسی چل رہی ہیں ؟۔”
“اچھی اب چلے جاے !۔”
“اللہ اتنے پیار سے مت کہے کیونکہ میں پھر بھی نہیں جانے لگا ۔”
“افوہ !!۔”

وہ جزلان کے کمرے کے اندر داخل ہوا دیکھا وہ کچھ نوٹس بنا رہا تھا ساتھ میں پڑا پیتل کے کچھ ٹکڑے کے ساتھ سونے مخمل کے کپڑے سے وہ نکال کر احتیاط سے رکھ رہا تھا جو اس نے بات کی تھی وہ اب اس پر عمل بھی کررہا تھا چلو اچھا جتنا جلدی یہ کام ہوجائے اتنا ہی بہتر وہ بھی اپنے بہت سے سوالوں کے جواب چاہتا تھا وہ اس کو ڈسٹرب کرنے کے بجائے سیدھا کھڑکھی کی طرف آگیا اور چاند کو تلاش کرنے لگا مگر چاند بادلوں کی جھرمٹ میں کہی غائب ہوگیا تھا اسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا نظروں کو ہٹاتا وہ اب تیز تیزی لہراتے اپنے کھڑکھی کے قریب درخت کی پتوں کو دیکھنا لگا جو کچھ ٹوٹ کر شیشے کے ساتھ چپک گئی تھی وہ انگلی سے ان کو ہٹانے لگا اپنی طاقت سے باہر چپکے شیشے اس کی ہاتھوں سے پھسل کر باہر اُڑ کر گر چکی تھی ، جزلان اپنا کام کر کے اب ایک بڑا سا باول نکال رہا تھا اور سامنے ٹیبل پہ رکھتے ہوے ایک نظر اس کو دیکھا جو شیشے میں کہی گُم ہوا وا تھا
“کیا ہوا اتنے خاموش کیوں لگ رہے ہو ؟ نہ غصہ آرہا ہے تمھیں نہ ہی خوشی سے مسکرا رہے ہو اتنے سپاٹ زُلنین زلفیقار کو جچتا نہیں ہے ۔”
زُلنین جو کہی کھویا ہوا تھا اس کی بات پہ چونکہ گردن موڑتے ہوے اسے دیکھا جو اب اپنے کبرڈ سے کیمیکل کی بوتلیں نکال رہا تھا وہ پہلے اسے دیکھتا رہا پھر لمبی سانیسں کھنیچی اس سے کچھ آگ کے شعلے باہر آئے تھے ایسا بہت کم ہوتا تھا آدھے سے زیادہ وہ اپنا غصہ اور پریشانی باہر نکال دیتا تھا چونکہ آج ساری احساسات سرد تھے اسی باعث اس کی سانس لینے پر آگ باہر نکلی تھی زُلنین نے ہاتھ سے بلیز کو ختم کیا پھر گویا ہوا
“تمھیں تو پتا ہے غصہ مجھے ایک شخص کو دیکھ کر آتا اور خوش بھی ایک شخص کو دیکھ کر ہوتا ہوں اور وہ دونوں اس وقت میرے سامنے موجود نہیں ہے ایک تو اچھا ہے میرے سامنے نہیں ہے مگر دوسرے سے دوری عجیب سی حالت میں مبتلا کررہی ہے ۔”
“بس کچھ دن کی بات ہے رومیو !! تم پاسٹ میں جب چل کر سارے سوالوں کے جواب ڈھونڈ نکالو گے تو سب ٹھیک ہوجائیں گا ۔”
اس کے کہنے پر زُلنین رُک گیا یہ کیا کہہ رہا ہے
“پاسٹ ؟؟ یہ کیسے ہوسکتا تھا تم صبح تو کچھ اور کہہ رہے تھے ، تم کیا کرنے جارہے ہو دیکھو کوئی فضول حرکت مت کرنا ہم جنات ضرور ہیں مگر ہمارے ہاتھ میں یہ سب نہیں ہے اور اس دُنیا میں وقت کے آگئے یا پہلے جانا تو بالکل ناممکن سی بات ہے ۔”
وہ چلتے ہوے اس کے سامنے آیا جزلان نے سر اُٹھایا
“او تم سمجھ نہیں رہے یہ تو مجھے بھی پتا ہے کہ ہم وقت کے ساتھ کھیل نہیں سکتے میرے کہنے سے یہ مراد ہے یہ جو پوشن بناؤں گا یہ ایک شیشے پہ لگاوں گا اس کو ڈرائی ہونے میں کُل چوبیس گھنٹے لگیں گئے اور اس کے بعد تم اس کے اندر داخل ہونگے وہاں تین مزید دروازے پائے جائے جو تمھیں چُنا ہوگا اور یاد رہے ہر دروازہ معمل کے ٹکڑے کا بنا ہوگا پہلے دروازہ چُنے سے پہلے تم اس کے ٹکڑے ڈھونڈو گئے اور جب تم یہ مکمل کرلو گے تو وہ دروازہ کھل جائے گا اب آگئے بھی کافی پہیلی ہوگی جو تمھیں اس راز تک پہنچنے کے لیے الجھائی گی یاد رہے تم نے الجھنا ہرگز نہیں ہے اس میں کوئی بھی شخص تمھیں کسی طرح بھی بہکا سکتا ہے اور جب تم اپنی منزل میں کامیاب ہوگئے تم ایک راز کا پتا چل جائے گا پھر تم اپنی دُنیا میں واپس آجاو گے ۔”وہ کہتے ساتھ ہی کام پر لگ گیا جبکہ زُلنین لب دبائے اسے دیکھنے لگا
“صرف ایک راز کہ اتنے سارے سٹیپ !! اور اس کے بعد اگر مجھے باقی راز ڈھونڈنا ہو ۔”
“وہ بہت مشکل ہے اس کے لیے تمھیں دو سال انتظار کرنا ہوگا ۔”
“اتنا کیوں ؟؟ ۔”
“کیونکہ یہ جو شیشہ میں نے منگوایا ہے یہ میں نے کسی ٹوٹی ہوئی حویلی سے ڈھونڈا دوسرا تمھارا کام ختم ہونے کے بعد یہ بالکل ناکارہ ہوجائے گا ۔”
“مجھے کب تک راز پتا چلے گا ۔”
“یہ تم پر ہے تم اپنی عقل کے ساتھ چلو تو تمھیں راز تین گھنٹے کے اندر پتا چل جائے گا اگر مزید الجھتے رہو گے تو مہینے بھی لگ سکتے ہیں ۔”وہ اب پانی کو بوائل کررہا تھا
“اُف جزلان تم کوئی آسان رستہ نہیں ڈھونڈ سکتے تھے ۔”
وہ جنھجھلایا
“ہاں ہے نا مزید دماغ مت خراب کرو اس راز واز کے چکروں میں مت پڑو سیدھا اللہ اللہ کرو اور ہما بیگم سے شادی کرکے آرام اور پُرسکون زندگی گزارو !!۔”
اس نے اپنی چشمے کو اپنے ناک سے پھسلتا پاکر اوپر کیا جبکہ زُلنین کی اس بات پر گہری مسکراہٹ آگئی
“کاش !! مگر میں نے پروپوز کردیا وہ مان ہی نہیں رہی ۔”
ہما کا ذکر کرتے اچانک زُلنین کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی
“جس طریقے سے محترم جن صاحب آپ نے پروپوز کیا تھا اس سے تو وہ سو فیصد کیا دو سو فیصد بھی نہیں مانا تھا کچھ انسانوں سے بھی ہٹ کے والا کام کرتے بلکہ انسان نے بھی بڑے بڑے ترکیبیں سوچ کر لڑکیوں کو مٹھی میں لیا ہے ۔”
“میں ٹہرا سادہ آدمی میرا مطلب جن تو میرا پروپوزل بھی سادہ سا ہوگا اور ویسے بھی مجھے یہ چیزیں پسند نہیں ہے میں ہما کو دُنیاوی کھوکلی بے معانی چیزوں سے خوش کیوں کرو جبکہ میرا اس پر حق نہیں ہے جب میں اس کو اپنے حق میں لاؤں گا تو پھر بھرپور طریقے سے اپنی محبت کا اظہار کروں گا میں اپنی محبت کی پاکیزگی کسی بھی حال میں نہیں کھو سکتا ۔”
“اُف انسانوں کو تجھ سے کچھ سکھینا چاہیے تجھے تو فرشتہ بنا چاہیے تھا غلطی سے جن بن گیا ۔”
جزلان اس کی بات پر متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکا تھا
“تم جب بھی بولتے ہو جزلان ہمیشہ فضول بولتے ہو اللہ کے کاموں میں سوال نہیں اُٹھانا چاہیے ۔”
“بس کردیں میرے بھائی تو ہر وقت مجھے شرمندہ کرتا ہم سب جن اور انسان تو ناموں کے مسلمان ہی رہ گئے ہے ۔”
“بس بھی کرو اور کام پہ لگو !!۔”
وہ اب چل کر صوفے پہ بیٹھ گیا اور گھڑی کو دیکھنے لگا جہاں رات کے آٹھ بج رہے تھے
“پتا نہیں کیا کررہی ہوگی ، کھانا کھایا بھی ہوگا یا نانو کی پریشانی میں سب کچھ بھول گئی ہوگی ۔”
اچانک خیال اسی دُشمن جان کا آیا اس پر وہ چوبیس گھنٹے نظر بھی نہیں رکھ سکا ایک تو کچھ پتا نہیں لگ رہا تھا اپنی کمزوری کے باعث دوسرا ، وہ اپنے دل کو قابو کرنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اس کے اثرات ہما پر پڑے !! بے چینی سے پہلو بدلنے لگا کیا وہ اس کے گھر جائے یا نہیں خود سے سوال کرتا جزلان کو وہ پاگل پلس دیوانہ لگا تھا وہ زُلنین کی ہر رگ سے واقف تھا مسکراتے ہوے وہ پیتل کا ٹکڑا اُٹھا کر گرم پانی میں ڈالنے لگا
※※※※※※※※※※ black rose episode 8
وہ اپنی سوٹی کی مدد سے چلتے ہوے قبرستان کے اندر داخل ہوے وہ ہر قبر کو دیکھتے ہوے لبوں سے ان کی لیے فاتحہ پڑھنے لگے ان کی نظریں اسی کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ کہی بھی نہیں نظر آرہا تھا ایسے کیسے ہوسکتا ہے وہ تو اس کی خشبو سے پہچان لیتے تھے وہ یہاں موجود ہے مگر اس کی خشبو اس کی طرح جیسے مردہ ہوگئی تھی وہ مرا نہیں تھا مگر جب انسان کے اندر موجود دل مردہ ہوجائے تو وہ ایک زندہ لاش کی طرح ہوتا ہے اور وہ تو لاش بھی نہیں تھا لاش تو انسانوں کی ہوتی ایسا بدقسمت بیٹا تھا ان کا جو آگ سے پیدا ہوا تھا اور آگ میں ہی فنا ہوجانا تھا ۔ چل کر بلاآخر جب وہ شفق کے قبر کے قریب پہنچے تو رُک گئے جہاں تک ان کو جو منظر دکھایا تھا وہاں برف سے ڈھکی قبر کے سوا کچھ نہیں تھا مگر یہاں سے برف ہٹا دیں گئی تھی اور ہر قسم کے پھول بکھیر گئے تھے اور ان کا بیٹا اس وقت یہاں موجود نہیں تھا وہ اس وقت شفق کے لیے نئے پھول لینے گیا تھا اور وہ اب خود قبرستان میں داخل ہوا تھا تو اس کو اپنے بابا کی آمد کا گمان ہوا تھا جلدی سے پہنچ کر اس طرف آیا تو زلفیقار صاحب کو دیکھ کر ٹہر گیا وہ بے یقینی سے ان کی پُشت کو دیکھنے لگا پھر اس کی لبوں سے آواز نکلی
“بابا !!! ۔”
زلفیقار صاحب کی نظریں کو شفق کی قبر کی طرف تھی بے اختیار مڑتی اپنے اجڑے ہوے بیٹے کی طرف گئی تو وہ جھٹکا کھا کر پیچھے ہوئے ان کا دل جیسے کٹ کر رہ گیا تھا فائیق فائیق ایسا تو نہیں تھا
“فائیق ! یہ تم ہو !! ۔”
فائیق نے ان کے کہنے پر فوراً نظریں چڑائی اور اپنے ہاتھوں میں موجود سفید لیلز کو بڑھ کر شفق کی قبر پر رکھا وہ اس کی حرکت کو دیکھ رہے تھے وہ پھر اسے دیکھ رہے تھے
انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے اسے آخر اس ٹوٹ کر محبت کرنے والے عاشق کو کیا کہہ سکتے تھے
“فائیق !! ۔”
“بابا پلیز ! یہاں سے چلے جائے میں نہیں چاہتا کہ اب میری مزید بے بسی دیکھیں آپ سے زیادہ مجھے دُکھ ہوگا ۔”
وہ کرب سے بولا تھا
“فائیق تم اس لڑکی سے چوبیس سال دور رہے تھے اس کے دُنیا سے جانے پر ایسی حالت کیوں کردی زیادہ دُکھ تو اس کی بیٹی اور ماں کو ہونا چاہیے تھا جن کے ساتھ اس اپنی زندگی بتائی مگر ۔۔۔۔
“بابا اسی لیے تو میں جی رہا تھا خود کو نارمل رکھ لیا وہ جدھر بھی ہے اس دُنیا میں تو ہے خوش تو ہے اپنی زندگی پُرسکون گزرا رہی ہے مگر اب بابا وہ یہ دُنیا چھوڑ چکی ہے کوئی اسے یاد نہیں کرتا ہوگا میں جانتا ہوں سب اس کے جانے کے بعد بھول گئے ہونگے اسے اور یہ بات شفق کو تکلیف دیں رہی ہوگی میں اس کی تکلیف دور کرنے کی خاطر اس کے ساتھ یہاں رہنا چاہتا ہوں اس کو تسلی دینا چاہتا ہوں دوسرا بابا اندر اندھیرا بھی تو ہے وہ ڈرتی ہوگی آپ کو تو پتا وہ ہمیشہ اندھیرے سے ڈرتی چیخنے لگ جاتی سانسیں اُکھڑنے لگتی تھی اور جب میں ہوتا تھا تو کہتی تھی فائیق جب کھبی اندھیرا ہو تو ہمیشہ میں اس کے ساتھ رہو تاکہ اس کو ڈر دور ہو جائے ، اس کا دل مطمن ہوجائے اس کے دل کی خاطر مجھے یہاں رہنا ہوگا بابا میں اس کو اندھیرے میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا میں نے اتنی لمبی بات اس لیے کی کہ آپ بغیر کسی بعث کے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ۔”
وہ اپنی بات کہہ کر وہاں تھوڑے سے فاصلے پہ بیٹھ گیا جبکہ زلفیقار صاحب کی آنکھیں سرد نیلی کے بجائے آگ رنگ کی ہوگی وہ اپنے بیٹے کو ایسے نہیں دیکھ سکتے
“فائیق میں ایک لفظ نہیں سُنوں گا فوراً اُٹھو اور میرے ساتھ پاکستان چلو !! ۔”
وہ خاموش رہ کر اب ان کو ایسے دیکھنے لگا جیسے اپنی اتنی لمبی بات پر کہنے کا کوئی اثر نہیں ہوا
“دیکھو فائیق اس کا وقت تھا وہ چلی گئی ہم موجودہ لوگ کی فکر ۔”
“تو میں اس کے مرنے پر رو تھوڑی رہا ہوں بس اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں آپ کی وجہ سے اس عورت کی وجہ سے میں نے اپنے دل کو ماردیا اپنی ساری خواہشوں کو جلا دیا اپنے آپ کو مردہ تصور کر کے ایک مضنوعی اور بے معانی زندگی گزارنے لگا آپ کی خاطر
اور آپ کہہ رہے آپ کی فکر کیا آپ کی فکر بابا !! ۔”
وہ دھاڑا تھا قبرستان کا سکوت اس کے دھاڑ نے پہ جیسے ٹوٹ گیا تھا پرندے درختوں سے اُڑنے لگے تھے پتے بھی اس کی درد پہ جیسے کانپ اُٹھی تھی ذلفیقار صاحب اسے دیکھتے رہے پھر بولے
“تم مر جاتے فائیق یا پھر اس کالے جادو کا حصہ بن جاتے ۔”
انھوں نے اس کی دھاڑ کی پروا کیے بنا دھیمی آواز میں کہا وہ اپنے غصہ کے جلال سے بے حد مشہور تھے مگر اب چونکہ بڑھاپا بھی آگیا اور اپنے بیٹے کی یہ حالت ان کو نرم کررہی تھی
“مر ہی گیا تھا بابا شفق سے دور ہونے کے بعد میں کون زندہ تھا یہ آپ کو ابھی بیٹھا کیا میں زندہ لگ رہا ہوں سوچے بابا بیس سال پہلے والے فائیق کو دیکھیں اور اب کے فائیق کو دیکھیں پھر مجھے بتائیں گا پلیز بابا چلے جائے میرے اوپر فاتحہ پڑھ کر مجھے مرا ہوا تصور کر کے یہاں سے چلے جائے ۔”
“فائیق !!! ۔”
اب کی وہ آونچی آواز میں دھاڑے
“بابا ۔”
“بس فائیق تم نے ہمیشہ مجھے تکلیف دیں ہے اور آج بھی دے رہے ہو تم میرے سب سے لاڈلے بیٹے تھے اور تم میری لاڈ کا بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہو مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمھارے پیر پکڑ لوں اس لیے فوراً چلو میرے ساتھ اگر تمھارے دل میں زرا سے بھی باپ کے لیے محبت ہے ۔”
فائیق نے ایک دم سر اُٹھایا اس کی آنکھیں آگ رنگ ہوگی مٹھیوں کو سختی سے دبائے وہ خود کو اس وقت بے بس ترین شخص محسوس کررہا تھا
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••• black rose episode 8
وہ اپنے کمرے سے باہر نکل کر نیچے آنے لگی تھی جب رُک گئی اس نے دیکھا نانو کے کمرے کا دروازہ فوراً کھلا تھا اور وہ باہر نکل کر اِدھر اُدھر گھر کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی ہما ایک قدم پیچھے ہوئی تاکہ وہ اسے دیکھ نہ سکے وہ اب نے پر غور کررہی تھی جو دیوار میں موجود تصویر کو بار بار چھو کر کچھ بڑبڑا رہی تھی ان کی آنکھوں میں عجیب سی وحشت ہما کو نظر آئی تھی وہ اب آگئے بڑھ کر مزید چیزوں کو ہاتھ لگانے لگی چلتے چلتے وہ ہما کی نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی ہما ان کو غور سے دیکھتی رہی کہ اچانک اس کا فون بز ہوا اس نے دیکھا وجدان کا میسج آیا تھا
“ہما سوری یار میں زرا کام میں بزی ہوگیا ہوں اگر تم مزید دو گھنٹے انتظار کرسکتی ہو تو میں پھر لینے اجاوں گا رئیلی سوری ہما !!۔”
اس کا میسج پڑھتی ہی ہما نے فوراً رپلائی میں کوئی بات نہیں لکھا وہ ویٹ کر لے گی
پھر وہ سڑھیوں سے اُترنے لگی تو اسے اپنی قدموں کے ساتھ کسی اور کے بھی قدم محسوس ہوے تھے وہ رُک کر ریلنگ کو تھامتے ہوے سیڑھی کو زور سے پاوں مارنے لگی تو اس کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں آئی اس نے دوبارہ زور سے قدم رکھا تو اسے محسوس ہوا دو نہیں بلکہ تین آوازیں تھی وہ ڈر گئی پھر جلدی سے سر جھٹکتے ہوے خود کلامی سے بولی
“وہم ہما ہمیشہ کی طرح وہم !! زُلنین کو کال ملاؤں !! ۔”
اس کو ایک دم وہم سے لے کر زُلنین کا خیال آیا ابھی تو وہ اس کو سوچ رہی تھی ابھی تو وہ اس کے سامنے تھا مگر جب تک وہ فون نہیں اُٹھائے گا ہما کو چین نہیں ملنا تھا وہ اس کے پاس جانے کا سوچتے ہوے چلنے لگی جب اسے دوبارہ قدموں کی چاب ڈبل سُنائی دی اُف !!! وہ اپنے ساتھ گزرتے ہوے سرد ہوا کو اگنور کرتی نیچے اُتری ورنہ اگر زرا دیر ہوتی تو اسے گمان ہوتا کہ یہاں کوئی ہے وہ پہلے نانو کو دیکھنے کے لیے دائے طرف جانے لگی جب اچانک سی کسی سسکتی ہوئی آواز پر رُک سی گئی یہ کیا ؟؟؟ پھر سے اس نے اپنے بائے جانب دیکھا تو یہ آواز ڈرائینگ روم سے آرہی تھی کوئی سسک سسک کر تڑپتے ہوے رورہا تھا یہ کون تھا جس کی آواز بے حد ملتی تھی اس کی نظریں اچانک ہی فائیق زلفیقار کی پینٹنگ کی طرف گئی تھی نجانے کیوں وہ اس سسکتی ہوئی آواز نے اسے اس پینٹنگ کو دیکھنے پر مجبور کیا تھا ہاتھ بڑھا کر اس نے اپنے سامنے سے آتی ہوہی آواز کو جھٹکنا چاہا کہ وہ اس وقت کوئی مصیبت نہیں دیکھنا چاہتی تھی اس وقت وہ زہنی اور جسمانی طور ہئ تھکی ہوئی تھی وہ ان آنکھوں کو دیکھ رہی تھی جو بہت ہی خوبصورت تھی بہت ہی انھوکی یہ کسی عام شخص کی ہو ہی نہیں سکتی تھی
“ماما نے لگتا ہے آپ کی آنکھوں سے ہپنوٹایز ہوکر آپ سے محبت کی ہے کیونکہ آپ کی آنکھیں بہت پاورفل دیکھتی ہیں پینٹنگ میں ہی اتنی طاقت ہے تو اصل میں کیا حال ہوا ہوگا آپ کون ہے آپ کیا ہے مجھے آپ سے ملنا ہے مجھے آپ اپنے دل کے بے حد قریب محسوس ہوتے ہیں مگر جو میرا قلب ہے آپ کا بھتیجا زُلنین وہ آپ سے نفرت کیوں کرتا میں جانتی ہوں سارے سوالوں کے جواب آپ کے پاس ہیں آپ پلیز جدھر بھی کہی ہیں پلیز آجائے ۔”
نمی اچانک ہما کی آنکھوں میں آگئیں تھی جسے اس نے ان کی پینٹنگ رکھ کر جلدی سے صاف کیا تھا آوازیں پر غور کیا تھا تو وہ رُک گئی تھی ہاں اس کو اپنے زہن کو ان کی آوازوں سے خود کو دور کرنا ہوگا یہ جو کوئی بھی ہے اس کے زہن سے کھیل رہا ہے اور وہ اس کے بہکاوے میں نہیں آئی تھی کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا وہ تیزی سے مڑ کر پیچھے ہوئی تھی دیکھا تو نانو اسے اور پھر سامنے پڑی پیٹنگ کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی ہما بھی کھبی انھیں پھر سامنے موجود اس شخص کی تصویر دیکھنے لگی
•••••••••••••••••••• black rose episode 8

وہ اسی کی تصویر دیکھ رہی تھی جب نظر اچانک ہما پر پڑی تو انھوں نے اپنے حیرت زدہ چہرے کو فوراً سپاٹ کر لیا
“آپ اُٹھ گئی کیا کررہی تھی ؟۔”
ہما کو کچھ تو کہنا تھا اس لیے یہ کہہ اُٹھی نانو نے اسے دیکھا 
“ہاں اُٹھ گئی تھی ، تم یہاں کیا کررہی ہو ؟ ۔”
ان کے عجیب سے سوال نے ہما کو گہرا سانس لینے پر مجبور کیا تھا وہ سمجھ سکتی تھی
“میں اِدھر ہی رہتی ہوں آپ کو یاد ہو آپ نے کچھ کھایا یا میں آپ کے لیے کچھ بناو !!۔”
وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“شفق کا کچھ پتا چلا اور یہ تصویر تمھیں کہاں سے ملی ؟۔”
وہ اشارہ کرتے ہوے بولی ہما نے مڑ کر دیکھا پھر انھیں پوچھا
“آپ کس تصویر کی بات کررہی ہیں ۔”
وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ فائیق کئ تصویر کی طرف اشارہ کررہی ہے مگر اس نے سوال ایسے کیا تھا کہ دیوار میں موجود باقیوں کی تصویر کا پوچھ رہی ہو
“یہ جو نیچے ! جس سے تم شاہد بات بھی کررہی تھی یہ کہاں سے آئی کیا وہ لایا !!۔”
ان کے لہجے میں انجانا سا ڈر آگیا تھا کہ ہما چونک پڑی
“یہ کون ہے ؟ آپ مجھے ان کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہیں ۔”ہما نے ان کے قریب آکر ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“یہی تو ہے جس کی وجہ سے میری بیٹی مجھے چھوڑ گئی اس شخص کی وجہ سے میری بیٹی مجھ سے نفرت کرنے لگی ۔”
ان کی آنکھوں میں یہ بات کہتے ہوے اچانک نمی آگئی
“ان کا نام فائیق ہے ؟ ۔”
ہما جانتی تھی مگر لہجے میں حیرت ظاہر کرتے ہوے بولی
“ہاں پر ایک عجیب بات ہے ۔”
وہ اپنی نمی صاف کرنے لگی پھر اس تصویر کو حیرت سے دیکھتے اسے بولی تھی
“یہ پینٹنگ میں نے شفق کے سامنے جلائی تھی پتا نہیں کیسے یہاں تمھارے ہاتھوں آگئی تمھیں کہاں سے ملی بیٹا !۔”
ہما کا منہ کھل گیا اسے اتنے راز تلاش کرنے میں اتنی دقعت کرنے کی کیا تُک جب سب کچھ ان سے پتا لگ سکتا تھا
“آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ کیا ہوا تھا ؟ ۔”
انھوں نے اس کے کہنے پر سر اُٹھایا
“کیا ؟۔”
“دیکھیں اگر آپ مجھے ساری حقیقتوں سے آگاہ کردیں گئیں تو مجھے آپ کی بیٹی ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی ۔”
وہ ایک دم رُک سی گئی پھر اس کو دیکھتے ہوے مڑ پڑی ہما کو حیرانگی ہوی وہ ان کے پیچھے آئی
“نہیں آپ بتائیں نا ایسے کیسے آپ کی بیٹی کو ڈھونڈ سکتی ہوں جب تک مجھ .”
“کیا جانا چاہتی ہو ۔”
وہ اب چلتے ہوے کھڑکھی کے پاس آگئیں !وہ بھی ان کے پیچھے آئی تھی
“وہ سب کچھ ایک ایک بات ، ماما کی محبت ، شادی ، ریحان علی آپ کی فائیق کے لیے حقارت !۔”
وہ بولنے لگی جبکہ وہ ایک دم سے خاموشی چھا گئی
وہ منتظر تھی کہ وہ آگئے سے کچھ کہے گی مگر وہاں تو مکمل خاموشی تھی
“آپ چُپ کیوں ہوگی آپ کچھ بتانے والی تھی ؟۔”
ہما کو ان کی اتنی چُپ زیادہ ہضم نہیں ہوہی
“مجھے سمجھ نہیں آرہی بلکہ مجھے کچھ یاد بھی نہیں ہے کہ تمھیں کیسے بتاو ۔”
ان کے لہجے میں عجیب سی بے بسی ہما نے محسوس کی تھی شاہد کچھ تھا جو اسے چھپایا جارہا تھا یا تو وہ مجبوری تھی یا بے بسی مگر ہما انھیں مزید بات کرنے پر پُش نہیں کرسکتی وقت لگتا اور ہر بات جانے میں وقت لگے گا کیا ہوا اتنا کافی ہے کہ فائیق زولفیقار کا اس کی ماما سے تعلق تھا اور نانو یہ نہیں چاہتی تھی زُلنین کے چاچو ہیں اب جو کچھ وہ جان سکتی ہے تو صرف زُلنین سے مگر وہ کہاں غائب ہوگیا اس کا سچا اور خالص دوست کدھر غائب ہوگیا کیا وہ اس کے گھر جاکر دیکھیں ہاں جب تک وجدان نہیں آجاتا وہ اس کے پاس جانا چاہیے گی وہ ضرور گھر پہ ہوگا ہاں وہ جائے گی اس سے پوچھی گی اسے اپنے دل کا حال بتائی گی اور وہ شادی کے لیے راضی بھی ہوجائے گی ہاں وہ کر لی وہ تنہا زندگی ایسے نہیں گزرا سکتی تھی
••••••••••••••• black rose episode 8
“کیا ہوا انکل ؟ ۔”
ایک دم گاڑی جھٹکے سے رُکی تھی وہ اس وقت یونی کے لیے نکلی تھی جب راستے میں اچانک کار رُک گئی تھی اور گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی تھی ڈرایور نے ایک منٹ کہہ کر دروازہ کھول کر باہر چلا گیا جب وہ بونٹ بند کر دوبارہ اندر آیا تو شفق نے نوٹس سائڈ پہ رکھ کر ان سے پوچھا
“میم پتا نہیں کیا ہوا ہے مگر گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی ۔”
“او ہو میں اب یونی کیسے جاوں گی ۔”
وہ خود سے ہم کلام ہوئی تھی
“آپ ایسا کریں ایک بار ٹرائی تو کریں میرا آج پہلی پرسنٹیشن ہے میرا جانا بہت ضروری ہے ۔”
“اچھا میم میں ٹرائی کرتا اگر نہیں ہوسکا تو ٹیکسی کا انتظام کرتا ہوں ۔”
وہ اس کے کہنے پر کار کو تین بات سٹارٹ کر چکا تھا مگر کوئی فائدہ نہیں تھا پھر شفق نے جلدی سے اسے ڈھونڈ لانے کو مگر اس انجان ، ویران علاقے میں بہت ناممکن سی بات تھی کہ ٹیکسی مل جاتی تیزی سے فائیق زولفیقار کی مرسیڈیز اس کے سامنے سے گزری تھی اور گاڑی ایک دم رُک گئی جیسے اس کسی کا گمان ہوا تھا وہ ریورس کرتا ایک دم کار پیچھے لے کر گیا تو اس نے دیکھا یہ کار شفق کی تھی اور شیشے نیچے ہوے وہ پریشان چہرے لیے اپنے کلائی میں موجود گھڑی کو دیکھ رہی تھی
“شفق !!۔”
کسی کی بے پناہ خوبصورت آواز سُنتے ہی شفق چونکہ پھر اس نے گردن موڑ کر دیکھا نیوی بلیو سوٹ میں گلاسس آنکھوں سے اُٹھاتا اپنی گریش اور ایش آنکھوں میں دلکش چہرہ لیے فائیق اسے دیکھ رہا تھا
“آپ ! ۔”
وہ اس کی خوبصورتی میں جیسے کھو سی گئی تھی کوئی اتنا بھی خوبصورت ہوسکتا ہے کیا ؟ پھر جب ہوش آیا تو زبان سے بس یہی کہہ پائے تھے
“آپ یہاں کیا کررہی ہیں آپ کو تو اس وقت یونی میں نہیں ہونا تھا ۔”
وہ بازو دوسری سیٹ پہ رکھتا تھوڑا سا آگئے ہوکر بولا
شفق پہلے دوسری طرف دیکھنے لگی شاہد انکل کو ٹیکسی مل گئی ہو پھر مایوسی سے گردن موڑ کر ایک بار پھر اسے دیکھا
“وہ میری کار خراب ہوگئی ہے اور نو بجے میری پرسینٹشن ہے انکل گئے ہیں ٹیکسی لینے مگر مجھے لگ رہا میں لیٹ ہورہی ہو ۔”
وہ بہت پریشان لگ رہی تھی اور فائیق سے اس کی پریشانی دیکھی نہیں گئی
“ارے اس وقت تو یہاں ٹیکسی ملنے سے رہی خوامخواہ وقت ضائع ہوگا ایسا کریں میرے ساتھ چلے میں شہر جارہا ہوں آپ کو ڈراپ بھی کردوں گا ۔”
وہ اس کے کہنے پر ایک منٹ رُک گئی پھر جھجھک کر بولی
“میں ایسے کیسے ۔۔”
وہ کھل کر اس کی جھجھک سمجھ کر مسکرایا تھا
“فکر نہ کریں اُٹھا کر نہیں لے کر جارہا ہے نیبر ہوں اپنے حقوق ادا کررہا ہوں بھروسہ رکھے اور یار دوست ہو تم میری ۔”
وہ آپ سے سیدھا تم پر آگیا تھا وہ اک دم سپٹا گئی
“یار آجاو دیر ہوجائے گی اینڈ پہ تمھیں رو گی ۔”
مگر وہ انکل
“انکل کو چٹ میں لکھ دو کہ تمھیں راستے میں دوست مل گئی ان کے ساتھ چلی گئی تھی تم اس طرح انھیں اور تمھارے گھر والوں کو بھی پریشانی نہیں ہوگی ۔”
وہ اس کی پریشانی کو دور کر چکا تھا اور وہ بھی سوچ رہی تھی جانے میں کیا حرج ہے ایک تو دیر ہورہی ہے اوپر سے اس کے سنگ دل میں اک عجیب انھوکی خواہش اُٹھی وہ اس کی بات مان کر نوٹ پہ لکھ کر سامنے والی سیٹ پہ رکھتے ہوے کار سے باہر نکلی اور چل کر فرنٹ سیٹ پہ آیا جو فائیق نے کھول دیا تھا
پہلے تو وہ جھجھک رہی تھی مگر اس کے چہرے پہ نرم تاثر دیکھ کر خود کو مطمن کیا مگر دل میں اب بھی چھوٹا سا گلٹ تھا امی کیا سوچتی ہونگی ؟
•••••••••••••••••••••• black rose episode 8
وہ ان کو کھانا کا انتظام کر کے گھر سے باہر نکل پڑی تھی بارش ہونے کا امکان تھا کیونکہ بادل گرج رہے تھے اور تیز ہوائیں چل رہی تھی وہ اپنے گرد چادر سختی سے لپیٹے ان راستوں پر چل پڑی جس پر چلنے کے لیے وہ بنی تھی اس نے فون نکال کر ایک بار پھر زُلنین کو کال ملانے کی ایک اور کوشش کی مگر اس کا فون بند جارہا تھا اس نے ہمت نا ہارتے ہوے ملانے لگی اور تیزی سے قدم بڑھاتے سڑھیوں کے بجائے ڈرایو وے کی طرف بڑھی ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور فون کے لائٹ کے سہارے تیز ہوائوں کو پاڑ کرتی زولفیقار ہاوس کے قریب آرہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہوائیں اسے یہاں آنے کی اجازت نہیں دیں رہی تھی وہ بار بار اسے یہاں سے دور کرنی کی کوشش کررہی تھی مگر اس پر تو جیسے ضد سوار ہوگئی تھی اس نے ہر ممکن کوشش کرنی تھی کہ وہ کسی بھی حال میں اُدھر پہنچے اور واقعی وہ اپنی منزل کے قریب تیز تیز بھاری قدم اُٹھاتی قریب آتی جارہی تھی اس نے اپنی اُڑتی چادر کو سختی سے تھاما
“زُلنین پلیز تم گھر پہ ہونا پلیز میں مزید نہیں رہ سکتی دو دن کی دوری بہت مشکل تھی میرے لیے میں تمھیں سب بتانا چاہتی ہو اپنے دل تمھارے سامنے کھولنے والی ہوں اس لیے پلیز تم موجود ہونا اپنی ہما کی خاطر تمھارا ہونا بے حد ضروری ہے ۔”
خود سے کہتی وہ اس کے گیٹ کے قریب آچُکی تھی اور اب وہ بڑھ کر اس بند گیٹ پہ بیل بجانے لگی اور اس کی منتظر تھی کہ وہ آئے گا وہ ضرور آئے گا
••••••••••••••••••••••

Samreen Shah Novels

black rose episode 8

Related posts

Leave a Comment